ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ نے انڈونیشیاءمیں اپنا پہلا ماحولیاتی معلوماتی مرکز کھولا ہے، گزشتہ دہائی کے دوران انڈونیشیاءمیں جنگلات کی کٹائی کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ رہی، جس کے باعث جانوروں کی نسلیں ختم ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ اسی طرح شہری علاقوں کا فضلہ اور دریائی آلودگی بھی بڑے مسائل ہیں، ان مسائل پر قابو پانے کیلئے عالمی ادارے نے یہ مرکز کھولا ہے تاکہ نئی نسل کو اس حوالے سے تعلیم دی جاسکے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
رنگارنگ پتلیوں کے ذریعے ایک استاد ایک کچھوے کی کہانی بیان کررہا ہے کہ وہ کس طرح سمندر میں پھینکے جانے والے کوڑے کو کھا کر بیمار ہوگیا ہے، یہ استاد ورلڈ وائلڈ لائف کا ماحولیاتی معلم ہے۔ آٹھ سالہ فیریا اس کہانی کو دیکھ کر مسحور ہوچکی ہے۔
فیریا “دریا یا سمندر میں کچرا نہیں پھینکنا چاہئے، جانوروں کو مت ماریں، بلکہ ان کا خیال رکھیں۔ آپ دریا میں کچرا مت پھینکیں، اگر ہم ماحول کی فکر نہیں کریں گے تو وہ تباہ ہوجائے گا”۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف نے اسے پانڈا موبائل یونٹ کا نام دیا ہے، 2010ءسے یہ یونٹ انڈونیشین صوبے جاواکے اہم شہروں میں جاکر بچوں کو ماحولیات کے حوالے سے تعلیم دیتا ہے، یہ اساتذہ ایک ٹرک میں پہنچتے ہیں، جس پر انڈونیشیاءمیں بقاءکے خطرے سے دو چار جانور جیسے کچھوﺅں، ہاتھی، شیر، بن مانس اور گینڈوں وغیرہ کی تصاویر پینٹ کی گئی ہوتی ہیں۔اقبال حنیف آج کے پروگرام کے انچارج ہیں۔
اقبال”انڈونیشیاءمیں یہ مسئلہ بہت سنگین ہے، لوگوں نے جانوروں کے گھروں کو تباہ کردیا ہے، یعنی بن مانسوں، شیر اور ہاتھی وغیرہ کے رہنے کے مقامات ختم ہوتے جارہے ہیں، یہ ہمارا کام ہے کہ لوگوں کو اس بات کا احساس دلائے کہ ہمیں کس طرح جانوروں کی مستحکم زندگی میں مدد کرنی چاہئے”۔
انکا کہنا ہے کہ بچوں کے برعکس بڑی عمر کے افراد کے خیالات کو تبدیل کرنا بہت مشکل ہے۔
اقبال”ہوسکتا ہے کہ انہیں ماحولیاتی تباہی کی فکر ہی نہ ہو، کیونکہ اس کی سوچ اپنے بچوں اور دیگر مسائل تک ہی محدود رہتی ہے، اگر ہم بچوں کو سیکھائے کہ وہ اپنی ماﺅں کو کہیں کہ کچرا گھر سے باہر پھینکنے کی بجائے مناسب جگہ پر ڈالیں، تو وہ اپنی ماﺅں پر زور ڈال سکتے ہیں۔ ہم بچوں کے اندر ماحولیات کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا چاہتے ہیں”۔
یہ دوسری بار ہے کہ سری سریانی نے پانڈا موبائل یونٹ کو اپنے اسکول میں مدعو کیا ہے، انکا اسکول جکارتہ کے نواح میں واقع ہے۔
سری سریانی “ہمارے اسکول کا ایک خصوصی نصاب ہے، جس میں ماحولیاتی تعلیم کو بہت اہمیت دی گئی ہے، ہمیں اس معاملے پر فکرمند ہونا چاہئے، یعنی عالمی درجہ حرارت میں اضافہ وغیرہ پر، یہی وجہ ہے کہ ہم نے ڈبلیو ڈبلیو ایف کی ٹیم کو اپنے اسکول بلایا ہے تاکہ بچوں کو حقیقی ماحولیاتی تعلیم دے سکیں”۔
