Increasing Number of Rape Victims جنسی زیا دتیو ں میں اضا فہ

پاکستان میںخواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اس پر صدائے احتجاج بھی بلند کی جاتی ہے،کم عمر بچیوں سے لے کر کالج ، یونیورسٹی کی طالبات اور ِاسکے علاوہ ملازمت پیشہ خواتین کے ساتھ بھی اس نوعیت کے حادثات ہو چکے ہیں۔والدین کی بہت بڑی تعداد کم عمر بچیوں کو گھروں سے باہر بھیجتے ہوئے شدید خوف و ہراس محسوس کرتی ہے اس معاملے میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین کی بہت بڑی تعداد قانونی اداروں سے رجوع نہیں کرتی ہے ،اس سلسلے میں مددگار ہیلپ لائن سے منسلک بشریٰ سیّد کا کہنا ہے کہ ریپ ہونے والی خواتین اگر پولیس سے مدد طلب کرتی بھی ہیں تو محض ایک تماشہ بن کر رہ جاتی ہیں: یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ نوجوانوں میں سیل فون کا بڑھتا استعمال اور اسکے ذریعے کی جانے والی دوستیاں خصوصاً نوجوان لڑکیوں کیلئے تباہی کا باعث ثابت ہوتی ہیں، ایسے میں والدین کی غلط تربیت، میڈیا کا منفی کردار اور نوجوانوں میں بڑھتی بے راہ روی کم عمر لڑکیوں کو ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کرتی ہے: اس سلسلے میں یہ رجحان بھی سامنے آیا ہے کہ ریپ کی جانے والی خواتین کی غیر اخلاقی تصاویر اور وڈیوز بنا کر انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کر دی جاتی ہیں اس طرح ان خواتین کو نہ صرف بلیک میلنگ کا نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے افرادنے غیر اخلاقی تصاویر اور وڈیوز کی فروخت کو کاروبار بنا رکھا ہے۔ پاکستان میں سائبر کرائمز کے حوالے سے نہ تو کوئی قانون موجود ہے اور ہی عام لوگ انٹر نیٹ کے ذریعے ہونے والے دھوکہ دہی سے آگہی رکھتے ہیں،حال ہی میں سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس پر خواتین کو بلیک میل کرنے کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔اس حوالے سے مددگار ہیلپ لائن سے منسلک بشریٰ سیّد کا کہنا ہے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد وڈیوز اورتصاویر کے ذریعے خواتین کو بلیک میل کرنے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے: جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین اور اُنکے اہل خانہ بدنامی اور رسوائی کے خوف سے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں اور یوں مجرموں کو کھلی چھوٹ مل جاتی ہے ،کچھ عرصے قبل کراچی شہر میں وائٹ کرولا کار کے حوالے سے کئی واقعات سامنے آئے تھے جن میں درجنوں خواتین کی حرمت پامال کی گئی لیکن جب یہ گینگ گرفتار ہوا تو زیادہ تر متاثرہ خواتین نے اس گروہ کے خلاف گواہی دینے سے انکار کر دیا : مددگار ہیلپ لائن سے منسلک بشریٰ کا کہنا ہے کہ جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین کے طبی معائنے سے لے کر عدالتی کارروائی تک تمام لائحہ عمل اس قدر پیچیدہ اور وقت طلب ہے کہ بیشتر خواتین ہمت ہار دیتی ہیں ایسے میں مختلف محکموںکی کرپشن کا فائدہ بہت دفعہ مجرمان کو ہوتا ہے اور وہ قانون کی گرفت سے صاف بچ نکلتے ہیں: حال ہی میں کراچی کے علاقے چاکیواڑہ میں کم عمر بچی کے ساتھ زیادتی کرنے والا ملزم کس طرح قانون کی گرفت سے بچ نکلا اس بارے میں بشریٰ سیّد بتاتی ہیں: متعلقہ اداروں کا کہنا ہے کہ اسلحے کے زور پر دن دہاڑے لڑکیوں کے اغواکی وارداتیں برائے نام ہیں جبکہ محبت اور دوستی کے نام پر خواتین کو ورغلا کر انکے ساتھ زیادتی کے واقعات زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں۔اسکے علاوہ ملازمت پیشہ خواتین کو افسران اعلیٰ یا ساتھی کولیگز کی جانب سے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور پھر انھیں بلیک میل کیا جاتا ہے۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد خواتین کو اندرون ملک یا بیرون ملک لے جا کر فروخت کر دیا جاتا ہے ۔ بنت حوا کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر کچھ عرصے تو شور و غل مچتا ہے لیکن پھر ایسے ہی کسی اور سانحے تک خاموشی چھا جاتی ہے۔۔۔۔آج تک یہ پتا نہیں چل سکا کہ معصوم لڑکیوں کو ورغلا کر انھیںمذموم مقاصد کیلئے استعمال کرنے والوں کا انجام کیا ہوا، زیادتی کا نشانہ بننے والی بد نصیب خواتین کس اذیت سے زمانے کا سامنا کر تی ہیں یہ جاننے کی کوشش بھی کوئی نہیں کرتا بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم ایک ایسے مادر پدر آزاد معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاںلوگوں کی جان مال اور عزت کچھ بھی محفوظ نہیں رہا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *