Written by prs.adminJuly 1, 2012
(Thai police trained to address domestic violence) گھریلو تشدد کی روک تھام کیلئے تھائی پولیس سرگرم
Asia Calling | ایشیا کالنگ . Social Issues Article
(Thai police trained to address domestic violence) گھریلو تشدد کی روک تھام کیلئے تھائی پولیس سرگرم
تھائی لینڈ میں گھریلو تشدد کو روکنے کیلئے پولیس اہلکاروں کا ایک دستہ تیار کیا جارہا ہے۔ اس مقصد کیلئے اقوام متحدہ کے تعاون سے خاص تربیت کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔
تھائی لینڈ میں ایک سروے کے مطابق سالانہ تین لاکھ سے زائد خواتین گھریلو تشدد کا نشانہ بنتی ہیں، تاہم این جی اوز کا کہنا ہے کہ تشدد کا نشانہ بننے والی خواتین کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ تھائی لینڈ کے ہر علاقے میں گھریلو تشدد کا مسئلہ بہت سنگین ہے۔ تاہم اب اس کی روک تھام کیلئے تھائی پولیس کا خصوصی دستہ تیار کیا جارہا ہے، جسے ایک خاص تربیتی کورس کرایا جارہا ہے، تاکہ خواتین اور لڑکیوں پر تشدد کی روک تھام کی جاسکے۔ Ryratana Rangsitpol تھائی لینڈ میں اقوام متحدہ کی امور نسواں پروگرام کی منیجر ہیں۔
female) Ryratana Rangsitpol) “خواتین پر ہونیوالے تشدد کا خاتمہ تھائی لینڈ کے National Women’s Development Plan کا بنیادی مقصد ہے، اقوام متحدہ اس مقصد کیلئے تھائی شہزادی اور اقوام متحدہ کی خیرسگالی سفیر Bajrakitiyabha کے ساتھ ملکر کام کررہی ہے۔ ہم اس حوالے سے قانون سازی کے عمل کی حمایت کرتے ہیں، اس کے علاوہ عوامی شعور اجاگر کرنے کیلئے مہم چلارہے ہیں تاکہ لوگ اس مسئلے کی حقیقی سنگینی کو سمجھ سکیں”۔
سوال“یہ تھائی لینڈ میں اس طرز کا پہلا تربیتی پروگرام ہے، کیا تھائی پولیس کو گھریلو تشدد کی روک تھام کے حوالے سے پہلے کوئی تربیت نہیں دی جاتی تھی؟
female) Ryratana Rangsitpol) “تھائی پولیس اس سے پہلے گھریلو تشدد کے واقعات پر فوجداری قوانین کے مطابق کارروائی کرتی تھی، مگر ہمیں معلوم ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد اتنا سیدھا معاملہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس مخصوص تربیت کے دوران پولیس اہلکاروں کو متاثرہ خواتین کی کہانیاں سنائی جاتی ہیں۔ انہیں سیکھایا جاتا ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد صرف جسمانی یا جنسی نہیں ہوتا بلکہ انہیں ذہنی طور پر بھی تشدد کا بنایا جاتا ہے”۔
سوال“مرد اور خواتین پولیس اہلکار اس تربیت میں شریک ہیں، تربیتی پروگرام کے دوران اہلکاروں کی جانب سے کس قسم کے ردعمل کا اظہار کیا گیا؟
female) Ryratana Rangsitpol) “ہمیں پولیس اہلکاروں کی جانب سے مثبت اور حوصلہ افزاءردعمل ملا ہے۔ مثال کے طور پر ان میں سے ایک اہلکار نے کہا کہ اس تربیتی پروگرام میں شرکت کرکے اس کی شخصیت میں انقلاب آیا ہے اوراسے سمجھ میں آگیا ہے کہ گھریلو تشدد نجی یا خاندانی معاملہ نہیں، بلکہ سنگین جرم ہے۔ اس شخص کا کہنا ہے کہ اگر کوئی خاتون تشدد کا شکار نظر آئی تو وہ اس کی بھرپور مدد کرے گا”۔
سوال“تھائی حکومت کے سروے کے مطابق پندرہ سے انیس سال کی لڑکیاں تشدد کی زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ہم جاننا چاہتے ہیں کہ تھائی لینڈ میں گھریلو تشدد کے مسئلے پر قابو پانے کیلئے آپ کی کیا حکمت عملی ہے؟
