کوکوکو رینہ جیسے سینکڑوں لازوال گیتوں کو گانے والے پاکستان کے معروف فلمی گلوکار احمد رشدی انیس سو اڑتیس کو حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے۔ احمد رشدی 1954ءمیں حیدر آباد دکن سے ہجرت کر کے پاکستان آئے۔ انہوں نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز ریڈیو پاکستان کراچی سے شروع کیا۔احمد رشدی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے 1955ءمیں دیگر گلوکاروں کے ساتھ مل کر پاکستان کا قومی ترانہ پہلی مرتبہ گایا تھا۔
انہوں نے فلم انوکھی کے مقبول عام گانے ” بندر روڈ سے کیماڑی میری چلی ہے گھوڑا گاڑی “ سے شہرت حاصل کی۔تاہم 1961ءمیں لاہور آنے کے بعد فلم سپیرن کے گیت چاند سا مکھڑا گورا بدن، اور اگلے سال فلم مہتاب کے گیت گول گپے والا آیا گول گپے لایا نے احمد رشدی کو صف اول کا گلوکار بنادیا۔اس کے بعد انھوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اورپلے بیک سنگنگ میں ان کے انداز کی انفرادیت ہمیشہ قائم رہی۔
یوں تو احمد رشدی نے لالی ووڈ کے تمام ہیروز کے لئے گیت گائے لیکن چاکلیٹ ہیرو وحید مراد پر ان کی آواز کو موزوں ترین قرار دیا گیا۔ دونوں فنکاروں کے تال میل سے فلم ارمان کا گیت “اکیلے نہ جانا”کو کون بھول سکتا ہے۔اسی طرح “کچھ لوگ روٹھ کربھی”، “اے ابر کرم آج اتنا برس “ایسے بھی ہیں مہربان” جیسے سینکڑوں نغمے وحیدمراد کی بے مثال اداکاری اور احمدرشدی کی گائیگی کی بدولت امرہوگئے۔
1963ءسے 1977ءکا دور احمد رشدی کے عروج کا عہد تھا۔اسی عرصے میں انھوں نے فلم خاموش رہو کے لئے حبیب جالب کی غزل میں نہیں مانتا گا کر حبیب جالب کو بھی پاکستان بھر میں مشہور کردیا۔
اس کے علاوہ اس عرصے میں انھوں نے، “کیا ہے جو پیار تو بنھانا پڑے گا”، یا “دل کو جلانا ہم نے چھوڑدیا”، “کبھی تو تم کو یاد آئیں گے وہ نظارے” اور تجھے اپنے دل سے کیسے میں بھلا دوں جیسے یادگار گیت گائے۔
احمدر شدی کو پاکستان کا پہلا پاپ سنگر ہونے اور سب سے زیادہ فلمی نغمے گانے کا اعزازحاصل ہے،11اپریل 1983ءکو ، آج ہی کے دن احمد رشدی کی رسیلی آواز ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئی۔انہیں بعدازمرگ حکومت کی جانب سے ستارہ امتیازکے اعزاز سے نوازگیا تھا۔آج وہ ہم میں نہیں تاہم ان کے گائے ہوئے گیت ہر دور کے سننے والوں کو محظوظ کرتے رہیں گے۔