Written by prs.adminOctober 31, 2013
Turing Off the Lights on Traditional Burmese Lanterns – روایتی برمی لالٹینیں
Asia Calling | ایشیا کالنگ Article
اکتوبر کے اختتام میں برما بھر میں بیشتر گھر بدھ تہوار کے تحت لالٹینوں سے سجائے جاتے ہیں، یہ لالٹینیں نومبر کے وسط تک روشنیوں کے تہوار تک جلائی جاتی ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
ہٹن شن گزشتہ چالیس سال سے لالٹینیں بنارہے ہیں، ہر سال بدھ سال کے اختتام پر ملک بھر میں یہ لالٹینیں فروخت کیلئے پیش کردی جاتی ہیں، مگر رواں برس مانگ میں ڈرامائی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ہٹن شن کا کہنا ہے کہ اب لوگ غیرملکی ساختہ لالٹینوں کو زیادہ ترجیح دینے لگے ہیں۔
شن “ہم کاغذ سے لالٹینیں تیار کرتے ہیں، مگر غیرملکی لالٹینیں پلاسٹک سے بنائی جاتی ہیں، اب بچے ہماری تیار کردہ مصنوعات کو پسند نہیں کرتے بلکہ انہیں چینی لالٹینیوں میں زیادہ دلچسپی ہے، گزشتہ برس تو یہاں ایسی لالٹینیں بھی فروخت کیلئے پیش کی گئیں جو اینگری برڈ کے ڈیزائن کی تھیں”۔
ینگون لینٹرن مارکیٹ میں چینی لالٹینیں گزشتہ تین یا چار برس سے فروخت ہورہی ہیں، یہ زیادہ مضبوط اور واٹر پروف ہوتی ہیں۔مینٹ کھن ایک دکاندار ہیں۔
مینٹ”چینی ساختہ لالٹینیں سستی، زیادہ خوبصورت تو ہوتی ہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ انہیں فروخت کرنا بھی آسان ہوتا ہے۔ بچے اور بڑے انہیں پسند کرتے ہیں، لوگ ان چینی ساختہ لالٹینیوں کو گھروں کو سجانے کیلئے استعمال کرتے ہیں”۔
روایتی لالٹینیں بنانے کیلئے کافی محنت کرنا پڑتی ہے، ہٹن شن پہلے بانسوں کو ہموار کرتے ہیں اور پھر انہیں لالٹین کی شکل دیتے ہیں، اس کے بعد وہ انہیں پر چکنا کاغذ چڑھا کر مختلف ڈیزائن بناتے ہیں۔ یہ ایک طویل اور پیچیدہ طریقہ کار ہے اور خرچہ بھی ہوتا ہے، اس کے علاوہ یہ لالٹینیں خراب بھی جلد ہوجاتی ہیں۔
مینٹ”برمی لالٹینیں بانسوں سے تیار کی جاتی ہیں، مگر کیڑے انہیں تباہ کردیتے ہیں اور وہ زیادہ نہیں چلتیں”۔
مگر ہٹن شن کا کہنا ہے کہ روایتی لالٹینیں تیار کرنا اب انکا پیشہ نہیں بلکہ شوق بن چکا ہے۔
شن “میں اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا”۔
مگر غیرملکی لالٹینیوں کی بھرمار کو دیکھتے ہوئے خطرہ ہے کہ روایتی لالٹینیں تیار کرنے کا فن دم نہ توڑ جائے۔
You may also like
Archives
- March 2024
- February 2024
- January 2024
- September 2023
- July 2023
- March 2023
- February 2023
- January 2023
- April 2022
- March 2022
- February 2022
- September 2021
- August 2021
- July 2021
- April 2021
- February 2021
- June 2020
- May 2020
- April 2020
- March 2020
- February 2020
- December 2019
- October 2019
- September 2019
- August 2019
- July 2019
- May 2019
- April 2019
- March 2019
- February 2019
- January 2019
- December 2018
- November 2018
- October 2018
- September 2018
- August 2018
- June 2018
- December 2017
- November 2017
- October 2017
- September 2017
- March 2017
- February 2017
- November 2016
- October 2016
- September 2016
- July 2016
- June 2016
- April 2016
- March 2016
- February 2016
- January 2016
- December 2015
- November 2015
- October 2015
- September 2015
- August 2015
- June 2015
- May 2015
- March 2015
- February 2015
- January 2015
- November 2014
- August 2014
- July 2014
- June 2014
- May 2014
- April 2014
- March 2014
- February 2014
- January 2014
- December 2013
- November 2013
- October 2013
- September 2013
- August 2013
- July 2013
- June 2013
- May 2013
- April 2013
- March 2013
- February 2013
- January 2013
- December 2012
- November 2012
- October 2012
- September 2012
- August 2012
- July 2012
- June 2012
- May 2012
- April 2012
- March 2012
- February 2012
- December 2011
- October 2011
- August 2011
- July 2011
- June 2011
- May 2011
- April 2011
- March 2011
- February 2011
- January 2011
- December 2010
- November 2010
- October 2010
- September 2010
- August 2010
- July 2010
- June 2010
- May 2010
- April 2010
- March 2010
- February 2010
- January 2010
- December 2009
Calendar
M | T | W | T | F | S | S |
---|---|---|---|---|---|---|
1 | 2 | 3 | ||||
4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 |
11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 |
18 | 19 | 20 | 21 | 22 | 23 | 24 |
25 | 26 | 27 | 28 | 29 | 30 |