پاکستان سمیت پوری دنیا میں آج انسداد منشیات اور اس کی اسمگلنگ کی روک تھام کا دن منایا جارہا ہے۔
اس وقت عالمی سطح پر افیون کی 89فیصد غیر قانونی پیداوار افغانستان پیدا کرتا ہے۔ سب سے زیادہ ہیروئن روس میں21 فیصد، چین میں13فیصد، پاکستان میں6، بھارت اور ایران میں5 فیصدافراد استعمال کرتے ہیں۔
اس وقت پاکستان میں نشہ کرنے والے افراد کی تعداد ایک کروڑ ہے جبکہ اس میں سالانہ 6لاکھ افراد کا خطرناک اضافہ ہورہا ہے۔
بے روزگاری، گھریلو پریشانی، زندگی میں ناکامی اور بری صحبت وہ بنیادی سبب ہیں جن کی وجہ سے لوگ منشیات کا شکار ہوتے ہیں۔
باعث تشویش امر یہ ہے کہ ان عادی افراد میں سے یونیورسٹی کے طلبہ سمیت 60فیصد افراد کا تعلق پڑھے لکھے طبقے سے ہے جبکہ ان ایک کروڑ افراد میں 20فیصد خواتین بھی شامل ہیں۔
ہیروئن کا نشہ کر نے والے افراد اپنے مستقبل کی با ت بھی کر تے ہیں،اور آ نے والے دنوں کے با رے میں با ت بھی سوچتے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ انجام سے بے خبر نشہ کر نے والا شخص وقتی سکوں کی خاطر اپنا گھر با ر اور بیو ی بچوں کو بھی داﺅ پر لگانے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ایک ڈاکٹر اس حوالے سے اظہار خیال کررہے ہیں۔
ملک میں 6برس کے دوران انجکشن سے نشہ کرنے والوں کی تعداد میں 100فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ کراچی میں کی گئی ایک اسٹیڈی کے مطابق انجکشن سے نشہ کرنے والوں میں ایچ آئی وی وائرس کی موجودگی کی شرح صرف ایک برس میں ایک سے بڑھ کر 26فیصد تک پہنچ چکی ہے۔