McDonald’s Conquers New Terrain: Vietnamویت نام میں پہلا میکڈونلڈ ریسٹورنٹ

ویت نام میں پہلی بار میکڈونلڈ کا ریسٹورنٹ کھل گیا ہے، متعدد حلقے اسے ،اس کمیونسٹ ملک کے سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ بننے کا اشارہ مان رہے ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

فیتہ کاٹنے کی رسم اور رقص کے ذریعے ویت نام نے دارالحکومت ہو چی من سٹی میں پہلے میکڈونلڈ آﺅٹ لیٹ کو خوش آمدید کہا، ویت نامی عوام اس لمحے کا برسوں سے انتظار کررہے تھے، ریسٹورنٹ کے پہلے روز 34 سالہ کاروباری خاتون لائی تھی ٹووی سینکڑوں دیگر افراد کے ہمراہ قطار میں کھڑی بگ میک اور فرنچ فرائز خریدنے کی خواہشمند ہیں۔

لائی تھی ٹووی “میں بیرون ملک جاچکی ہوں اور مجھے وہاں میکڈونلڈ جانے کا بھی موقع ملا، تو جب مجھے پتا چلا کہ یہ کمپنی ویت نام آرہی ہے تو میں پرجوش ہوگئی۔ افتتاحی تقریب کے موقع پر میں اپنے بیٹے کو برگر چکھانے کیلئے لائی ہوں، کیونکہ وہ اس طرح کے فاسٹ فوڈ کو پسند کرتا ہے، ویت نام میں جو بھی نئی چیز آتی ہے ہم اس کو استعمال کرنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں”۔

ویت نام میں میکڈونلڈ کا پہلا ریسٹورنٹ چوبیس گھنٹے کھولا رہتا ہے، اور یہ ڈرائیور تھرو بھی ہے۔ بیشتر ویت نامی افراد نے کبھی ڈرائیو تھرو کا نام تک نہیں سنا تھا، تاہم انہیں قطار میں کھڑے ہونے سے نفرت ہے، اس لئے میکڈونلڈ کا عملہ اس حوالے سے ان کی مدد کرتا ہے۔

ڈون تھمپسن میکڈونلڈ کمپنی کے امریکی چیف ایگزیکٹو ہیں۔

ڈون”یہ ویت نام کا پہلا ڈرائیو تھرو ہے، سننے میں یہ مجھے کافی خاص لگتا ہے”۔

ڈون تھمپسن سرمائی اولمپکس کے سلسلے میں روس سے ویت نام پہنچے، یہ عالمی مقابلے میکڈونلڈ اسپانسر کررہا ہے۔

ڈان”میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ ایک اسکوٹر پر کس طرح ڈرائیو تھرو کا تجربہ کیا جاسکتا ہے، میں نے ایسا دنیا کے کسی مقام پر ہوتے نہیں دیکھا”۔

ویت نام ایشیاءکا 38 واں ملک ہے جہاں میکڈونلڈ کی شاخیں کھل گئی ہیں، مجموعی طور پر وہ ایشیاءمیں دس ہزار سے زائد ریسٹورنٹس کھول چکی ہے، میکڈونلڈ نے ویت نامیوں کیلئے ایک نیا سینڈوچ بھی تیار کیا ہے، ہنری نگوئین اس حوالے سے بتارہے ہیں۔

ہنری نگوئین “پورک ویت نام کی خوراک کا لازمی جزو ہے، ہم اپنی مصنوعات ہر ایک کیلئے خاص بنانا چاہتے ہیں، اسی لئے ہم نے اس ریسٹورنٹ میں مک پورک تیار کیا، ہمیں توقع ہے کہ ویت نام میں اسے نہ صرف پسند کیا جائے گا بلکہ یہ بھی امید ہے کہ دنیا بھر میں اسے متعارف کرایا جاسکے گا”۔

ویت نام میں امریکی سفیر ڈیوڈ شیئر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کیا۔

ڈیوڈ شیئر”میکڈونلڈ نہ صرف اچھا کھانا فراہم کرتا ہے، بلکہ یہ بہترین ویت نامی سپلائر نیٹ ورک بھی تشکیل دے گا۔اس سے ورلڈ کلاس سپلائی چین تشکیل پائے گی اور ویت نام کی آئندہ نسل کو تربیت ملنے سے بہترین انتظامی رہنماءسامنے آئیں گے”۔

تاہم سب میکڈونلڈ کی آمد سے خوش نہیں، بلکہ کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ اس سے صرف ویت نام میں موٹاپے اور ذیابیطس کی شرح میں ہی اضافہ ہوگا۔ تاہم کمپنی
کے سنیئر نائب صدربوب لارسن ان دعوﺅں کو مسترد کرتے ہیں۔

بوب لارسن”ہم قوت بخش اور متوازن مصنوعات تیار کرتے ہیں”۔

کھانے پینے کی عادات کیساتھ ویت نامی معیشت بھی تبدیل ہورہی ہے، متعدد امریکی ساختہ فاسٹ فوڈ چینز ویت نام میں کام کررہی ہیں، کے ایف سی تو 1997ءسے یہاں موجود ہے، جبکہ اسٹار بکس گزشتہ سال اور اب میکڈونلڈ بھی یہاں آچکے ہیں۔سین نجیو ویویت نام فرنچائز کے ڈائریکٹر ہیں، انکا کہنا ہے کہ میکڈونلڈ کی آمد سے اعلیٰ طبقے میں سرمایہ دارانہ رجحان بڑھنے کی عکاسی ہوتی ہے۔

سین “یہ ملک جیسا آپ کو معلوم ہے کہ کمیونسٹ ہے، مگر یہاں کی معیشت میں کافی لچک پائی جاتی ہے، یہ حکومتی کنٹرول سے زیادہ سرمایہ دارانہ نظام سے مماثلت رکھتی ہے، درحقیقت یہاں نجکاری کی شرح تیز ہوچکی ہے اور یہاں وہی ہورہا ہے جو چین میں دس پندرہ سال پہلے ہوا تھا۔ تو آپ جو دیکھ رہے ہیں درحقیقت یہ سرمایہ دارانہ نظام کا تبدریج غلبہ ہے”۔