Yoko Tawada: Writer in Two Tonguesدو زبانوں میں لکھنے والی جاپانی مصنفہ

ناول نگار اور شاعرہ یو کو توادااپنے آبائی ملک جاپان اور اپنے نئے گھر جرمنی میں بہت مقبول ہیں، حال ہی میں ان کی نئی کتاب منظرعام پر آئی ہیں، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ یوکو توادا ایک ایسی مصنفہ ہے جو دو ثقافتوں میں بٹی ہوئی ہیں، یعنی آدھی جاپانی اور آدھی جرمن، تیس برس بعد بھی وہ اس فرق کیخلاف لڑ رہی ہیں۔

یوکو توادا”یہ بالکل ایسی دو شخصیات کی طرح ہٰں، جو ایک نہیں ہونا چاہتی، وہ صرف ایک کہانی بیان نہیں کرنا چاہتیں، میں اپنی دونوں شخصیتوں کو اکھٹا نہیں کرسکی، مجھے تو یہ ناممکن لگتا ہے”۔

یوکو توادا نے سوئیڈن میں اپنی 23 ویں کتاب دی نیکڈ آئی متعارف کرائی، جو کہ جاپان سے جرمنی تک ان کے اپنے ٹرین سفر کے تجربات پر مشتمل ہے۔

یوکو”میں جاپان سے یورپ ٹرانسبریئن ریلوے کے ذریعے آئی، یہ ایک سست سفر تھا، جس کے دوران آپ سربیا اور دیگر متعدد شہروں سے جاپان سے یورپ کے سفر کے دوران گزرتے ہیں”۔

یوکو توادا ایشیاءاور مغرب دونوں کے درمیان لٹکی ہوئی ہیں، جرمنی منتقل ہونے کے بعد انھوں نے دیکھا کہ جرمن افراد اپنے معاملات کو جاپانیوں سے بالکل مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔

یوکو توادا”جرمن افراد اپنے مسئلے کے مطابق دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ چیزوں پر تنقید کرتے ہیں اور سوالات کا جواب جاننے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ کوئی مناسب حل نکالا جاسکے”۔

مگر جاپان میں ایسا نہیں، وہاںکنفیو ژزم کی جڑیں گہری ہیں، اور وہاں مختلف امور پر نرم سوچ کو اختیار کیا جاتا ہے۔

یوکو”وہاں آپ مسئلے کے حل کیلئے دنیا کو ایک لازمی جزو سمجھتے ہیں”۔

انکا کہنا ہے کہ یورپ میں چیزوں پر براہ راست غصہ نکال دیا جاتا ہے، جبکہ جاپان میں ایسا نہیں ہوتا۔

یوکو”جاپانی روایتی آلات جیسے لکھنے کیلئے قلم یا پکانے کیلئے چاقو وغیرہ، ان سب کا بہت احترام کیا جاتا ہے، انہیں ایک منفرد شخصیت سمجھا جاتا ہے، تو آپ انہیں کچھ برا بھلا نہیں کہتے، اگر کوئی غلط ہے تو وہ آپ ہیں، آپ کا قلم یا چاقو نہیں”۔

نیکلاس برومن اس وقت جاپانی مصنفہ کی کتاب پر آٹو گراف لینے کیلئے جمع قطار میں کھڑے ہیں۔

نیکلاس برومن “ایک یورپی ہونے کے ناطے میں ان سے اپنا تعلق محسوس کرتا ہوں، تاہم کئی بار لگتا ہے کہ ہمارا تعلق زیادہ بہتر نہیں”۔

یوکو تواداکی کتاب کی تعارفی تقریب جرمن گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کے زیرتحت ہوئی، جس میں کتاب پر مباحثہ بھی ہوا، اس طرح کے ایونٹس جاپان میں نہیں ہوتے،یوکو تواداکا کہنا ہے کہ جاپان میں ذاتی تجربات اس طرح لوگوں سے شیئر نہیں کئے جاتے۔

یوکو توادا”جاپان میں قارئین مصنف سے اس طرح سوالات نہیں پوچھتے، اس لئے ان کے پاس سوالات کے جواب نہیں
ہوتے، وہاں تو بس آپ کو لکھنا ہوتا ہے”۔

یوکو توادانے متعدد افراد جیسے منیکو وانیلر کو اپنے انداز تحریر سے متاثر کیا ہے۔

منیکو وانیلر “میرا بھی خواب ہے کہ سوئیڈش اور جاپانی دونوں زبانوں میں لکھوں، اور میں کئی بار تحاریر کا ترجمہ بھی کرتی ہوں، تو میں سوچتی ہوں کہ اگر میں اس میدان میں کوشش کروں تو کیا یوکوکی طرح بن سکوں گی”۔

یو کو تواداکا کہنا ہے کہ دو زبانوں میں لکھنا آسان نہیں، مگر اس کا بہت خصوصی انعام ملتا ہے۔

یوکو توادا”جب میں جرمن زبان میں سوچتی ہوں تو وہ ایک ڈائیلاگ کی طرح ہوتا ہے، میرے دماغ میں دو افراد ہوتے ہیں، جو کسی چیز پر تبادلہ خیال کررہے ہوتے ہیں، جاپانی زبان میں سوچنے کے دوران میں خودکلامی کرتی ہوں”۔