female) Ryratana Rangsitpol) “درحقیقت گھریلو تشدد کے واقعات کی حقیقی تعداد تو معلوم نہیں، تاہم ہمیں توقع ہے کہ اگر نوجوان نسل کی ذہنیت میں تبدیلی لائی جائے تو مردوں کے روئیے میں تبدیلی آسکتی ہے۔ اسی طرح خواتین کو معلوم ہونا چاہئے کہ اپنے شوہر کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے کے بعد اسے کیا کرنا چاہئے، اور اس صورتحال میں اسے مدد کیلئے کس سے رابطہ کرنا چاہئے”۔
سوال“کیا آپ کے خیال میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں اب بھی گھریلو تشدد کو خاندانی معاملہ سمجھنے کی سوچ پائی جاتی ہے، اور کیا واقعی وہ اس معاملے میں پولیس یا دیگر حکومتی عہدیداران کی مداخلت کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں؟
female) Ryratana Rangsitpol) “ہمارے خیال میں یہ بہت ضروری ہے کہ عوام کی بڑی تعداد اس بات کو سمجھیں کہ خواتین پر تشدد نجی معاملہ نہیں، بلکہ یہ ایک عوامی مسئلہ ہے اور باہر کے لوگ اس میں مداخلت کرنے کیلئے حق بجانب ہیں۔ اگر ہم معاشرے کا حصہ ہونے کے باوجود تشدد کو روک نہ سکے تو یہ ہماری ناکامی ہے۔میرے خیال میں تو اس طرح ہم خود اس تشدد کے ذمے دار بن جائیں گے”۔
You may also like
Archives
- March 2024
- February 2024
- January 2024
- September 2023
- July 2023
- March 2023
- February 2023
- January 2023
- April 2022
- March 2022
- February 2022
- September 2021
- August 2021
- July 2021
- April 2021
- February 2021
- June 2020
- May 2020
- April 2020
- March 2020
- February 2020
- December 2019
- October 2019
- September 2019
- August 2019
- July 2019
- May 2019
- April 2019
- March 2019
- February 2019
- January 2019
- December 2018
- November 2018
- October 2018
- September 2018
- August 2018
- June 2018
- December 2017
- November 2017
- October 2017
- September 2017
- March 2017
- February 2017
- November 2016
- October 2016
- September 2016
- July 2016
- June 2016
- April 2016
- March 2016
- February 2016
- January 2016
- December 2015
- November 2015
- October 2015
- September 2015
- August 2015
- June 2015
- May 2015
- March 2015
- February 2015
- January 2015
- November 2014
- August 2014
- July 2014
- June 2014
- May 2014
- April 2014
- March 2014
- February 2014
- January 2014
- December 2013
- November 2013
- October 2013
- September 2013
- August 2013
- July 2013
- June 2013
- May 2013
- April 2013
- March 2013
- February 2013
- January 2013
- December 2012
- November 2012
- October 2012
- September 2012
- August 2012
- July 2012
- June 2012
- May 2012
- April 2012
- March 2012
- February 2012
- December 2011
- October 2011
- August 2011
- July 2011
- June 2011
- May 2011
- April 2011
- March 2011
- February 2011
- January 2011
- December 2010
- November 2010
- October 2010
- September 2010
- August 2010
- July 2010
- June 2010
- May 2010
- April 2010
- March 2010
- February 2010
- January 2010
- December 2009
Calendar
M | T | W | T | F | S | S |
---|---|---|---|---|---|---|
1 | ||||||
2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 |
9 | 10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 |
16 | 17 | 18 | 19 | 20 | 21 | 22 |
23 | 24 | 25 | 26 | 27 | 28 | 29 |
30 | 31 |
Leave a Reply