ایک جاپانی کمپنی نے برمی شہر ینگون کے تباہ حال انفراسٹرکچر کو بحال کرنے کیلئے ایک ماسٹرپلان تیار کیا ہے، جس کے ذریعے ٹرانسپورٹیشن، سیوریج، فراہمی آب اور کچرا ٹھکانے لگانے جیسے کاموں پر توجہ دی جائے گی، تاہم سب سے بڑا مسئلہ ٹریفک جام ہے، تاہم جاپانی کمپنی صورتحال کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کیلئے پرعزم ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
روزانہ بس ڈرائیورزا لِن اونگ ینگون کی پرہجوم سڑکوں پر سفر کرتا ہے، اس کی بس ہمیشہ گنجائش سے زیادہ بھری ہوتی ہے، اور اسے ٹریفک جام کے باعث گھنٹوں سڑک پر اتنظار کرنا پڑتا ہے۔
اونگ”شہر کی متعدد بسیں قصبوں سے آتی ہیں، یہاں بہت زیادہ ٹیکسیاں بھی چلتی ہیں، جس کی وجہ سے سڑکیں بلاک رہتی ہیں”۔
ٹریفک مسائل سے تنگزا لین اون نے ایک ٹرانسپورٹیشن ورکرز یونین قائم کی، تاکہ ٹریفک کی صورتحال کو بہتر بنانے کا طریقہ کار تیار کیا جاسکے۔
اونگ”شہر کی بسوں کو چھوٹی منی بسوں سے تبدیل کیا جائے، ہائی وے کا سسٹم قائم کیا جائے، ہمیں ایک ماسٹرٹریفک پلان کی اشدضرورت ہے”۔
ینگون کی آبادی اس وقت پچاس لاکھ ہے جو 2030ءتک ایک کروڑ تک ہونے کی توقع ہے، ٹیکسی ڈرائیورکو تن کا کہنا ہے کہ شہر آبادی کی توسیع سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے میں ناکام ہے۔
کوتن”دیگر ترقی پذیر ممالک جیسے کوریا میں پہلے ٹرانسپورٹ سسٹم پر کام شروع کای جاتا ہے، اس کے بعد اقتصادی فوائد پرتوجہ دی جاتی ہے”۔
حال ہی میں جاپان کی انٹرنیشنل کارپوریشن ایجنسی نے اعلان کیا کہ وہ برمی حکومت کیساتھ ملکر ینگون کے تباہ حال انفراسٹرکچر کی دوبارہ تعمیر کیلئے ایک ماسٹرپلان پر کام کررہی ہے، جس میں پانی، سیوریج، ماحولیات اور کچرے کیساتھ ساتھ ٹریفک کے مسئلے پر بھی توجہ دی جائے گی، اس حوالے سے سب سے پہلے پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم میں بہتری لائی جائے گی، جاپانی کمپنی حکومت کیساتھ ملکر ایک بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم قائم کرنا چاہتی ہے،
تاکہ ٹریفک جام کا مسئلہ کچھ کم کیا جاسکے۔ اس منصوبے کے تحت ینگون کی پرانی سرکلر ریولے کی بھی تشکیل نو کی جائے گی اور اسے ٹرانسپورٹ سسٹم کا لازمی حصہ بنایاج ائے گا، اس کے علاوہ پارکنگ قوانین میں بہتری لائی جائے گی، اور بس ڈرائیورز کو تربیت بھی دی جائے گی۔ہلا اونگ، رنگون کمیٹی آف موٹرزکے صدر ہیں۔
ہلا”اس منصوبے کے تحت ٹریفک قوانین پر عمل کیا جائے گا اور لوگوں کو اس بارے میں تعلیم دی جائے گی”۔
اس ماسٹر پلان پر عملدرآمد کا تخمینہ 25 ارب ڈالرز لگایا گیا ہے اور توقع ہے کہ اس پر کام 2040ءتک مکمل ہوگا۔