Foreign Maids say Hong Kong Court Ruling is Socially Exclusive – ہانگ کانگ کے غیرملکی گھریلو ملازمین

ہانگ کانگ کی اعلیٰ عدلیہ نے حال ہی تاریخ ساز فیصلہ سناتے ہوئے گھریلو ملازموں کو رہائشی حقوق نہ دینے کی ہدایت کی ہے۔ یہ فیصلہ پانچ رکنی بینچ نے سنایا جس کے بعد گھریلو ملازمین کی ہانگ کانگ کا مستقل شہری بننے کا خواب چکناچور ہوگیا ہے۔سماجی گروپس کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف امتیازی بلکہ انہیں سماجی طور پر مخصوص طبقہ بنادینے کے مترادف ہے۔ اسی سلسلے میں ایشین مگرینٹس کو آرڈینیٹنگ باڈی کی ترجمان اینی لیسٹاری کا انٹرویو سنتے ہیں آج کی رپورٹ میں۔

اینی لیسٹاری”یہ بہت افسوسناک اور مایوس کردینے والا فیصلہ ہے، عدالت نے ہانگ کانگ کے دیگر اداروں کو اس امتیازی سلوک کرنے کی کھلی چھٹی دیدی ہے، جو کہ پہلے ہی ہانگ کانگ کی حکومت کی عادت ہے۔ اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہانگ کانگ میں غیرملکی ملازمین سے امتیازی سلوک کرنے کی پوری آزادی ہے، اب یہاں ان غیرملکی ملازمین کو ہانگ کانگ کی مستقل شہریت نہیں مل سکتی”۔

سوال”آپ نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ گھریلو ملازمین کیلئے مایوس کن ہے، تاہم ان کے معاہدے میں اس بات کی ضمانت نہیں دی جاتی کہ انہیں ہانگ کانگ کی مستقل شہریت فراہم کی جائے گی”۔

اینی لیسٹاری”نہیں ان کے معاہدے میں صرف مالکان کے گھر میں گھریلو ملازمین کی طرز زندگی کی شرائط بیان کی گئی ہے، اس میں یہ شق موجود نہیں کہ انہیں ہانگ کانگ کی مستقل رہائش فراہم کی جائے گی، یہی ہانگ کانگ کی امیگریشن پالیسی ہے، گھریلو ملازمین واحد بڑا شعبہ ہے جس میں مستقل رہائش کا حقوق فراہم نہیں کیا جاتا”۔

سوال”کیا آپ کے خیال میں دیگر ممالک سے ہانگ کانگ آنے والے یہ گھریلو ملازمین شہریت کے حصول کے خواہشمند ہوتے ہیں؟

اینی لیسٹاری”متعدد غیرملکی ورکرز تو ایسے ہیں جو ہانگ کانگ کی شہریت حاصل کرنے کے خواہشمند نہیں، ان میں انڈونیشن بھی شامل ہیں۔ میں ایسا اس لئے کہہ رہی ہوں کیونکہ میں خود بھی انڈونیشین ہوں، ہمارے بیشتر ساتھی گھر واپس جانے کے خواہشمند ہیں، بس چند ایک ہی یہاں مستقل رہائش کا خواب دیکھتے ہیں۔مگر مسئلہ یہ ہے کہ وہ شہریت کے حصول کیلئے درخواست دے ہی نہیں سکتے، چاہے وہ کتنے بھی صلاحیت ہوں مگر وہ درخواست دینے کے قابل ہی نہیں۔ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ جب ہم نے ماتحت عدلیہ میں یہ مقدمہ جیتا تھا تو ایک ہزار سے بھی کم درخواستیں محکمہ امیگریشن کے پاس جمع کرائی گئیں”۔

سوال”آپ کہنا چاہ رہی ہیں کہ ہانگ کانگ انتظامیہ دہرے معیار کا مظاہرہ کررہی ہے، کیا غیرملکی ورکرز کو اس بارے میں فکرمند ہونا چاہئے؟

اینی لیسٹاری”جی ہاں ورکرز کو دہرے معیار کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس سے قطع نظر بھی کریں تو بھی یہ انہیں سماجی طور پر محدود کرنے کی کوشش ہے۔ یہ غیرملکی گھریلو ملازمین ہانگ کانگ کے خاندانوں کی مدد کرتے ہیں، یہ ہانگ کانگ کی معیشت کی مدد کررہے ہیں، تاہم چونکہ یہ غیرملکی ورکرز ہیں اس لئے انہیں طبقاتی عدم مساوات کا سامنا کرنا پڑتا ہے”۔

سوال”میرے خیال میں اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت ہانگ کانگ میں تین لاکھ سے زائد گھریلو ملازمین موجود ہیں۔

اینی لیسٹاری”جی ہاں مگر یہ بھی یہ حقیقت ہے کہ تعداد کی کوئی اہمیت نہیں، یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ قانون میں کہا گیا ہے کہ جو غیرملکی قانونی طور پر ہانگ کانگ آتے ہیں اور یہاں پرامن زندگی اور مناسب ملازمت کرتے ہیں، وہ قانون کی نظر میں مقامی شہریوں کے برابر ہیں۔مگر جب اس قانون پر عملدرآمد کی بات آتی ہے تو غیرملکی گھریلو ملازمین قانون کی نظروں میں برابر نظر نہیں آتے”۔

سوال” ایوانجلائن ولی جووس نامی فلپائنی ملازمہ کے بارے میں کیا خیال ہے،جس نے یہ مقدمہ دائر کیا، جو 1986ءسے ہانگ کانگ میں مقیم ہے، اس کے لئے یہ فیصلہ کیا معنی رکھتا ہے؟

اینی لیسٹاری”ہم نے آج وکیل سے بات کی ہے، ہماری ایوینجلائن سے ملاقات نہیں ہوئی، جس کی وجہ یہ ہے کہ عوامی طورپر سامنے نہیں آنا چاہتی، تاہم اس کے وکیل کا کہنا ہے کہ ایوینجلائن بہت اداس ہے اور وہ اسے غیرمنصفانہ فیصلہ مانتی ہے”۔

سوال”ہانگ کانگ کے متعدد شہریوں کو لگتا ہے کہ اس شہر کی آبادی پہلے ہی بہت زیادہ ہوچکی ہے اور یہاں غیرملکی ملازمین کو شہریت دینے کی گنجائش موجود نہیں، تاہم آپ اس خیال کے بارے میں کیا سوچتی ہیں؟

اینی لیسٹاری”میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ مالکان سمیت ہانگ کے متعدد شہریوں کو غیرملکی ملازمین کے حقوق تسلیم کئے جانے کا خوف لاحق ہے، وہ بہت خوفزدہ ہیں، جس کی وجہ حکومت کی جانب سے انہیں گمراہ کن اطلاعات فراہم کیا جانا ہے، یہاں تک کہ سیاسی جماعتوں کا رویہ بھی معتصبانہ ہے، یہ جماعتیں عوام کو کہتی ہیں کہ اگر ہم نے غیرملکی ورکرز کو ہانگ کانگ کا رہائشی بننے کی اجازت دی، تو ایک لاکھ پچیس ہزار افراد اس کیلئے درخواستیں دیں گے، جبکہ ان کے خاندان اور بہت سارے بچے بھی یہاں آجائیں گے۔ مگر کیا واقعی غیرملکی ورکرز کی بڑی تعداد یہاں کی شہریت چاہتی ہے؟ زمینی حقیقت تو یہ ہے کہ ان ورکرز کی بڑی تعداد واپس اپنے گھروں کو جانے کی خواہشمند ہے”۔