تاریخ میں پہلی بار ملائیشیاءمیں کم از کم تنخواہوں کی حد مقرر کردی گئی ہے، جس سے 32 لاکھ مزدوروں کو فائدہ ہوگا۔ مزدوروں میں اس اعلان پر جشن منایا جا رہا ہے، تاہم صنعتکار حکومتی اعلان سے ناخوش ہیں۔
تیس سال سے زائد عمر کی Jenny Fransesca مشرقی ملائیشین شہر Sarawak کے ایک ہوٹل میں کل وقتی ملازمت کے باوجود اپنے گھر کے اخراجات پورے کرنے سے قاصر تھیں، یہی وجہ ہے کہ انھوں نے فارغ اوقات میں وکالت کی تعلیم حاصل کی اور اب وہ ایک اچھی ملازمت کررہی ہیں، انکا کہنا ہے کہ غیر تربیت یافتہ افراد کے لئے حالات زیادہ اچھے نہیں۔
(female) Jenny Fransesca “اگر آپ غیر تربیت یافتہ مزدور ہیں، تو آپ کو ملنے والی تنخواہ بہت کم ہوگی، چاہے آپ کسی بڑے فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں ہی کام کیوں نہ کررہے ہوں، آپ کو ملائیشیاءکی کرنسی میں فی گھنٹہ تین ringgit ہی ادا کئے جاتے ہیں، جو کہ ماہانہ چار سو ringgit بنتے ہیں، بیشتر خاندانوں کے اخراجات کیلئے یہ آمدنی ناکافی ہے۔یہ چند برس پہلے کی بات ہے، مگر اب بھی صورتحال میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے۔ تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، بلکہ اب تو کمپنیاں غیرملکی مزدوروں کو کم اجرت پر بھرتی کرنے لگی ہیں”۔
مگر اب حالات میں تبدیلی آئے گی، کیونکہ گزشتہ دنوں وزیراعظم نجیب رزاق نے اعلان کیا تھا کہ ملائیشیاءمیں کم از کم تنخواہیں 270 سے 300 امریکی ڈالرز تک ہوں گی۔ ابھی کم از کم تنخواہ کے اطلاق کیلئے کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا، مگر جب بھی ایسا ہوا تو بیشتر کمپنیوں کو اپنے ملازمین کو چھ ماہ کے واجبات ادا کرنے ہوں گے، اس قانون کا اطلاق حکومتی اور نجی دو نو ں اداروں پر ہوگا۔ اس خبر نے چند حلقوں کو پریشان کردیا ہے، کیونکہ انکا ماننا ہے کہ تنخواہیں بڑھانے پر لاکھوں افراد کو ملازمتوں سے فارغ بھی کیا جاسکتا ہے۔ Shamsuddin Bardan، Malaysian Employers Federation کے ڈائریکٹر ہیں۔ وہ بتارہے ہیں کہ اس فیصلے سے چھوٹی کمپنیوں کو کن مشکلات کا سامنا ہوگا۔
شمس الدین(male) “ملائیشیاءمیں بیشتر کمپنیاں اپنی مصنوعات کی قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار نہیں رکھتیں، ان کے صارفین ہی مصنوعات کی قیمتیں مقرر کرتے ہیں۔ یہ کمپنیاں اضافی اخراجات کا بار اپنے صارفین پر نہیں ڈال سکتیں، جبکہ ان کا شرح منافع بھی زیادہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کمپنیوں کیلئے تنخواہوں میں اسی فیصد اضافہ بہت بڑا چیلنج ثابت ہوگا”۔
شمس الدین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ تنخواہوں میں اضافہ ملائشین عوام کیلئے فائدہ مند ہے، تاہم انکے خیال میں کمپنی مالکان کو اس پالیسی پر عملدرآمد کیلئے زیادہ وقت دیا جانا چاہئے۔
شمس الدین(male) “اگر حکومت اس پالیسی پرعملدرآمد یقینی بنانے کیلئے کمپنی مالکان کو تین سال کا وقت دے، تو وہ پہلے سال تیس فیصد اضافہ کرسکتے ہیں، دوسرے سال بھی تیس فیصد جبکہ تیسرے سال یہ اضافہ حکومتی اعلان کے مطابق کیا جاسکتا ہے، تاہم مجھے نہیں لگتا کہ اس قسم کی تجویز کو حکومت قبول کرے گی”۔
ملائیشین ٹریڈ یونین کانگریس یا ایم ٹی یو سی کم از کم تنخواہوں کی شرح مقرر کرنے کیلئے طویل عرصے سے جدوجہد میں مصروف ہے، یہ یونین چار سو ڈالر ماہانہ کو ملازمین کے لئے مناسب معاوضہ تصور کرتی ہے، تاہم وہ موجودہ اعلان کو ایک مثبت پیشرفت قرار دیتی ہے۔G. Rajasekaran ایم ٹی یو سی کے سابق سیکرٹری جنرل ہیں۔
” (male) G. Rajasekaranیہ بحث گزشتہ دو برس سے جاری ہے، تو کمپنی مالکان کو اس صورتحال کا پہلے ہی اندازہ تھا، اب یہ کہنا کہ اعلان کے بعد مزید دو یا تین سال دیئے جائیں تو یہ کوئی منصفانہ درخواست نہیں۔اگر کمپنیاں اور ان کے مالکان کم ازکم تنخواہ ادا کرنے سے قاصر ہیں، تو وہ اپنے اداروں کو بند کردیں۔ انہیں صرف اپنے کاروبار، منافع اور ملازمین کے استحصال کے بارے میں ہی نہیں سوچنا چاہئے۔ہمیں یقین ہے کہ تنخواہوں میں اضافے سے زیادہ سے زیادہ مقامی افراد ملازمتوں کے حصول کی کوشش کریں گے، جس سے غیر ملکی ورکرز پر ہمارا انحصار کم ہوگا”۔
متعدد افراد کا ماننا ہے کہ تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ انتخابی ہتھکنڈہ ہے، کیونکہ رواں سال کے آخر میں ملائیشیاءمیں عام انتخابات ہورہے ہیں۔ پروفیسر Jayapalan Kasipillai، Monash یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔
(male) Jayapalan Kasipillai “کم از کم تنخواہوں کی پالیسی سے ملک میں بے روزگاری کی شرح نہیں بڑھے گی،کیونکہ ہمیں تو پہلے ہی افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ یہ فیصلہ کمپنی مالکان کیلئے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔ مثال کے طور پر اس پالیسی کے تحت ملازمین کی تعطیلات کم ہوں گی، جبکہ انہیں طبی سہولیات فراہم نہیں کی جائیں گی، اور ان کے کام کا دورانیہ بڑھایا جائے گا۔جہاں تک بات کمپنیوں کے دیوالیہ ہونے کی ہے،تو مجھے نہیں لگتا کہ ایسا کچھ ہوگا، کیونکہ ملائیشیاءکئی اجناس جیسے پیٹرولیم مصنوعات، خوردنی تیل اور دیگر پر اجارہ داری قائم کئے ہوئے ہے”۔
تاہم وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ حکومت اپنے اخراجات کم کرکے تعلیم کے شعبے پر توجہ دے۔
(male) Jaya “اگر آپ ایک لاکھ ملازمین کیلئے فنڈز مختص کرکے انہیں تعلیم فراہم کرے تو یہ ان کیلئے زیاہ بہتر ثابت ہوگا، کیونکہ تعلیم یافتہ ہونے پر یہ لوگ مستقبل میں اپنی صلاحیتوں سے زیادہ بہتر استفادہ کرسکیں گے”۔