Young Journalists Hit the Streets of Burma-نوجوان برمی صحافی

ماضی میں برمی نوجوان صحافی بننے کا سوچتے بھی نہیں تھے کیونکہ یہ بہت خطرناک پیشہ سمجھا جاتا تھا اور صحافیوں کو کسی بھی وقت جیل میں ڈال دیا جاتا تھا۔ مگر جب سے برما میں جمہوری اصلاحات کا عمل شروع ہوا ہے میڈیا کی صورتحال بھی تبدیل ہونا شروع ہوگئی ہے۔

اٹھائیس سالہ Ye Naing Oo ایک انٹرویو کررہے ہیں، انھوں نے چھ ماہ قبل ایک ہفت روزہ جریدے میں اپنے والدین کے اعتراضات کے باوجود بطور صحافی کام کرنا شروع کیا تھا۔ اسکول کی تعلیم کے بعدYe Naing Oo پر والدین نے دباﺅ ڈالا تھا کہ وہ برمی کی ایک معروف میڈیسن یونیورسٹی میں داخلہ لیں۔
یہ نینگ اوآلو “ میں والدین کو انکار نہیں کرسکا اور مجھے یونیورسٹی میں داخلہ لینا پڑا، مگر مجھے اس پڑھائی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی اور میں بہت بے دلی سے پڑھ رہا تھا۔ اس وقت مجھے صحافت کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا، تاہم جب میں 2007ءمیں یونیورسٹی کے آخری سال میں تھا تو میں نے صحافت کے بارے میں پڑھنا شروع کیا۔ میں نے میڈیکل کی تعلیم مکمل کرکے سرٹیفکیٹ اپنے والدین کو دیا، اس کے بعد میں نے اپنی مرضی سے پڑھنا شروع کیا”۔
انھوں نے انگریزی پڑھنے اور کمپیوٹر سیکھنے کے ساتھ ساتھ کچھ دیگر کورسز بھی کئے۔
یہ نینگ اوآلو “ جب میں نوجوان تھا تو میں ایک کتابوں کی دکان کھولنا چاہتا تھا، میں مصنفین کی زندگی کی کہانیاں پڑھ کر خود بھی ان جیسا بننا چاہتا تھا”۔
حکومت کی جانب سے گزشتہ برس اگست میں سخت سنسرشپ قوانین ختم کئے جانے کے بعد برما میں اب متعدد نوجوان صحافی بننے کے خواہشمند ہیں۔

یہ نینگ اوآلو پندرہ نوجوان صحافیوں کو لکھنے کی بنیادی تیکنیک سیکھا رہے ہیں، جبکہ وہ ایک مقامی ہفت روزہ جریدے کے ایڈیٹر بھی ہیں۔
یہ نینگ اوآلو “ گزشتہ دس برسوں کے دوران اگر کوئی شخص خود کو صحافی بتاتا تھا تو اس سے کوئی بات کرنا پسند نہیں کرتا تھا۔ اگر کوئی نوجوان اپنے والدین کے سامنے صحافی بننے کی خواہش ظاہر کرتا تو اسے اجازت نہیں ملتی، کیونکہ اسے خطرناک کام سمجھا جاتا تھا۔ میرے چند شاگردوں نے بھی صحافی بننے کیلئے اپنا گھر چھوڑ دیا تھا”۔
2007ءکا زرد انقلاب تبدیلی کا نقطہ آغاز ثابت ہوا اور صحافیوں کو زیادہ احترام ملنے لگا۔

موئے “ 2007ءکے زرد انقلاب کے دوران متعدد افراد نے پیشہ ور صحافیوں اور شہری صحافیوں کے کردار کی اہمیت کو جانا، تاہم اس وقت پریس پر حکومت کا سخت کنٹرول تھا، جب سے حکومت نے میڈیا پر سختی کم کی ہیں متعدد نوجوانوں نے صحافت کو اپنانا شروع کردیا ہے۔ اب یہ نوجوان اپنے پیشے پر فخر کرتے ہیں”۔
ماضی میں صرف ہفت روزہ اخباروں کو ہی برما میں اشاعت کی اجازت تھی، مگر رواں برس اپریل سے برما میں پہلی بار آزاد روزناموں کی اشاعت بھی شروع ہورہی ہے، جس کا مطلب ہے کہ اس وقت برما میں صحافیوں کی طلب میں اضافہ ہونے والا ہے۔
موئے “ اب میں روزانہ صبح سے رات تک نوجوانوں کی تربیت کررہا ہوں، کئی بار تو مجھے دن بھر میں کئی جگہوں پر جاکر تربیت دینا پڑتی ہے، جبکہ بہت سے نوجوان میرے گھر آکر بھی مجھ سے مشورے لیتے ہیں”
ایک این جی او Myanmar Journalist Network ان نوجوان صحافیوں کو مفت تربیت فراہم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔Myint Kyaw اس این جی او کے سیکرٹری ہیں۔
مے اِنت کیو” متعدد ہفت روزہ جریدے اب روزناموں کی اشاعت کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ اس مقصد کیلئے وہ متعدد نوجوانوں کو بھرتی کررہے ہیں، ان نوجوان صحافیوں کو تربیت کی ضرورت ہے”۔
Reporters Without Borders نامی صحافیوں کی عالمی تنظیم نے برما کو میڈیا کی آزادی کے حوالے سے چند روشن جگہوں میں سے ایک قرار دیا ہے، تاہم Ye Naing Moe کا کہنا ہے کہ غیرتربیت یافتہ صحافی ملکی میڈیا کی حیثیت کو تباہ کرسکتے ہیں۔
یہ نینگ اوآلو “ اگر ان نوجوان صحافیوں کو مناسب تربیت نہ ملی تو وہ اپنی سوچ کے مطابق ہی کامیابی کیلئے کچھ بھی کریں گے۔ اس طرح وہ صحافتی اصولوں کا غلط استعمال کرسکتے ہیں، مثال کے طور پر غیرتربیت یافتہ صحافی اخلاقی اصولوں پر عمل نہیں کریں گے، جس کے نتیجے میں لوگوں کا پریس پر سے اعتبار اٹھ جائے گا”۔

صحافت کی بنیادی تربیت کے بعد بائیس سالہ San Mun Yar پراعتماد ہیں کہ وہ اپنی آبائی ریاست Kachin میں رپورٹنگ کا کام کرسکیں گی۔
سین مون یار “ہماری ریاست میں خانہ جنگی جاری ہے، اس وقت برما میں صحافیوں کی تعداد بہت کم ہے،جمہوریت کیلئے میڈیا کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے میں نے اس پیشے کو اختیار کرنے کا فیصلہ کیا”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *