KeBal Healthy Food in Schools – انڈونیشین فوڈ مہم

انڈونیشین دارالحکومت جکارتہ میں پانچ سال سے کم عمر لگ بھگ بیس فیصد بچے غذائی کمی جبکہ دس فیصد موٹاپے کا شکار ہیں۔ شہر کے متعدد خاندانوں کو باورچی خانے تک رسائی نہیں، تو وہ باہر کے غیرصحت مند کھانے استعمال کرنے پر مجبور ہیں، جو بچوں کی نشوونما کیلئے مضر ثابت ہوتے ہیں۔اس مسئلے پر قابو پانے کیلئے ایک این جی او نے ایک مہم شروع کی ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

سیکار جکارتہ کے ایک نچلے طبقے رواساری سے تعلق رکھنے والی طالبہ ہے، وہ گانا گا کر اور کھیل کر خوش ہوتی ہے، اگرچہ وہ ایک شرمیلی لڑکی ہے مگر وہ اپنے خواب کے بارے میں بتانے سے ہچکچاتی نہیں۔

سیکر کی والدہونڈرتیi کا کہنا ہے کہ وہ بچوں کی اچھی نشوونما کیلئے غذائیت بخش خوراک کی اہمیت کو سمجھتی ہیں، مگر ان کے خوراک کے حوالے سے چوائس محدود ہے۔

ونڈرتی”چاول ہمیں ہمیشہ چاول کھانے پڑتے ہیں”۔

یہ جکارتہ کے کم آمدنی والے علاقوں میں مقیم بیشتر خاندانوں کا مسئلہ ہے، وہ اکثر چاول اور فوری بن جانے والے نوڈلز کھاتے ہیں، جبکہ تازہ پھل اور سبزیاں کھانے کا موقع بہت کم ملتا ہے۔تاہم اب ایک بین الاقوامی این جی او مرسی کراپس ایسے خاندانوں کو صحت بخش خوراک کم قیمت میں فراہم کرنے کی کوشش کررہی ہے، وہ ان خاندانوں کو مرغی، دلیہ، پھل اور جوس وغیرہ فراہم کرنے کیساتھ ساتھ چاول اور دیگر خوراک میں اضافی وٹامنز اور منرلز بھی فراہم کررہی ہے، اس این جی او نے کیبال نامی یہ مہم 2009ءمیں بچوں کیلئے شروع کی، روزا لینا پولوبوہواس کی منیجر ہیں۔

روزالینا”ہم نے پایا ہے کہ جن بچوں کوکیبال مصنوعات دی گئیں، وہ زیادہ صحت مند، لمبے اور زیادہ وزن کے ہیں”۔

گزشتہ سال اس مہم کا دائرہ پرائمری اسکولوں تک بڑھا دیا گیا۔

روزا لینا”ہم نے دیکھا تھا کہ اسکولوں میں بچے مضرصحت اشیاءکھاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم نے اپنی مہم کا دائرہ وسیع کیا”۔

رواساری تگا پرائمری اسکول اس پروگرام میں شامل پانچ اسکولوں میں سے ایک ہے، یہاں  کے ورکرز کھانا بناتے ہیں، اور اسے اسکول کینٹین میں پہنچاتے ہیں۔کیلانا واتی اسکول پرنسپل ہیں۔

کیلانا واتی”متعدد طالبعلم اس خوراک کو اپنی صحت بہتر بنانے کیلئے خریدتے ہیں، میں خود بھی یہی کھانا خریدتی ہوں، ہر روز میں جوس خریدتی ہوں، کیونکہ میرے خیال میں یہ باہر ملنے والے جوس سے زیادہ صحت بخش ہے”۔

کیبال مہم کے دوران کوشش کی جارہی ہے کہ بچوں کے اندر سبزیاں کھانے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

روزالینا”یہی وجہ ہے کہ ہم اسکولوں کے طالبعلموں کیلئے ویجیٹیبل بسکٹس تیار کئے ہیں،تاکہ وہاں سبزیوں کی سپلائی کی جاسکے”۔

تاہم کچھ افراد کی نظر میںکیبال کے سستے کھانے بھی بہت مہنگے ہیں، جوسز کی لاگت چار ڈالرز ہے، جبکہ باہر یہ اس سے آدھی قیمت میں مل جاتے
ہیں۔روزا لینااس بارے میں اظہار خیال کررہی ہیں۔

روزا لینا”ہمارے لئے چیلنج صرف صحت بخش کھانا فروخت کرنا نہیں، بلکہ لوگوں کی مضرصحت اشیاءکھانے کی عادت کو تبدیل کران ہے، یہ بہت بڑا کام ہے اور مگر ہمیں یقین ہے کہ ہم ایسا کرسکتے ہیں”۔

لگتا ہے کسیکارپر اس کے مثبت اثرات مرتب ہورہے ہیں، اور وہ اپنی پسندیدہ چیز کے بارے میں بتارہی ہے۔

سیکار”انگور”۔