پچاس سال میں پہلی بار برما یا میانمار میں نجی اخبارات کی اشاعت کا آغاز ہوگیا ہے، اب تک سولہ اخبارات کو لائسنس جاری کئے گئے ہیں، جبکہ دیگر اجازت نامے ملنے کے منتظر ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
برما میں روزناموں پر ریاستی اجارہ داری لگ بھگ نصف صدی کے بعد ختم ہوگئی،پبلشرز طویل عرصے سے اس دن کا انتظار کررہے تھے کہ کب انہیں بغیر کسی ڈر کے اپنا اخبار شائع کرنے کا موقع ملے۔چار نجی اخبارات نیوز اسٹینڈز پر پہنچ گئے ہیں، جبکہ دیگر بارہ کی اشاعت کی تیاریاں جاری ہیں۔کیا و کیا و من ،دی ایکسپریس ٹائم جنرل کے چیف ایڈیٹر ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ یہ موقع پرجوش صحیح تاہم کچھ تحفظات تاحال موجود ہیں۔
کیا وا”اگرچہ ہر شخص اس وقت اپنے اخبار کیلئے حکمت عملی اور منصوبہ بندی کررہا ہے، تاہم اب بھی کئی چیلنجز کا ہمیں سامنا ہے”۔
تاہم اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ برما میں یہ اظہار رائے کی آزادی کی جانب ایک اہم سنگ میل ضرور ہے۔
گزشتہ برس میڈیا سنسرشپ قوانین میں نرمی کے بعد اخبارات نے روزانہ کی بنیاد پر اشاعت شروع کرنے میں کئی ماہ لگادیئے، جبکہ کچھ اخبارات کو کئی برس بھی لگ سکتے ہیں۔ وے پیہو، الیون میڈیا گروپ کے چیف ایڈیٹر ہیں۔
وے”ہم نے فوراً ہی روزناموں کی اشاعت شروع نہیں کردی تھی، بلکہ اب ہم نے انکا اجراءاس وقت کیا، جب دو برسوں میں تبدریج اس کیلئے تیار ہوگئے”۔
لاجسٹک لحاظ سے بھی ایک روزنامے کی اشاعت کوئی آسان کام نہیں۔
اخبار کے آغاز کیلئے زیادہ صحافیوں کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ اخبارات کو بھرا جاسکے۔ تھورا اونگ، میسنجر نیوز جنرل کے ایڈیٹر ہیں۔
تھورا”ہمارا عملہ نوے سے سو افراد پر مشتمل ہے، جن میں انتظامی اور پرنٹر ٹیکنیشن بھی شامل ہیں”۔
، میسنجر نیوز جنرل نے اپنے ادارے کے اندر ایک روزنامہ جاری کیا ہے تاکہ اپنی ٹیم کو تربیت دے سکے، یہ لوگ کام کیلئے حکمت عملیاں، اصول و ضوابط اور چیلنجز کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اخبارات کی تقسیم بھی ایک بڑا چیلنج ہے، خصوصاً برما کے دیہی علاقوں میں جہاں انفراسٹرکچر نظام ناقص ہے۔
تھورا”اخبارات کی تقسیم کوئی آسان کام نہیں، جس کی وجہ دیہی علاقوں میں ٹرانسپورٹ کا ناقص نظام ہے۔ تاہم ہم ہر اس علاقے میں اخبار تقسیم کررہے ہیں جہاں ہماری رسائی ممکن ہے، اس وقت ہم اراواددے ، پیگو، نے پیداو، منڈالے اور رنگون وغیرہ میں اخبارات کی تقسیم کے بارے میں سوچ رہے ہیں”۔
دیگر اشاعتی اداروں کے پاس افرادی قوت تو موجود ہے مگر وہ لوگ دیگر روزناموں کی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ کیا و کیا و من اس بارے میں بتارہے ہیں۔
من”ہم تمام فوائد اور نقصانات کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں، ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ کس طرح یہ اخبارات مارکیٹ میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے ہیں، ہمیں اخبارات کی تقسیم میں متعدد مسائل کا سامنا ہے اور ہم انتظار کررہے ہیں کہ دیگر اخبارات اس کا کیا حل نکالتے ہیں، اور کیا واقعی ان کا تجویز کردہ حل موثر اور کامیاب ثابت ہوتا بھی ہے یا نہیں”۔
اخراجات ایک اور مسئلہ ہے، نجی اخبارات کا مقابلہ سرکاری روزناموں سے ہے۔ جن کی قیمت پانچ امریکی سینٹ ہے، وائے پیہواس بارے میں بتارہے ہیں۔
وے پیہو”حکومت اپنے اخبارات سستی قیمت پر فروخت کرسکتی ہے کیونکہ ان روزناموں کو حکومت سے بجٹ اور فنڈز ملتے ہیں، تاہم نجی اخبارات کو اپنے اخراجات پورے کرنے اور ٹیکس کی ادائیگی کیلئے قیمت زیادہ رکھنا پڑتی ہے”۔
ایک اخبار ہاکر کا کہنا ہے کہ اشاعتی اداروں کو موثر کاروباری ماڈل تیار کرنا چاہئے۔
نیوز پیپر ڈسٹری بیوٹر”ساری اہمیت قیمت کی ہے اور یہی سب سے ضروری ہے۔ میں اس وقت زیادہ مطمئن ہوگا جب وہ اپنی قیمت کم کریں گے تاہم مجھے نظر آرہا ہے کہ یہ بہت مشکل ہے۔ ان اداروں کو کم ازکم ایک سال تک مشکلات کا سامنا ہوگا، تاہم سال کے اختتام تک ان کی صورتحال مستحکم ہوجائے گی”۔
دی میسینجر میں بحث جاری ہے کہ روزانہ کتنی کاپیوں کی اشاعت ہونی چاہئے، یہ ادارہ اپنے اخبار کی قیمت
مناسب رکھنا چاہتا ہے تاکہ ہرکوئی اسے خرید سکے۔تھورا اونگ اس بارے میں بتارہے ہیں۔
تھورا اونگ”اب جب اجازت مل چکی ہے تو جلد یا بدیر ہم عوام تک رسائی حاصل کرہی لیں گے، تاہم ابھی ہمارے لئے یہ بتانا مشکل ہے کہ کس تاریخ کو ہمارا اخبار شائع ہوجائے گا، ہمیں کئی چیلنجز اور مسائل کا سامنا ہے تاہم ہم پراعتماد ہے کہ ان پر قابو پاکر اخبار کی اشاعت کو ممکن بناسکیں گے”۔