Illegal meternity Homes اسقاط حمل

پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میںاسقاط حمل غیر قانونی جرم سمجھا جاتا ہے،پاکستان میں اس وقت لاتعداد غیر قانونی میٹرنٹی ہومز اور نجی اسپتال سرگرم عمل ہیں۔غیر قانونی اسقاط حمل کی خدمات فراہم کرنے والے میٹرنٹی ہومز کا اسٹاف ولادت کے فوراً بعد نوزائیدہ بچوں کو کسی کچرا کنڈی میں جانوروں کی خواراک بننے کیلئے چھوڑ جاتا ہے یا پھر قبل از وقت پیدا ہونے والے پری مچیور بچوں اور فیٹسز کو میڈیکل کالجز کے ہاتھ فروخت کر دیا جاتا ہے،جبکہ ان کلینکس میں ناقص سہولیات اور غیر تربیت یافتہ عملے کے ہاتھوں کئی خواتین اپنی جان سے ہاتھ دھو چکی ہیں۔ایدھی فاﺅنڈیشن کو ہر سال ملک بھر سے600سے زائد نوزائیدہ بچے ملتے ہیں جن میں سے صرف نصف تعداد زندہ ملتی ہے یا ان میں زندگی کی کچھ رمق باقی ہوتی ہے۔۔پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سندھ کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر ہادی بخش جتوئی سے جب ہم نے دریافت کیا کہ غیرقانونی میٹرنٹی ہومز کے پس پردہ کون لوگ ہیں تو انھوں نے کہا:
ایک رپورٹ کے مطابق کراچی سمیت ملک بھر میں4لاکھ اتائی ڈاکٹرز انسانی زندگیوں سے کھیل رہے ہیںجبکہ ان کے خلاف کارروائی کیلئے کوئی قانون موجود نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ انکے خلاف چلائی جانے والی مہم غیر موئثر ثابت ہوتی ہیں:
کچھ عرصے قبل اختر کالونی کراچی کے علاقے میں ایک کچرا کنڈی سے پری میچیور فیٹسز ملے تھے جنہیں جارز اور پلاسٹک بیگز میں رکھا گیا تھا، اس نوعیت کے واقعات ملک بھر میں رونما ہوتے رہتے ہیں ، PMAکے جنرل سیکریٹری کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں ملوث افراد اور اداروں کے خلاف کوئی چیک اینڈ بیلنس موجود نہیں ہے:
ُPMAسمیت دیگر اداروں کی جانب سے اتائیوں اور غیر قانونی میٹرنٹی ہومز ، اسپتالوں اور کلینکس کے خلاف مہم بھر پور مہم کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے لیکن حکومتی اداروں کی جانب سے مہم کا اعلان تو کیا جاتا ہے لیکن اس پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا اور کچھ روز چلنے کے بعد ایسی ہر مہم اب تک غیر موئثر ثابت ہوئی ہے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سندھ کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر ہادی بخش جتوئی کا کہنا ہے کہ غیر قانونی میٹرنٹی ہومز اس قدر اثر و رسوخ کے مالک ہیں کہ ان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کرنا ناممکن ثابت ہوتا ہے:
ڈاکٹر ہادی بخش جتوئی کا کہنا ہے کہ اختر کالونی کراچی میں کچرا کنڈی سے 5نوزائیدہ بچوں کی لاشیں ملیں اور یہ واقعہ میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے آیا لیکن اندرون سندھ اور ملک کے دیگر پسماندہ اور دور افتادہ علاقوں میں ہونے والے اسی نوعیت کے واقعات نہ تو میڈیا تک پہنچتے ہیں اور نہ ہی ان پر کوئی ایکشن لیا جاتا ہے:
نامور سماجی کارکن ضیاءاحمد اعوان کا کہنا ہے کہ نادرا کے ذریعے ایسا طریقہ کار وضع کیا جانا چاہئیے جسکے تحت نوزائیدہ بچوں کی رجسٹریشن کو یقینی بنایا جا سکے ۔ شہر کی کچرا کنڈیوں سے ملنے والے زندہ و مردہ نوزائیدہ بچوں میں بڑی تعداد لڑکیوں کی ہوتی ہے۔نیشنل کمیشن برائے خواتین کی چیئر پر سن اینس ہارون کا کہنا ہے کہ غیر انسانی اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث میٹرنٹی ہومز کے خلاف جب تک موئثر کارروائی نہیں کی جائے گی تب تک مثبت نتائج سامنے نہیں آئیں گے:
ہر آنے والی روح کو دنیا میں لانے کے ذمے دار والدین ہیںجو کبھی رسوائی تو کبھی غربت کے خوف سے اپنی ہی اولاد کو اپنانے سے انکاری ہو جاتے ہیںاور یہ ننھے فرشتے غیر قانونی میٹرنٹی ہومز کی سفاکی کی بھینٹ چڑھتے ہیں یا جانوروں کی خواراک بنتے ہیں۔اس سلسلے میںمیٹرنٹی ہومز کو سیل کرنے کے ساتھ ساتھ متعلقہ افراد کی گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں لیکن اب تک نہ تو ان ظالمانہ سرگرمیوںکو روکا جا سکا ہے اور نہ ہی کچرا کنڈیوں سے معصوم فرشتوں کی بے کفن لاشیں ملنا بند ہوئی ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *