Written by prs.adminMay 13, 2013
Alla o Uddin’s Death Anniversary – نامور ورسٹائل ادکار علاودین کی برس
Special Reports | خصوصی رپورٹس Article
گول گپے والا آیا گول گپے لایا جیسے گانے کو اپنی اداکاری سے لافانی بنادینے والے نامور ورسٹائل ایکٹر علاﺅالدین کی پیدائش راولپنڈی میں ہوئی ابتدا ئی تعلیم حا صل کر نے کے بعد وہ بمبئی چلے گئے جہاں1942ءمیں سنجوگ نامی فلم میں اداکاری کرکے اپنے فنی کیرئیر کا آغازکیا، تاہم انہیں اصل شہرت بھارتی فلم میلہ سے ملی، جس میں انھوں نے دلیپ کمار اور نرگس کیساتھ اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان بننے کے بعد انھوں نے لالی وڈ کی پہلی پنجابی فلم پھیرے میں ولن کا کردار ادا کیا جو یادگار بن گیا۔اس کے بعد علاﺅ الدین کی بطور ولن کئی پنجابی فلمیں سپر ہٹ ہوئیں، جن میں پتن، شہری بابو، پاٹے خان اور دلا بھٹی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
تاہم 1957ءمیں اردو فلم آس پاس کی کامیابی کے بعد علاﺅ الدین ایک ایسے فنکار کے روپ میں سامنے آئے جس کے لئے فلموں میں خصوصی کردار تحریر کئے جانے لگے۔جس کی مثال راز، آدمی، بھروسہ، نیند، کوئل، جھومر، سسرال اور بنجارن جیسی یادگار فلموں میں علاﺅ الدین کے غیرروایتی کردار ہیں۔
پنجابی فلم کرتار سنگھ وہ پہلی فلم تھی جس میں علاﺅ الدین نے بطور ہیرو کام کیا، یہ فلم انتہائی کامیاب رہی اور علاﺅ الدین بام عروج پر پہنچ گئے۔
شہنشاہ غزل مہدی حسن کا پہلا سپرہٹ فلمی گیت بھی علاﺅ الدین پر فلمایا گیا تھا،جسکے بول یہ ہیں۔
اسی طرح فلم بدنام میں علاﺅ الدین کا مکالمہ تو پاکستانی فلمی صنعت میں کلاسیک کا درجہ رکھتا ہے۔ جو یہ ہے۔ کہاں سے آئے ہیں یہ جھمکے، کیا کہہ رہے ہیں یہ جھمکے۔
انہوں نے اپنی اعلیٰ پرفارمینس سے کئی کرداروں کو امر کر دیا ، تیس مار خان ،ہڈ حرام ،پھنے خان ،ان پڑھ ،نظام لوہار اور فرنگی جیسی فلموں میں لازوال کردار ان کی انمٹ فنکارانہ صلاحیتوں کا ثبوت ہیں۔
فرنگی تو ایسی فلم ثابت ہوئی جس کی آج تک فلمی صنعت میں مثال دی جاتی ہے، اس فلم کا گیت گلوں میں رنگ بھرے جو مہدی
حسن نے گایا اور علاﺅ الدین پر فلمایا گیا، نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔
انھوں نے 319 فلموں میں کام کیا،جن میں سے 194 اردو اور 125 پنجابی تھیں۔
تیرہ مئی 1983ءکو ان کا لاہور میں انتقال ہوا۔عوامی اداکار علاﺅالدین نے فن اداکاری میں جو نقوش چھوڑے ہیں وہ نو وارد اداکاروں کے لئے مشعل راہ ہیں۔
گول گپے والا آیا گول گپے لایا جیسے گانے کو اپنی اداکاری سے لافانی بنادینے والے نامور ورسٹائل ایکٹر علاﺅالدین کی پیدائش راولپنڈی میں ہوئی ابتدا ئی تعلیم حا صل کر نے کے بعد وہ بمبئی چلے گئے جہاں1942ءمیں سنجوگ نامی فلم میں اداکاری کرکے اپنے فنی کیرئیر کا آغازکیا، تاہم انہیں اصل شہرت بھارتی فلم میلہ سے ملی، جس میں انھوں نے دلیپ کمار اور نرگس کیساتھ اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان بننے کے بعد انھوں نے لالی وڈ کی پہلی پنجابی فلم پھیرے میں ولن کا کردار ادا کیا جو یادگار بن گیا۔اس کے بعد علاﺅ الدین کی بطور ولن کئی پنجابی فلمیں سپر ہٹ ہوئیں، جن میں پتن، شہری بابو، پاٹے خان اور دلا بھٹی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
تاہم 1957ءمیں اردو فلم آس پاس کی کامیابی کے بعد علاﺅ الدین ایک ایسے فنکار کے روپ میں سامنے آئے جس کے لئے فلموں میں خصوصی کردار تحریر کئے جانے لگے۔جس کی مثال راز، آدمی، بھروسہ، نیند، کوئل، جھومر، سسرال اور بنجارن جیسی یادگار فلموں میں علاﺅ الدین کے غیرروایتی کردار ہیں۔
پنجابی فلم کرتار سنگھ وہ پہلی فلم تھی جس میں علاﺅ الدین نے بطور ہیرو کام کیا، یہ فلم انتہائی کامیاب رہی اور علاﺅ الدین بام عروج پر پہنچ گئے۔
شہنشاہ غزل مہدی حسن کا پہلا سپرہٹ فلمی گیت بھی علاﺅ الدین پر فلمایا گیا تھا،جسکے بول یہ ہیں۔
اسی طرح فلم بدنام میں علاﺅ الدین کا مکالمہ تو پاکستانی فلمی صنعت میں کلاسیک کا درجہ رکھتا ہے۔ جو یہ ہے۔ کہاں سے آئے ہیں یہ جھمکے، کیا کہہ رہے ہیں یہ جھمکے۔
انہوں نے اپنی اعلیٰ پرفارمینس سے کئی کرداروں کو امر کر دیا ، تیس مار خان ،ہڈ حرام ،پھنے خان ،ان پڑھ ،نظام لوہار اور فرنگی جیسی فلموں میں لازوال کردار ان کی انمٹ فنکارانہ صلاحیتوں کا ثبوت ہیں۔
فرنگی تو ایسی فلم ثابت ہوئی جس کی آج تک فلمی صنعت میں مثال دی جاتی ہے، اس فلم کا گیت گلوں میں رنگ بھرے جو مہدی
حسن نے گایا اور علاﺅ الدین پر فلمایا گیا، نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔
انھوں نے 319 فلموں میں کام کیا،جن میں سے 194 اردو اور 125 پنجابی تھیں۔
تیرہ مئی 1983ءکو ان کا لاہور میں انتقال ہوا۔عوامی اداکار علاﺅالدین نے فن اداکاری میں جو نقوش چھوڑے ہیں وہ نو وارد اداکاروں کے لئے مشعل راہ ہیں۔
You may also like
Archives
- March 2024
- February 2024
- January 2024
- September 2023
- July 2023
- March 2023
- February 2023
- January 2023
- April 2022
- March 2022
- February 2022
- September 2021
- August 2021
- July 2021
- April 2021
- February 2021
- June 2020
- May 2020
- April 2020
- March 2020
- February 2020
- December 2019
- October 2019
- September 2019
- August 2019
- July 2019
- May 2019
- April 2019
- March 2019
- February 2019
- January 2019
- December 2018
- November 2018
- October 2018
- September 2018
- August 2018
- June 2018
- December 2017
- November 2017
- October 2017
- September 2017
- March 2017
- February 2017
- November 2016
- October 2016
- September 2016
- July 2016
- June 2016
- April 2016
- March 2016
- February 2016
- January 2016
- December 2015
- November 2015
- October 2015
- September 2015
- August 2015
- June 2015
- May 2015
- March 2015
- February 2015
- January 2015
- November 2014
- August 2014
- July 2014
- June 2014
- May 2014
- April 2014
- March 2014
- February 2014
- January 2014
- December 2013
- November 2013
- October 2013
- September 2013
- August 2013
- July 2013
- June 2013
- May 2013
- April 2013
- March 2013
- February 2013
- January 2013
- December 2012
- November 2012
- October 2012
- September 2012
- August 2012
- July 2012
- June 2012
- May 2012
- April 2012
- March 2012
- February 2012
- December 2011
- October 2011
- August 2011
- July 2011
- June 2011
- May 2011
- April 2011
- March 2011
- February 2011
- January 2011
- December 2010
- November 2010
- October 2010
- September 2010
- August 2010
- July 2010
- June 2010
- May 2010
- April 2010
- March 2010
- February 2010
- January 2010
- December 2009
Calendar
M | T | W | T | F | S | S |
---|---|---|---|---|---|---|
1 | 2 | 3 | ||||
4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 |
11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 |
18 | 19 | 20 | 21 | 22 | 23 | 24 |
25 | 26 | 27 | 28 | 29 | 30 |