ملائیشین دارالحکومت کے قریب واقع ایک قصبہ کو پانی کے بغیر زندگی گزارنا پڑرہی ہے، جس کی وجہ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ میں امونیا کی ملاوٹ ہے، اگرچہ صورتحال پر قابو پانے کیلئے ہنگامی اقدامات کئے جارہے ہیں، مگر مقامی افراد اس سے خوش نہیں، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
بیلا کونگ کے رہائشی لگ بھگ دو ہفتے سے پانی کی نعمت سے محروم ہیں، اسحاق شمس الدین یہاں کے مقامی رہائشی ہیں۔
اسحاق”ہم مشتعل ہیں، پانی زندگی کیلئے بہت اہم ہے، اگر حالات ایسے ہی رہے تو ہمیں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا”۔
پانی کا ہر قطرہ بہت قیمتی ہوگیا ہے، اب یہاں کے باسیوں کے انحصار واٹر ٹینکرز پر ہے جو حکومت کی جانب سے فراہم کئے جارہے ہیں، جبکہ بیشتر افراد کو قریبی دریا تک جانا پڑتا ہے۔ سبرینا مت سیتفور اپنے بچے کیساتھ پانی بھرنے آئی ہے۔
سبرینا”میں یہاں اپنی بچی کو لیکر آئی ہوں تاکہ وہ نہا سکے، گھر میں پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں اور اس صورتحال کو دو ہفتے ہوچکے ہیں، اب نہانا
تو کیا کھانا پکانا بھی مشکل ہوگیا ہے”۔
سوال”کیا آپ کے علاقے میں ٹینکرز پانی دینے آتے ہیں؟
سبرینہ”وہ آتے ہیں مگر وہ پانی ناکافی ثابت ہوتا ہے”۔
وہ حکومت سے مزید اقدامات کا مطالبہ کررہی ہیں، اپوزیشن کو یہ رپورٹ بھی ملی ہیں کہ واٹر ٹینکر ایسے علاقوں میں زیادہ جاتے ہیں جہاں حکمران اتحاد کے حامی رہائش پذیر ہیں، نیگ تن چے اپوزیشن جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔
نیگ تین چے”بیشتر افراد کو لگتا ہے کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں ہورہا، کیونکہ آپریشن روم سے ٹینکرز کو ایسے علاقوں میں جانے کی ہدایت کی جاتی ہے جو حکومت کے حامی سمجھے جاتے ہیں، اس کے بعد ہی انہیں اپوزیشن کے حامی سمجھے جانے والے عام افراد کے پاس بھیجا جاتا ہے”۔
واٹر کمپنی کے کارپوریٹ ڈائریکٹر نے ان الزامات کی تردید کی ہے، ان کے مطابق علاقے میں پانی کی قلت کی وجہ دریائی پانی میں آلودگی ہے، جس کی وجہ سے ٹریٹمنٹ پلانٹ بیکار ہوگیا ہے، اور ادارہ متاثرہ علاقوں میں پانی کی قلت دور کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کررہا ہے۔عبدالحلیم ،کواپریٹ افیئرز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں۔
عبدالحلیم”صرف بیلاکونگ ہی نہیں بلکہ کافی علاقے پانی کی قلت سے متاثر ہوئے ہیں، متاثرہ علاقوں میں کافی لوگ یعنی لگ بھگ ایک لاکھ سے زائد گھر متاثر ہوئے ہیں، تو یہی وجہ ےہ کہ ہمیں ٹینکرز کے ذریعے متاثرہ علاقوں میں پانی کی فراہمی یقینی بنانے میں مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ ہمارے پاس ٹینکرز کی تعداد محدود ہے، ہم سب ٹینکرز صرف بیلا کونگ کیلئے مخصوص نہیں کرسکتے”۔
بارشیں نہ ہونے سے ڈیم خشک پڑرہے ہیں، جبکہ دیگر ریاستوں کے ڈیم اور واٹر پلانٹ بھی پانی کی طلب پوری کرنے میں ناکافی ثابت ہورہے ہیں، کچھ ریاستوں نے تو ابھی سے مخصوص مقدار میں پانی کی فراہمی شروع کردی ہے۔