Remote Indonesian Island Turns Itself Into a Model of Clean Energy Use – انڈونیشین توانائی ماڈل

انڈونیشیاءکا سامبا آئی لینڈ توانائی کے متبادل ذرائع کے حصول کیلئے کوشاں ہے، ایک برس قبل یہاں کے بیشتر رہائشی بجلی سے محروم تھے مگر اب ان کی زندگیوں میں تبدیلی آئی ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

پہلے سامبا آئی لینڈ میں جیسے ہی سورج غروب ہوتا تھا یہاں کی آدھی آبادی تاریکی میں ڈوب جاتی تھی، مگر اب یہاں ایک انقلاب آگیا ہے۔

مغربی سامبا کے ایک گاﺅں میں 37 سالہ عمبو چنتا اپنے گھر کی نشست گاہ میں بیٹھی ہوئی ہیں، انکی زندگی کا بڑا حصہ بجلی کے بغیر ہی گزرا ہے۔

رمبو”پہلے رات کو ہمارے پاس کرنے کو کچھ نہیں ہوتا تھا، تو بس ہم رات کا کھانا کھاتے ہی سو جاتے تھے”۔

مگر اب ان کے گھروالے بجلی کی نعمت سے مستفید ہورہے ہیں جوکہ قریبی مائیکرو ہائیڈرو پاور پلانٹ سے آرہی ہے۔ امبو ہینگر اس گھرانے کے سربراہ ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اس سے ان کے خاندان کا طرز زندگی بہتر ہوا ہے۔

امبو”جب ہمیں بجلی میسر آئی تو اس سے خواتین کو رات میں سلائی کڑھائی کی سہولت مل گئی، جس سے ہمیں اضافی آمدنی حاصل ہونے لگی ہے اور بچے بھی اب رات کو آرام سے پڑھائی کرسکتے ہیں”۔

سامبا کے ساٹھ فیصد افراد کو بجلی کی سہولت میسر آگئی ہے، جبکہ بیس فیصد افراد توانائی کے متبادل زرائع استعمال کررہے ہیں، توقع ہے کہ 2025ءتک یہاں تمام افراد تک بجلی پہنچ جائے گی۔ ڈچ این جی اوایچ آئی طی او ایس نے سامبا کو توانائی کے متبادل ذرائع کے حوالے سے مثالی جزیرہ بنانے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔آدی اس جزیرے میں ڈچ این جی او کے کوآرڈنیٹر ہیں۔

آدی”یہاں ماحول دوست توانائی کو فروغ دینے کی وجہ یہ ہے کہ سامبا توانائی کے متبادل ذرائع کے وسائل سے مالامال ہے۔ ہم یہاں شمسی، ہوا، پانی اور جانوروں کے فضلے وغیرہ سے بجلی پیدا کرسکتے ہیں”۔

گزشتہ برس اس سلسلے میں ایک ٹاسک فورس قا ئم کی گئی تھی، جبکہ رواں برس کے شروع میں ایشیائی ترقیاتی بینک نے اس منصوبے کیلئے دس لاکھ ڈالرز بھی فراہم کئے تاکہ اس کو انڈونیشیاءکے دیگر حصوں تک توسیع دی جاسکے۔ آدی لاگر کا کہنا ہے کہ یہ صرف ماحولیات کے تحفظ کیلئے نہیں بلکہ اس کے معاشی فوائد بھی حاصل ہوں گے۔

لاگر”اس وقت انڈونیشین حکومت ڈیزل پر بھاری سبسڈی دے رہی ہے اور ایک وقت ایسا آئے گا جب اسے یہ سبسڈی ختم کرنا پڑے گی۔ ہم نہیں چاہتے کہ حکومتی سبسڈی کے خاتمے کے بعد اس برادری کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے یہاں کے وسائل سے توانائی کے حصول کا سوچا جس سے ماحولیاتی بہتری بھی ممکن ہوسکے گی”۔

یہاں مائیکرو ہائیڈرو پراجیکٹ سطح سمندر سے چھ سو میٹر بلندی پر لگایا گیا ہے۔آمیلےا انڈونیشیاءکے ممتاز تعلیمی ادارےبینڈونگ سے گریجویشن کرچکی ہیں۔

