انڈونیشیاءمیں جنگلات کٹائی کی وجہ سے خطرات سے دوچار ہیں، تاہم اس سلسلے کو روکنے کیلئے مختلف گروپس کی جانب سے مہمات بھی چلائی جاتی ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ دنیا کی کاغذ بنانے والی تیسری بڑی کمپنی ایشیا پیپر نے برساتی جنگلات میں مزید کٹائی نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسی بارے میں انڈونیشیاءمیں ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کے عہدیدار Aditya Bayunanda کا انٹرویو سنتے ہیں ۔
آداتیہ بائیہ نندیا” کمپنی کا یہ اعلان بہت اہمیت رکھتا ہے اور میرے خیال میں اس سلسلے میں ماحولیاتی مہمیں چلانے والے گروپس کو سراہا جانا چاہئے۔ میرا یہ ماننا ہے کہ ان گروپس اور کمپنیوں کو ملکر کر کام کرنا چاہئے، مگر اس کے ساتھ ساتھ ان کاروباری اداروں کو اپنے عزائم کا واضح اظہار بھی کرنا چاہئے”۔
سوال”آپ کو ان وعدوں پر کس قسم کے شہبات ہیں؟ آداتیہ بائیہ نندیا” ماضی میں اس طرح کے وعدے توڑنے کے کئی واقعات ہوچکے ہیں، ایشیا پیپر کمپنی یا اے پی پی نے بھی کئی بار جنگلات میں کٹائی روکنے کا وعدہ کیا، پہیلے انھوں نے 2004ءتک ایسا نہ کرنے کا کہا مگر اس پر عمل نہیں۔ 2007ءمیں بھی ایسا ہی کیا اور پھر 2009ءمیں وعدہ خلافی کی۔ تو اے پی پی کا ریکارڈ ہی وعدہ خلافیوں سے بھرپور ہے، تو مجھے نہیں لگتا کہ معاشرے اور ماحولیاتی گروپس کے شہبات غلط ہیں”۔
سوال”اس طرح کے اہم اعلانات سے کیا یہ کمپنیاں عوامی توجہ اور پھر احتساب کا مرکز نہیں بن جاتیں؟ آداتیہ بائیہ نندیا” جی ہاں میرے خیال میں یہ ایک اچھا نکتہ ہے۔یہ وعدہ پورا کرنے والا عزم لگتا ہے مگر اس بارے میں ابھی کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ہم زمینی حقائق کا جائزہ لیں گے اور جب تک جنگلات کی کٹائی رک نہیں جاتی اس وقت تک ہم اس کمپنی کے عزائم کو اچھا نہیں کہہ سکتے”۔
سوال”اے پی پی نے ایک گروپ کو جنگلات کے تجزئیے کا کام سونپا ہے، کیا وہ گروپ قابل اعتبار ہے؟ آداتیہ بائیہ نندیا” ہم صرف غیر جانبدار تیسرے فریق پر ہی اعتماد کرسکتے ہیں، جہاں تک اس گروپ Forest Trust کی بات ہے تو یہ ایک مشاورتی کمپنی لگتی ہے جس نے اے پی پی سے معاہدہ کیا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ ہم اسے غیرجانبدار تیسرا فریق قرار دے سکتے ہیں”۔