Written by prs.adminFebruary 25, 2013
(Afghan local displacement families faced with problem) بے گھر افغان شہریوں کے مسائل
Asia Calling | ایشیا کالنگ Article
اس وقت جنگ کے باعث پانچ لاکھ سے زائد افغان شہری پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ان متاثرہ افراد پر حکومت اور عالمی امدادی اداروں کی جانب سے زیادہ توجہ نہیں دی جارہی۔ یہی وجہ ہے کہ ہرسال سردیوں میں ان کیمپس میں بہت سے بچے موسم کی شدت کے باعث چل بستے ہیں سنتے ہیں
یہ لوگ اپنے گھر کے بارے میں جاننے کا سوچ کر بھی خوفزدہ ہیں، ان کا تعلق جنگ زدہ صوبوں ہلمند اور اورگان سے ہے، ان کے گھر گزشتہ کئی برسوں سے نیٹو افواج اور طالبان کے درمیان جنگ کا میدان بنے ہوئے ہیں۔روزی خان بھی ان لاکھوں بے گھر افراد کے ساتھ پناہ گزین کیمپ کو ہی گھر سمجھے ہوئے ہیں۔
روزی خان” جنگ، تشدد اور طالبان کے خطرے کے باعث مجھے اپنا گھر چھوڑنا پڑا، میری زندگی وہاں بہت خراب ہوگئی اور میں اپنا سب کچھ کھو چکا تھا۔ میرے خاندان کے تمام بارہ افراد، گھر اور سب کچھ ختم ہوگیا تھا۔ میرے تمام رشتے دار طالبان اور غیرملکیوں کے درمیان جھڑپ میں ہلاک ہوگئے اور اب میں اور میرا ایک بچہ ہی باقی بچے ہیں۔ ہم یہاں کیمپ میں مقیم ہیں ،کوئی ہماری مدد کیلئے تیار نہیں اور کوئی بھی ہماری آواز نہیةں سنتا”۔
کابل میں اس طرح کے چار پناہ گزین کیمپس قائم ہیں، موسم سرما میں یہاں سردی کی شدت رگوں میں خون منجمد کردیتی ہے، آج ایک کاروباری شخص نے ان متاثرین کیلئے کوئلہ فراہم کیا ہے تاہم ایک خاتون ناز بی بی کا کہنا ہے کہ س طرح کی امداد بہت کم ہی ملتی ہیں۔
ناز بی بی “ ہماری زندگی بہت بدتر ہوگئی ہے، اس سرد موسم میں ہمیں خیموں میں ناکافی سہولیات میں رہنا پڑتا ہے۔ ہمارے پاس خیمے کو گرم کرنے کیلئے ایندھن نہیں، جبکہ ہمیں مناسب مقدار میں خوراک بھی دستیاب نہیں۔ چاول، آٹا، تیل اور کمبل غرض کچھ بھی نہیں۔ آپ خود ہماری کسمپرسی کو دیکھ سکتے ہیں۔ ابھی میں اپنے خیمے کو گرم رکھنے کیلئے کچھ ڈھونڈنے کیلئے باہر جانا چاہتی ہوں”۔
یہ خاندان حکومت سے خوراک اور ایندھن کا مطالبہ کرتے ہیں۔ شیریں گل بھی ایک متاثرہ خاتون ہیں۔
شیریں گُل “ حکومت کو لازمی طور پر اس سرد موسم کے دوران ہماری مدد کرنی چاہئے، ہم اس سے مناسب پناہ گاہ کی فراہمی کا بھی مطالبہ کرتے ہیں، کیونکہ اس سرد موسم میں ہمارے بچے بیمار ہوکر مررہے ہیں”۔
ان میں سے بیشتر بے گھر افراد کی گھر واپسی کی امید ختم ہوچکی ہے اور وہ حکومت سے رہائش کیلئے زمین کا بھی مطالبہ کرتے
ہیں، تاہم وزارت امیگریشن کے ترجمان اسلام الدین جرات کا کہنا ہے کہ اس کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔
اسلام الدین “ ہم دیگر صوبوں سے آنے والے افراد کو کئی وجوہات کی بناءپر زمین دینا نہیں چاہتے۔ تاہم وہ افراد جنھیں بے گھر ہوئے دو برس سے زائد عرصہ گزر چکا ہے ہم انہیں گھر کی تعمیر کیلئے ان کے آبائی صوبے میں زمین ضرور دیں گے”۔
اس وقت تک ان خاندانوں کو انہی کیمپوں میں مشکلات کا سامنا ہوگا، جہاں ان کے بچوں کا مستقبل غیریقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ محمد ظریف اور احمد باری ایسے ہی دو بچے ہیں۔
محمد باری “ میں اسکول جانا چاہتا ہوں مگر نہیں جاسکتا کیونکہ میرے پاس کتابوں سمیت کچھ بھی نہیں۔ اس کے لئے پیسے چاہئے جبکہ یہاں ہمارے لئے کوئی اسکول بھی نہیں۔ اگر مجھے تمام سہولیات ملیں تو میں ضرور اسکول جاﺅں گا”۔
احمد “ ہمارے پاس اسکول نہیں اور ہمارے پاس وہ سب نہیں جس کی ہمیں ضرورت ہے۔
You may also like
Archives
- March 2024
- February 2024
- January 2024
- September 2023
- July 2023
- March 2023
- February 2023
- January 2023
- April 2022
- March 2022
- February 2022
- September 2021
- August 2021
- July 2021
- April 2021
- February 2021
- June 2020
- May 2020
- April 2020
- March 2020
- February 2020
- December 2019
- October 2019
- September 2019
- August 2019
- July 2019
- May 2019
- April 2019
- March 2019
- February 2019
- January 2019
- December 2018
- November 2018
- October 2018
- September 2018
- August 2018
- June 2018
- December 2017
- November 2017
- October 2017
- September 2017
- March 2017
- February 2017
- November 2016
- October 2016
- September 2016
- July 2016
- June 2016
- April 2016
- March 2016
- February 2016
- January 2016
- December 2015
- November 2015
- October 2015
- September 2015
- August 2015
- June 2015
- May 2015
- March 2015
- February 2015
- January 2015
- November 2014
- August 2014
- July 2014
- June 2014
- May 2014
- April 2014
- March 2014
- February 2014
- January 2014
- December 2013
- November 2013
- October 2013
- September 2013
- August 2013
- July 2013
- June 2013
- May 2013
- April 2013
- March 2013
- February 2013
- January 2013
- December 2012
- November 2012
- October 2012
- September 2012
- August 2012
- July 2012
- June 2012
- May 2012
- April 2012
- March 2012
- February 2012
- December 2011
- October 2011
- August 2011
- July 2011
- June 2011
- May 2011
- April 2011
- March 2011
- February 2011
- January 2011
- December 2010
- November 2010
- October 2010
- September 2010
- August 2010
- July 2010
- June 2010
- May 2010
- April 2010
- March 2010
- February 2010
- January 2010
- December 2009
Calendar
M | T | W | T | F | S | S |
---|---|---|---|---|---|---|
1 | 2 | 3 | ||||
4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 | 10 |
11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 | 17 |
18 | 19 | 20 | 21 | 22 | 23 | 24 |
25 | 26 | 27 | 28 | 29 | 30 |
Leave a Reply