2010ءسے 2012ءکے انڈونیشیاءمیں ڈیرھ کروڑ ایکڑ پر پھیلے جنگلات کا صفایا کردیا گیا، جس سے جانوروں کی نسلوں کے خاتمے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، جبکہ شہروں میں کچرے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے نہ لگانے کا عمل بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ حکومتی سطح پر کچرے کو ری سائیکل کرنے کا کوئی نظام نہیں، مگر ڈبلیو ڈبلیو ایف بچوں کو کچرے کو قابل استعمال بنانا سیکھا رہا ہے۔
عالمی ادارے کے رضاکار راہادیان راجندر باسوے بچوں کو پرانے اخبارات اور دیگر اشیاءقابل استعمال بنانا سیکھا رہے ہیں۔
راہادیان راجندر باسوے “یہ چوتھی کلاس کے طالبعلم بچے ہیں، اسکول نے انہیں کچھ چیزیں بنانے کا کہا ہے، اس بارے یہ ایک ری سائیکل میٹریل سے بیگ بنارہے ہیں، ہم دستیاب میٹریل کو استعمال کررہے ہیں، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہم اس وقت پرانے اخبارات کو استعمال کررہے ہیں، اس میں ہم گلیو اور دھاگے کو شامل کرکے بیگ بناسکتے ہیں، تاکہ یہ اسے اسکول یا خریداری وغیرہ کیلئے استعمال کرسکیں”۔
بینڈنگ شہر کے قریب ہی ڈبلیو ڈبلیو ایف نے حال ہی میں ایک ماحولیاتی معلوماتی مرکز کھولا ہے، جو کہ انڈونیشیاءاپنی طرز کا پہلا ادارہ ہے، یہ ایک مقامی اسکول کے سامنے بنایا گیا ہے، اور ہر کمرے کو مختلف تھیمز ، کتابوں، معموں اور کمپیوٹر گیمز سے سجایا گیا ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے سربراہ ڈاکٹر افرانسجاہ یہ مرکز سب کیلئے ہے، مگر یہاں بچوں پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
افرانسجاہ”اس سے بچے اپنے فیصلے خود کرنے کے قابل ہوسکیں گے، تو ہمارا انحصار ان کی ذہینت اور مستقبل میں فطرت کی دولت کے حوالے سے ان کی سوچ پر ہوگا”۔
انڈونیشیاءمیں نیا قومی نصاب 2016ءمیں متعارف کرایا جائے گا، حکومت کا دعویٰ ہے اس کے ذریعے تعلیمی نظام کو سادہ بنادیا جائے گا۔ محکمہ تعلیم کے ترجمان ابنو حماد کا کہنا ہے کہ ہر مضمون میں ماحولیات کی تعلیم دی جائے گی۔
ابنو حماد”مثال کے طور پربہاسا زبان میں ہم ماحولیات کے بارے میں فطرت کی کہانی کے ذریعے پڑھائیں گے، جس کے بعد طالبعلم بہاسا میں اس مسئلے پر بات کرسکیں گے، تو ہم نے اپنی قومی زبان میں بھی اس مضمون کو شامل کردیا ہے، ثقافتی، قدرتی اور سجامی ہر طرح کے معاملات میں ہم اسے شامل کریں گے، ہم اس کی اصطلاحات کو بیشتر مضامین کا حصہ بنائیں گے”۔
مگر ڈبلیو ڈبلیو ایف کا ماننا ہے کہ یہ کافی نہیں، ان کا پانڈا موبائل یونٹ اس خلاءکو بھرنے کیلئے پرعزم ہے۔
اقبال حنیف”انڈونیشین عوام اب تک ماحولیاتی تعلیم کی اہمیت کو نہیں سمجھ سکیں، ہم گلیوں میں دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح لوگ کچرا سڑک پر پھینک دیتے ہیں، حالانکہ کافی جگہوں پر کچرا دان بھی موجود ہوتے ہیں، مگر وہ اس بات کا احساس نہیں کرتے کہ کچرا ٹھیک جگہ پر ہی پھینکا جانا چاہئے، ان کے خیال میں یہ اہم بات نہیں”۔
پانچ گھنٹے کی ماحولیاتی تعلیم کے بعدپیمبینگو نان جایا برنٹو اسکول کے طالبعلم لگ رہا ہے کہ کافی کچھ سیکھ چکے ہیں۔
ایک لڑکی کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی بہتری نہ ہونے پر ہم ہر قسم کے وسائل سے محروم ہوجائیں گے۔