سری لنکا میں خانہ جنگی کے اختتام کے باوجود بارودی سرنگوں کی صفائی کا کام مکمل نہیں ہوسکا ہے، جس کے باعث سینکڑوں افراد کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔فوج اور امدادی اداروں کے ساتھ ساتھ مقامی خواتین بھی یہ خطرناک کام کررہی ہیں۔
Therarasa Nithyananthi ایک بیوہ خاتون ہیں۔
(female) Therarasa Nithyananthi “مجھے بارودی سرنگوں کی صفائی کے کام کے دوران ڈر لگتا ہے، اور میں اپنا کام انتہائی احتیاط اور محفوظ طریقے سے کرنے کی کوشش کرتی ہوں”۔
Therarasa Nithyananthi ان نوے ہزار بیوہ خواتین میں سے ایک ہیں جن کے شوہر خانہ جنگی کے دوران مارے گئے تھے۔Therarasa Nithyananthi کو بارودی سرنگیں صاف کرنے کے بدلے ماہانہ بیس ڈالر ملتے ہیں۔
(female) Therarasa Nithyananthi “مجھے کام کی ضرورت تھی کیونکہ مجھے اپنے چار بچوں کی پرورش کرنا ہے، میرے شوہر اب زندہ نہیں اور مجھے اپنے بچوں کی دیکھ بھال میں مشکلات کا سامنا ہے، اسی لئے میں نے یہ کام کرنا شروع کیا”۔
ان کی ملازمت انتہائی مشکل ہے، کیونکہ تامل ٹائیگرز اور سری لنکن فوج نے تین دہائی تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کے دوران ہزاروں بارودی سرنگیں مختلف علاقوں میں نصب کی تھیں، فوج نے تو ان سرنگوں کا نقشہ تیار کیا، مگر تامل ٹائیگرز نے ایسا نہیں کیا۔ اس کا مطلب ہے کہ جو علاقے اب تک کلئیر نہیں وہاں کام کرنا خطرے سے خالی نہیں۔شمالی سری لنکا کے قصبے Kilinochchi میں انتہائی شدید جھڑپیں ہوئی تھیں اور یہاں ابھی تک بارودی سرنگیں مل رہی ہیں۔ ایک این جی او Halo Trust ان سرنگوں کو ناکارہ بنانے کیلئے تعاون فراہم کررہی ہے، Barthy Digby اس این جی او کے منیجر ہیں۔
(male) Barthy Digby “لوگ جنگلوں سے لوٹ رہے ہیں، جن کی واپسی سے ہمیں ان کے علاقے کے بارے میں نئی معلومات مل رہی ہے، اب ہمیں اس معلومات کے تحت سروے کرکے مقامات کا تعین کرنا ہے اور پھر انہیں صاف کرنا ہے”۔
اس علاقے میں سرنگوں کی صفائی کا کام تین ماہ قبل شروع ہوا تھا اور اب تک دو سو سے زائد سرنگوں کو ناکارہ بنایا جا چکا ہے، مگر اب بھی زرعی زمین کا بڑا رقبہ صاف نہیں ہوسکا ہے،کیونکہ یہ ایک سست اور تکلیف دہ کام ہے۔ بنیادی اوزاروں کے ساتھ خواتین اپنی اپنی زمینوں پر کام کرتی ہیں، اور کسی کو نہیں معلوم کہ خانہ جنگی کے دوران اس علاقے میں کتنی تعداد میں سرنگیں نصب کی گئی تھیں، تاہم اندازہ ہے کہ ایک سو اسکوائر کلومیٹر کے رقبے کی صفائی کرنا ہوگی، جہاں ممکنہ طور پر لاکھوں سرنگیں موجود ہوسکتی ہیں۔ اگرچہ سو اسکوائر کلومیٹر سننے میں زیادہ بڑا علاقہ نہیں لگتا مگر یہاں صفائی کا کام کرنے والے روزانہ صرف بیس اسکوائر میٹر کو ہی کلئیر کرپاتے ہیں۔ بارودی سرنگوں کی موجودگی کے لحاظ سے شمالی سری لنکا دنیا کا سب سے خطرناک ترین علاقہ ہے، تاہم فوج اور امدادی گروپس کے کام کی وجہ سے یہاں اموات کی شرح دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے، 2010ءمیں صرف نو افراد ہلاک اور 38 زخمی ہوئے تھے، مگرجانی نقصانات سے قطع نظر ان سرنگوں کے سماجی اور اقتصادی نقصانات بہت زیادہ ہیں۔ ان سرنگوں کی وجہ سے انتہائی زرخیر زمینوں پر کاشتکاری نہیں ہو پارہی، جبکہ ہزاروں بے گھرافراد ان سرنگوں کے ڈر کے باعث گھر واپسی کیلئے تیار نہیں۔Kanesan Krishnaveny بارودی سرنگیں صاف کرنیوالی ٹیم کی سربراہ ہیں۔
(female) Kanesan Krishnaveny “میں ان علاقوں کو لوگوں کیلئے محفوظ بنانے کی کوشش کررہی ہوں، تاکہ وہ کاشتکاری کے ساتھ ساتھ مویشی بھی پال سکیں، مجھے خوشی ہے کہ میرے کام سے لوگوں کو فائدہ ہورہا ہے”۔
اس کام کی وجہ سے Kanesan Krishnavenyاپنے والدین اور بہن بھائیوں کو پال رہی ہیں، تاہم وہ اپنے مستقبل کے حوالے سے خدشات کا شکار ہیں
(female) Kanesan Krishnaveny “مجھے نہیں معلوم کہ اس کام کے ختم ہونے کے بعد میں کیا کرسکوں گی، جب میں یہاں سے فارغ ہو جاﺅں گی تو میرے لئے ملازمت تلاش کرنا آسان نہیں ہوگا”۔