Written by prs.adminSeptember 17, 2013
India Guru in Custody over Sex Assault – بھارتی سادھو جنسی حملے پر گرفتار
Asia Calling | ایشیا کالنگ Article
ایک بھارتی عدالت نے ایک لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والے معروف مذہبی رہنماءکی درخواست ضمانت مسترد کردی ہے، 75 سالہ اسارام باپو کی گرفتاری نے ہندو گروپس کو تقسیم کردیا ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
ہندو مذہبی رہنماءگرو اسارام باپق کے ہزاروں حامی نئی دہلی میں پارلیمنٹ کے پاس دھرنا دیئے بیٹھے ہیں، وہ اپنے رہنماءکی فوری رہائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ اٹھائیس سالہ دھرم راج بھی مطاہرین میں شامل ہیں۔
راج”یہ ان کی توہین ہے، وہ عظیم سادھو ہیں، وہ گزشتہ پچاس برس سے لاکھوں افراد کو بھگوان کی تعلیمات سیکھا رہے ہیں، اور اب ان پر ایسے گھناﺅنے جرم کا الزام عائد کردیا گیا ہے، آخر وہ ایسا کیسے کرسکتے ہیں جبکہ وہ برسوں سے اس کی مخالفت کرتے آرہے ہیں؟ ان الزامات میں کوئی صداقت نہیں”۔
تاہم گرو کی درخواست ضمانت حال ہی میں مسترد کردی گئی اور وہ تاحال پولیس کی حراست میں ہیں، ان پر ایک سولہ سالہ لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام ہے، جو راجھستان میں ان کی تنطیم کے زیرتحت چلنے والے اسکول میں زیرتعلیم تھی۔ لڑکی کے والد کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کی حالت ابھی بھی ٹھیک نہیں۔
متاثرہ لڑکی کا والد”وہ میری بیٹی کو ایک کمرے میں لے گیا اور ہمیں باہر اتنطار کرنے کا کہا، پھر اس کے بعد وہ اندر داخل ہوا اور میری بیٹی کو گھسیٹ کر کمرے میں موجود دوسرے دروازے کی جانب گھسیٹنے لگا، وہاں بالکل اندھیرا تھا اس لئے ہمیں کچھ نظر نہیں آیا، کچھ دیر بعد جب میں اپنی بیٹی سے ملا تو وہ رو رہی تھی، ہم نے اس سے پوچھا کہ کیا ہوا، مگر اس نے کچھ بھی نہیں بتایا، مگر جب میں نے اصرار کیا تو وہ کہنے لگی گھر واپس چلیں یہاں کوئی سادھو نہیں بلکہ یہ سب ڈھونگ ہے۔ گھر پہنچنے کے بعد اس نے سب واقعہ سنایا، اسے دھمکی دی گئی تھی کہ اگر اس نے آواز نکالی یا کسی کو کچھ بتایا تو مسلح افراد باہر موجود اس کے والدین کو قتل کردیں گے”۔
لڑکی کے والدین اسارامکے عقیدت مندوں میں شامل تھے مگر اس واقعے نے ان کی آنکھیں کھول دیں۔
متاثرہ لڑکی کا والد”ہم آنکھیں بند کرکے اس کے پیچھے چل رہے تھے، ہم میڈیا سے نفرت کرتے تھے کیونکہ اس کا کہنا تھا کہ میڈیا کو عیسائی مشنریوں نے خرید رکھا ہے اور وہ ہندو مذہب اور سادھوﺅں کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلا رہا ہے۔ ہم اس کی عبادت کرتے تھے اور اس کا حقیقی چہرہ سامنے آنے تک اس کیلئے سب کچھ کیا”۔
اسارام بھارت کے چند امیر اور بااثر ترین ہندو مذہبی رہنماﺅں میں سے ایک ہیں، ان کے بھارت بھر میں چار سو مراکز ، درجنوں اسکول اور شمالی بھارت میں لاکھوں ماننے والے موجود ہیں۔تاہم وہ ایک متنازعہ شخصیت بھی ہیں، جن کے خلاف مختلف عدالتوں میں درجنوں مقدمات زیرسماعت ہیں۔ اسارام کے سابق ساتھی ودراج امرت جنسی زیادتی کے تازہ مقدمے پر حیران نہیں۔
ودرات”ایسے مقدمات کی طویل قطار ہے، میں سب کچھ جانتا ہوں اور یہی وجہ ہے کہ وہ مجھے قتل کرنا چاہتا ہے، اس کے آدمی اب تک چھ بار مجھے مارنے کی کوشش کرچکے ہیں” .
مگراسارام کو اب تک کسی مقدمے میں سزا نہیں ہوئی اور وہ موجودہ الزامات کو بھی مسترد کرتے ہیں۔
اسارام”یہ گندے الزامات بے بنیاد ہیں، اسکے پیچھے سیاسی سازش ہے اور ایسا میرے ساتھ طویل عرصے سے ہورہا ہے، مگر میں ان سازش کرنے والوں کے نام سامنے نہیں لانا چاہتا”۔
مگر اپنی گرفتاری کے بعداسارام نے اس کا الزام کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور ان کے بیٹے راہول گاندھی پر عائد کردیا، اپوزیشن جماعت بی جے پی کے کچھ رہنماءبھی اسی طرح کے الزامات لگارہے ہیں، اوما بھارتی بی جے پی کی سنیئر رہنماءہیں۔
شہری”کانگریس پارٹی کی دہلی اور راجھستان دونوں جگہ حکومت قائم ہے،اسارام باپو کھلے عام سونیا گاندھی اور راہول پر تنقید کرتے رہے ہین، اور جو سچ بولتا ہے اکثر انہیں سزا دی جاتی ہے”۔
ڈپٹی کمشنر پولیساجے لمبا کے خیال میں اسارام کے خلاف کیس کافی مضبوط ہے۔
اجے”ہم نے اسے اس وقت گرفتار کیا جب ہمیں یقین ہوگیا کہ الزامات درست ہیں، ہم نے تمام شواہد جمع کئے اور ان کی جانچ پڑتال کی جس سے بعد تمام الزامات درست ثابت ہوئے”۔
گرفتاری کی خبر ہزاروں افراد کو بھارت بھر میں سڑکوں پر لے آئی، کئی جگہوں پر مظاہرین نے اس مقدمے کی نمایاں کوریج پر صحافیوں پر تشدد بھی کیا، ہندو قوم پرست گروپس بھی اس واقعے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں،
وشوا ہندو پریشادسب سے بااثر ہندو انتہاپسند گروپ ہے، اس کے سربراہ اشوک سنگھل کا کہنا ہے کہ یہ تمام ہندوﺅں کیخلاف سازش ہے۔
اشوک”اب تک اسارام کے خلاف الزامات ثابت نہیں ہوسکے، ملک میں سادھوﺅں کو بدنام کرنے کیلئے ماحول بنایا جارہا ہے اور مذہب کے بارے میں اس طرح کے الزامات کے ذریعے شبہات پیدا کئے جارہے ہیں، حکومت اور کچھ لوگ ایسا کررہے ہیں”۔
مگر ایک اور ہندو رہنماءوشال آنند کا کہنا ہے کہ اب وقت ہے کہ مذہبی برادریوں کی باریک بینی سے چھان بین کی جائے۔
آنند”سادھو جیسے بدھا نے سب کچھ چھوڑ دیا تھا، مگر اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ خودساختہ پرتعیش زندگیاں گزار رہے ہیں، انھوں نے اپنی ایمپائرز کھری کردی ہیں اور اس کے باوجود لوگ ان کو مانتے ہیں، یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور ہمیں ان حالات کا گہرائی میں جاکر جائزہ لینا ہوگا”۔
You may also like
Archives
- March 2024
- February 2024
- January 2024
- September 2023
- July 2023
- March 2023
- February 2023
- January 2023
- April 2022
- March 2022
- February 2022
- September 2021
- August 2021
- July 2021
- April 2021
- February 2021
- June 2020
- May 2020
- April 2020
- March 2020
- February 2020
- December 2019
- October 2019
- September 2019
- August 2019
- July 2019
- May 2019
- April 2019
- March 2019
- February 2019
- January 2019
- December 2018
- November 2018
- October 2018
- September 2018
- August 2018
- June 2018
- December 2017
- November 2017
- October 2017
- September 2017
- March 2017
- February 2017
- November 2016
- October 2016
- September 2016
- July 2016
- June 2016
- April 2016
- March 2016
- February 2016
- January 2016
- December 2015
- November 2015
- October 2015
- September 2015
- August 2015
- June 2015
- May 2015
- March 2015
- February 2015
- January 2015
- November 2014
- August 2014
- July 2014
- June 2014
- May 2014
- April 2014
- March 2014
- February 2014
- January 2014
- December 2013
- November 2013
- October 2013
- September 2013
- August 2013
- July 2013
- June 2013
- May 2013
- April 2013
- March 2013
- February 2013
- January 2013
- December 2012
- November 2012
- October 2012
- September 2012
- August 2012
- July 2012
- June 2012
- May 2012
- April 2012
- March 2012
- February 2012
- December 2011
- October 2011
- August 2011
- July 2011
- June 2011
- May 2011
- April 2011
- March 2011
- February 2011
- January 2011
- December 2010
- November 2010
- October 2010
- September 2010
- August 2010
- July 2010
- June 2010
- May 2010
- April 2010
- March 2010
- February 2010
- January 2010
- December 2009
Calendar
M | T | W | T | F | S | S |
---|---|---|---|---|---|---|
1 | 2 | |||||
3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 |
10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 |
17 | 18 | 19 | 20 | 21 | 22 | 23 |
24 | 25 | 26 | 27 | 28 |