آمیلیا”یہ علاقہ ریاستی بجلی سے منسلک نہیں جس کیلئے ڈیزل جنریٹرز استعمال کئے جاتے ہیں، یہاں ہوا بہت تیز ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہاں ہوا سے بجلی پیدا جاسکی ہے تو پھر اس سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا جائے؟”

امیلیا ایک مقامی این جی او کے ساتھ ملکر مغربی اور مشرقی انڈونیشیاءمیں مختلف توانائی منصوبوں پر کام کررہی ہیں۔

امیلیا”جاوا میں ہم کچرے سے بجلی بنارہے ہیں، پورا ملک بجلی سے جگمگا رہا ہے مگر انہیں اندھیروں میں چھوڑ دیا گیا ہے۔ ان کے پاس بالکل بھی بجلی نہیں اور رات کو ان کے بچے پڑھ بھی نہیں پاتے۔ یہ انصاف نہیں کہ ایک جگہ تو بجلی دستیاب ہے اور دوسری جگہ نہیں، یہ بہت افسوسناک امر ہے”۔

امیلیا کے منصوبے سب اب تک بائیس خاندانوں کو بجلی دی جاچکی ہے، یہ شخص اپنے گھر میں موبائل فون چارج کرکے خوش ہے۔

عام آدمی”اس سے پہلے مجھے قریبی جگہ جانا پڑتا تھا جہاں بجلی موجود ہے، جو کہ سات کلو میٹر دور ہے۔ وہاں مجھے موبائل فون چارج ہونے کا انتظار کرنا پڑتا تھا اور پھر سات کلومیٹر پیدل چل کر گھر آنا پڑتا تھا”۔

جانوروں کے فضلے سے بھی ماحول دوست توانائی بنائی جارہی ہے، ہینرچ ڈینگی ، وینگاپومیں ایک معروف مقامی ریڈیو اسٹیشن چلارہے ہیں۔

ڈینگی”جانوروں کا فضلہ بیکٹریا کے کیمیائی ری ایکشن کے باعث بائیو گیس میں تبدیل ہوتا ہے، جسے ایک پائپ کے ذریعے باورچی خانے سے منسلک کردیا جاتا ہے، بالکل ایسے ہی جیسے پانی کے پائپ، اور پھر اس گیس کے ذریعے ہم چولہا جلا کر کچھ بھی پکا سکتے ہیں”۔

انڈونیشیا الیکٹرسٹی کمپنی کے عہدیدار سلیمان کو توقع ہے کہ رواں برس کے اختتام تک مشرقی سامبا میں سو فیصد تک توانائی کے متبادل ذرائع کو استعمال کیا جانے لگے گا۔

سلیمان”میرا ہدف ہے کہ 2013ءکے آخر تک مشرقی سامبا میں ڈیزل سے بجلی کی پیداوار کا خاتمہ کیا جائے گا، بلکہ اس کے لئے متبادل ذرائع استعمال کئے جائیں گے”۔

گزشتہ برس جب شمسی پینل اس گاﺅں میں نصب کئے گئے تو یہ بچے اپنی زندگی میں پہلی بار ٹیلیویژن دیکھنے کے قابل ہوگئے۔ یونس نامی رہائشی کا کہنا ہے کہ یہ تفریح کے ساتھ ساتھ دنیا کو جاننے کی کھڑکی بھی ہے۔

یونس”ہم خبریں دیکھ یہ جاننا پسند کرتے ہیں کہ باہر کی دنیا میں کیا ہورہا ہے، یہ اس لئے بھی جاننا ضروری ہے کیونکہ آئندہ سال صدارتی انتخابات ہورہے ہیں، اس سے پہلے ہم افواہوں کی بنیاد پر اپنے امیدوار کا تعین کرتے تھے مگر اب ہم جانتے ہیں کہ ملک کے کیا حالات ہیں اور ہمیں کس شخص کو ووٹ دینا چاہئے”۔