PPI NEWS Bulletin 2100 پی پی آئی نیو ز بلیٹن
ہیڈ لا ئنز:۔
کراچی میں اے این پی کے عہدیدار کے قتل کے بعد کشیدگی،مختلف علاقوں میں ایک درجن گا ڑیاں نذ ر آ تش
کراچی میں طالبان بھی قتل و غارت گری کررہے ہیں،وفا قی وزیر داخلہ
نیٹو سپلائی بحال کرنے کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی،آ رمی چیف
یکم اپریل سے پیٹرول8،ڈیزل پانچ اورمٹی کا تیل ساڑھے پانچ روپے فی لیٹر مہنگا ہونے کا امکان
سیاسی انتقام ختم کرنے کا سبق جیل سے سیکھا، وزیراعظم
اور
صدارتی استثنیٰ پر 61فیصد پاکستانی وزیراعظم کے بیان کے مخالف
خبروں کی تفصیل :۔
کراچی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے اے این پی کا عہدیدار جاںبحق ہوگیا۔جس کے بعد شہر بھر میں کشید گی پا ئی جا تی ہے۔ اطلا عا ت کے مطابق ناظم آباد میںمیٹرک بورڈ آفس کے قریب نامعلوم افراد نے عوامی نیشنل پارٹی کے عہدیدارزین العابدین کو ہلاک کردیاجبکہ فائرنگ کی زد میںآکر ایک راہ گیر بھی جاں بحق ہوگیا۔ اے این پی کے عہدیدار کی ہلاکت کی اطلاع ملتے ہی مشتعل افراد نے شہر بھر میں فائرنگ کرکے کاروبار بند کرادیا جبکہ مشتعل افراد نے لسبیلہ ،تین ہٹی ،عیسی نگری اور رابعی سٹی کے قریب 8 گاڑیوں،اور تین موٹرسائیکلوں کو بھی آگ لگادی جبکہ نشتر روڈ پرایک بس کو آگ لگادی گئی ۔اسکے علا وہ شہر کے دوسرے علاقوں میں بھی نا معلو م افراد نے فائرنگ کر کے تجا رتی اور کا روبا ری مر اکز بند کر ادےے۔ادھر اے این پی کے صوبائی صدر سینیٹر شاہی سید نے قاتلوں کی فوری گر فتا ری کا مطالبہ کر تے ہوئے کہا ہے کہ کر اچی میں اے این پی کے کا رکنوں کو قتل کیا جا رہا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ہما رے لئے کر اچی میں سیا ست کر نا جرم بنا دیا گیا ۔دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ منظو ر وسان نے شہر میں بد امنی کا نو ٹس لیتے ہوئے آ ئی جی سند ھ سے فو ری رپو ر ٹ طلب کر لی ہے ۔
وفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ کراچی میں طالبان بھی قتل وغارت گری کررہے ہیں۔پا رلیمنٹ کےمشترکا جلاس کے دوران رحما ن ملک کا کہنا تھا کہ کراچی میں تحریک طالبان کے شدت پسند موجود ہیں ،اور ساز ش کے تحت ٹارگٹ کلنگ کی جارہی ہے ۔وفا قی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی لہر صرف کراچی میں اٹھی ہے،کراچی میں جلاﺅ گھیراﺅ کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی ، کل بھی کراچی میں 35افراد گرفتار کیے گئے تھے۔
آ رمی چیف جنرل اشفا ق پر ویز کیانی سے پاکستان کے دورے پر آ ئے ہو ئے امرےکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنر ل جیمز میٹس اور افغانستان میں ایساف کمانڈر جنرل جان ایلن نے ملا قات کی ہے ۔ملا قات میں سلالہ چیک پو سٹ واقعہ کی تحقیقات اور پاک افغان سرحد کی صورتحال پر گفتگو کی گئی،اس کے علا وہ افغان سرحد پر دونوں طرف کی افواج کے درمیان رابطے کے طریقے کا ر پر بھی تبا دلہ خیال کیا گیا ۔ملا قات کے دوران جنرل کیا نی کا کہنا تھا کہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ پاکستان کی خودمختاری پر حملہ تھا، ان کا کہنا تھا کہ نیٹو سپلائی بحال کرنے کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی۔اس مو قع پرجنرل جمیز میٹس کا کہنا تھا کہ امریکا پاکستان سے دفاعی تعلقات کو مضبوط کرنا چاہتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ افغانستان اور خطے کی سکیورٹی میں پاکستان کا اہم کردار ہے۔ واضح رہے کہ گز شتہ روز سیول میں ہو نے والی ملا قات میں وزیر اعظم گیلانی اور امریکی صدر اوباما کے درمیان ےہ اتفا ق کیا گیا تھا کہ دونوں ممالک خطے میں امن کے لےے مل کر کا م کر یں گے ۔
اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری تیا ر کرلی ہے اور سمری کل وزارت پیٹرولیم کو ارسال کی جائیگی۔ سمری میںپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 9روپے تک اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔ذرائع کے مطا بق سمری کی منظوری کی صورت میں یکم اپریل سے پیٹرول8روپے فی لیٹر،ڈیزل پانچ، ہائی اوکٹین 9 ،اورمٹی کا تیل ساڑھے پانچ روپے فی لیٹر مہنگا ہونے کا امکان ہے۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ جیل سے سیاسی انتقام ختم کرنے کا سبق سیکھا، ان کے چار سالہ دور میں کوئی سیاسی قیدی نہیں بنا۔سیول میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے پاکستان بزنس ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات کی۔ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ ماضی میں حکمرانوں نے مخالفین کو جیل میں رکھ کر حکومت کی لیکن ان کے چار سالہ دور میں کسی کو سیاسی قیدی نہیں بنایا گیا۔ انہوں نے تاجروں کو پاکستان میں مشترکہ منصوبے شروع کرنے کا مشورہ دیا۔ وزیراعظم گیلانی سے سی ایکس سولر کمپنی کے سربراہ نے بھی ملاقات کی۔ وزیراعظم نے انہیں بلوچستان میں شمسی توانائی کے منصوبے شروع کرنے کی پیشکش کی۔
عوام کی بڑی اکثریت نے وزیراعظم کے اس موقف کو رد کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صدر زرداری کو عدالتی کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہے۔ گیلپ سروے پاکستان کی جانب سے چاروں صوبوں میں کیے گئے تازہ سروے کے مطابق پاکستان کی دو تہائی سے کچھ کم یعنی 61فیصد آبادی نے صدارتی استثنیٰ کے حوالے سے وزیراعظم کی جانب سے اپنائے گئے موقف کو مسترد کردیا ہے ۔ تاہم 33فیصد افراد وزیراعظم کے خیالات کی تائید بھی کرتے ہیں۔ 6فیصد افراد اس حوالے سے متضاد سوچ کے حامل نظر آئے۔
You may also like
Archives
- March 2024
- February 2024
- January 2024
- September 2023
- July 2023
- March 2023
- February 2023
- January 2023
- April 2022
- March 2022
- February 2022
- September 2021
- August 2021
- July 2021
- April 2021
- February 2021
- June 2020
- May 2020
- April 2020
- March 2020
- February 2020
- December 2019
- October 2019
- September 2019
- August 2019
- July 2019
- May 2019
- April 2019
- March 2019
- February 2019
- January 2019
- December 2018
- November 2018
- October 2018
- September 2018
- August 2018
- June 2018
- December 2017
- November 2017
- October 2017
- September 2017
- March 2017
- February 2017
- November 2016
- October 2016
- September 2016
- July 2016
- June 2016
- April 2016
- March 2016
- February 2016
- January 2016
- December 2015
- November 2015
- October 2015
- September 2015
- August 2015
- June 2015
- May 2015
- March 2015
- February 2015
- January 2015
- November 2014
- August 2014
- July 2014
- June 2014
- May 2014
- April 2014
- March 2014
- February 2014
- January 2014
- December 2013
- November 2013
- October 2013
- September 2013
- August 2013
- July 2013
- June 2013
- May 2013
- April 2013
- March 2013
- February 2013
- January 2013
- December 2012
- November 2012
- October 2012
- September 2012
- August 2012
- July 2012
- June 2012
- May 2012
- April 2012
- March 2012
- February 2012
- December 2011
- October 2011
- August 2011
- July 2011
- June 2011
- May 2011
- April 2011
- March 2011
- February 2011
- January 2011
- December 2010
- November 2010
- October 2010
- September 2010
- August 2010
- July 2010
- June 2010
- May 2010
- April 2010
- March 2010
- February 2010
- January 2010
- December 2009
Calendar
M | T | W | T | F | S | S |
---|---|---|---|---|---|---|
1 | 2 | |||||
3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8 | 9 |
10 | 11 | 12 | 13 | 14 | 15 | 16 |
17 | 18 | 19 | 20 | 21 | 22 | 23 |
24 | 25 | 26 | 27 | 28 |
Leave a Reply