بلوچستان کے لاپتہ افراد کیلئے ان کے اہلخانہ کا لانگ مارچ کئی ماہ بعد اپنی منزل اسلام آباد پہنچ گیا ہے، اس لانگ مارچ کا آغاز گزشتہ سال نومبر میں ہوا تھا،اسی مارچ کے شرکاءکی گفتگو سنتے ہیں آج کی رپورٹ
جیسے ہی سردی سے ٹھٹھرے دن کا آغاز ہوا لوگوں نے سڑک پر آنا شروع کردیا، وہ آج بھی اپنے لانگ مارچ کیلئے تیار ہیں۔ کچھ طالبعلم اس مارچ کے تحفظ کیلئے دونوں پہلوﺅں پر کھڑے ہیں، انھوں نے اپنے چہرے اغوا ہونے کے ڈر سے چھپا رکھے ہیں، ان کے ہاتھوں میں پلے کارڈز ہیں جن پر لکھا ہے کہ بلوچ عوام کا قتل عام بند کرو، اور ہم ماورائے عدالت قتل کی مذمت کرتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔
بہتر سالہ قدیر بلوچ اس مارچ کی قیادت کررہے ہیں، وہ ہاتھ گاڑی کو دھکیل رہے ہیں، جس پر لاپتہ بلوچ افراد کی تصاویر لگی ہوئی ہیں۔
قدیر”بلوچستان میں سیکیورٹی ادارے لوگوں کو اغوا کررہے ہیں، ہم نے اسلام آباد کیلئے اس لانگ مارچ کا آغاز کیا، جہاں ہم اقوام متحدہ کے حکام سے ملاقات کرکے انہیں اس بارے میں بتائیں گے، ہم اقوام متحدہ کو ایک تحریری پٹیشن دیں گے جس میں لاپتہ افراد پر ہونیوالے مظالم کے بارے میں بتایا جائے گا”۔
قدیر بلوچ کے بیٹے بھی لاپتہ ہوا اور پھر اس کی تشدد زدہ لاش ملی۔
فرزانہ مجید بلوچ قدیر بلوچ کیساتھ چل رہے ہے، اس کے بھائی اور اسٹوڈنٹ لیڈر ذاکر مجید بلوچ 2009ءسے لاپتہ ہے، لانگ مارچ کے دوران بھی کچھ نامعلوم افراد نے اسلحہ دکھا کر فرزانہ کو مارچ ختم کرنے کی دھمکی دی۔
فرزانہ”میں اپنے مقصد سے بھاگنے کا کبھی سوچ بھی نہیں سکتی، میری صحت اور وزن متاثر ہوا ہے مگر میرے ہمت ابھی باقی ہے، میں اپنے بھائی کی رہائی اور اپنے افراد کی زندگیوں کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھوں گی”۔
بلوچستان پاکستان کا سب سے پسماندہ صوبہ ہے جو اگرچہ قدرتی گیس کی دولت سے مالامال ہے مگر اسے باقی صوبوں جیسے فوائد حاصل نہیں ہورہے۔
انٹرنیشنل وائس فار بلوچ مسنگ پرسن کا دعویٰ ہے کہ صوبے سے اب تک اٹھارہ ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہوئے جبکہ پندرہ سو تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ قدیر بلوچ کا کہنا ہے کہ اب تک اٹھائیس صحافیوں کو بلوچ عوام کے حقوق کی آواز اٹھانے پر قتل کیا جاچکا ہے۔
