سوئیڈن میں گزشتہ دنوں ورلڈ واٹر ویک کے تحت ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس وقت ایشیاءمیں اسی فیصد دریا ماحولیات اور لوگوں کی صحت خراب کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
ہر سال آبی ماہرین سوئیڈن میں جمع ہوتے ہیں، واٹر سیمپوزیم میں یہ ماہرین جمع ہوکر عالمی سطح پر آبی مسائل کے حل پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔اس موقع پر نوجوان ماہرین بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔
نوجوان پروفیشنل”ہم جانتے ہیں کہ اگر صورتحال میں تبدیلی نہ لائی گئی تو 2050ءمیں پانی کی کمی کا مسئلہ بہت سنگین ہوجائے گا، ماضی کی نسل نے دنیا کو برباد کردیا ہے اور ہم اپنی آئندہ نسل کو سنگین چیلنجز دیکر جائیں گے۔ ہمیں ملکر ان حالات کو بہتر کرنا ہوگا”۔
یہ کانفرنس اس وقت ہورہی ہے جب اقوام متحدہ نے 2013ءکو واٹر کووآرپریشن کا سال قرار دیا ہے۔کانفرنس میں ایک کونے میں نوجوان سائنس کے طالبعلم موجود ہیں، جو 29 ممالک سے یہاں جونئیر واٹر پرائز کیلئے جمع ہوئے ہیں، ان میں سے ایک تھائی لینڈ سے تعلق رکھنے والی تھینوارٹ بھی شامل ہیں، اس ایشیائی ملک کے بیشتر دریا صنعتی فضلے کے باعث آلودہ ہوچکے ہیں۔
تھین واراٹ”تھائی لینڈ کے بیشتر علاقوں میں دریا بہتے ہیں، لوگ دریاﺅں کے کناروں پر رہتے ہیں اور اسی پانی کو استعمال کرتے ہیں۔ اگر دریا صنعتی فضلے سے آلودہ ہوجائیں گے تو لوگوں میں سنگین امراض کی شرح بڑھ جائے گی”۔
تھینوارٹ اور ان کے دوستوں نے تھائی لینڈ کے قومی مقابلے میں پانی کو صاف کرنے کے حوالے سے ایک ایجاد پر پہلا انعام حاصل کیا تھا۔
تھینوارٹ”ہم نے لیبارٹری میں کام شروع کیا تاکہ آلودگی جذب کرنے والی ایجاد کی افادیت جان سکیں، اس سے سیسہ، تانبا اور دیگر زہریلے مواد کو جذب کیا جاسکتا ہے”۔
تھینوارٹ نے ایک چھوٹے سے ماڈل کو دکھایا، جس میں ایک جھلی کے ذریعے پانی میں موجود کچرے کو نکالا جارہا تھا، ان کی اس ایجاد کے نتائج حیرت انگیز ثابت ہوئے اور پانی سے 98 فیصد تک بھاری معدنیات کو نکالا جاسکتا ہے۔ سری لنکن ٹیم کی سربراہ بیندونی پریمارتنے بتارہی ہیں کہ آخر کیون نوجوان مسائل کے زیادہ بہتر حل نکالتے ہیں۔
بیندونی”نوجوان پانی کے مسائل کے حوالے سے دلچسپ حل لیکر سامنے آتے ہیں،جسکی وجہ ان کی سوچ میں دولت کمانے کا خیال نہ ہونا ہے”۔
خاتون” اور 2013ءکے جونئیر واٹر پرائز جاتا ہے چلی کے نام”۔
اگرچہ وہ کامیابی حاصل نہ کرسکے مگر جنوبی کوریا، سنگاپور اور تھائی لینڈ کی ٹیمیں آپس میں ملکر اس حوالے سے کام ضرور جاری رکھیں گی۔ تھیناوارٹ کا کہنا ہے کہ تمام ایشیائی طالبعلموں میں ایک بات یکساں ہے وہ ہے لوگوں کی مدد۔
تھیناوارٹ”متعدد افراد بھاری معدنیات کی صفائی کے حوالے سے کام کرتے ہیں، مگر وہ صرف لیبارٹری تک محدود ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم نے ایسا آلہ تیار کیا ہے جو لوگ آسانی سے استعمال کرسکیں گے”۔