ملائیشین شہر پینینگ اور مالاکا کو یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کررکھا ہے، تاہم اب مالاکا کا ایک چھ سو سال قدیم گاﺅں کا ثقافتی ورثہ ترقیاتی منصوبوں کے باعث خطرے کی زد میں ہے، اسی بارے میں سنتے ہیںآج کی رپورٹ
تین سو کے قریب افراد کیمپونگ بدایا چیئتے میں مقیم ہیں، اس برادری کے لوگ چھ سو سال قبل تاجر کی حیثیت سے جنوبی بھارت سے یہاں آئے تھے، یہاں آکر انھوں نے مقامی افراد سے شادی کرکے دیگر ملائیشین قومیتوں سے اپنا تعلق مضبوط کیا، ایس کے پلے نامی ایک رہائشی اس بارے میں بتارہا ہے۔
ایس کے”ہم چینی افراد کیساتھ بہت اچھی طرح گھل مل گئے، ہم ملائے اور دیگر مقامی افراد کیساتھ بھی اچھے تعلقات بنانے میں کامیاب رہے، ہمارے آباءو اجدادنائے اونا خاندان کے بہت قریب آگئے تھے”۔
اگرچہ متعدد نوجوان یہاں سے دیگر جگہوں پر منتقل ہوچکے ہیں، تاہم ان کی روایات زندہ ہیں، اور اس برادری نے ایک ثقافتی میوزیم بھی قائم کررکھا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ گاﺅں ایک مقبول سیاحتی مقام سمجھا جاتا ہے۔ مگر ترقیاتی منصوبے اس کیلئے خطرہ بن گئے ہیں، گاﺅں کے راستے میں ایک بائیس سالہ عمارت اور سو فٹ لمبی شاہراہ کی تعمیر کا کام جاری ہے، حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس منصوبے سے گاﺅں متاثر نہیں ہوگا، تاہم رہائشی پلے اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔
پلے”ذرا سوچے کہ ایک بائیس منزلہ بلند عمارت، یا تین بلاکس پر پھیلی عمارت ایک بہت ہی پرانا مندر ہو، اور اس نئی عمارت کی تعمیر کیلئے پورے گاﺅں کو یہاں وہاں منتقل ہونا پڑا ہو، تو سوچے کے اس سے ارگرد کے ماحول پر کیا اثرات مرتب ہوں گے”۔
دو ہزار بارہسے اس گاﺅں کے رہائشی ترقیاتی منصوبے کی بندش کیلئے مہم چلارہے ہیں، اس جدوجہد نے میڈیا کی توجہ اپنی طرف مرکوز کرائی، جبکہ ایک این جی او کے تحت دارالحکومت کوالالمپور میں بھی احتجاجی مظاہرے۔اتھایا سینکر ایک سماجی رضاکار ہیں۔
اتھایا”ہم چپ رہنا نہیں چاہتے، ہم نے ایک گروپ بنایا ہے، ہمارا گروپ احتجاج کی بجائے اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ عوام کو مضبوط کیا جائے تاکہ وہ اپنے حق کیلئے آواز بلند کرسکیں”۔
گاﺅں کے رہائشی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے آباءو اجداد جنوبی بھارت سے یہاں آئے، مگر اب ملائیشیاءکو ہی اپنا گھر مانتے ہیں۔
پلے”کچھ افراد کہتے ہیں ہم بھارت واپس چلتے ہیں، مگر حقیقت تو یہ ہے کہ بھارت میں اب ہمارا کوئی نہیں، ہم بھارت کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، ہمارا وہاں نہ تو کوئی گاﺅں ہے اور نہ ہی کوئی رشتے دار، ہمارا گاﺅں اب یہی مالاکا میں ہے اور ہم اس سے الگ نہیں ہونا چاہتے”۔