تھائی لینڈ میں کمبوڈین اور برمی افراد کو غلامی کیلئے فروخت کئے جانے کا رجحان عام ہے۔کمبوڈیا کے Prum Anan Vannak بھی ایسے ہی ایک متاثرہ شخص ہیں، جو اب لوگوں کو انسانی تجارت کے بارے میں آگاہی دینے کی کوشش کررہے ہیں
33 سالہ Prum Anan Vannak ہم لوگوں کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں، وہ ہمیں اپنے خصوصی گوشے میں لے گئے جو تصاویر سے ڈھکا ہوا تھا۔
وہ نیچے بیٹھ گئے اور تصویر بنانے میں مصروف ہوگئے، اس تصویر میںکچھ ماہی گیر کشتی میں وزن اٹھائے کھڑے ہیں، ان میں سے ایک Vannak بھی ہیں۔ چھ برس قبل جب وہ اپنے گاﺅں میں کام ڈھونڈنے میں ناکام ہوگئے تو وہ اپنی حاملہ بیوی کو چھوڑ کر تھائی کمبوڈین سرحد کی جانب چلے گئے۔Prum Anan Vannak وہاں دو ماہ رہے ۔
(male) Prum Anan Vannak “مجھ سمیت سات افراد کو ٹرک میں بٹھاکر لے جایا گیا، ہمیں بہت چھوٹی سی جگہ پر بیٹھنے اور سونے کو کہا گیا، ہمیں سیاہ کپڑوں سے چھپایا گیا تھا، ہم نے تین یا چار بار گاڑیاں تبدیل کیں، اور پھر ہمیں ایک ماہی گیر کشتی میں پہنچا دیا گیا۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ہمارے ساتھ کیا ہورہا ہے، مجھے کشتی کے اندر زبردستی ایک ڈبے میں بٹھا دیا گیا، سمندر میں آٹھ روز گزارنے کے بعد مجھے ڈبے سے رہا کیا گیا”۔
درحقیقت Prum Anan Vannak کو تیرہ دیگر افراد کے ہمراہ اس کشتی کے تھائی کپتان نے خرید لیا تھا، یہ لوگ یہاں تین برس تک روزانہ بیس گھنٹے کام کرتے رہے۔ اس دوران انہیں رقم تو کیا ملتی کھانا بھی بہت کم مقدار میں ملتا تھا۔
(male) Prum Anan Vannak “وہ ہمیں جانوروں کی طرح مارتے تھے، کئی بار وہ برف کے بلاک میر ے سر پر مارتے تھے او وہ ہمیں مضحکہ خیز ناموں سے پکارتے تھے، میں نے خود اپنی آنکھوں سے ایک شخص کے سر کو کٹتے دیکھا جسے سمندرمیں پھینک دیا گیا۔ یہ کشتی آپ کی سوچوں سے بھی ہزار گنا زیادہ خطرناک تھی”۔
انھوں نے اپنے بازوں پر زخموں کے نشانات دکھائے، جبکہ انکی کمر اور ٹانگیں بھی مندمل زخموں سے بھری ہوئی تھی۔
(male) Prum Anan Vannak “تشدد اور مار پیٹ تو عام تھی مگر مجھے جس چیز سے سب سے ڈر لگتا تھا وہ سمندر تھی۔ جب بھی طوفان آتا تھا تو میں بدھا سے دعا مانگتا تھا کہ جہاز ڈوب نہ جائے۔ اگر یہ ڈوب جاتا تو میں بھی مرجاتا”۔
تھائی لینڈ میں ماہی گیر کشتیاں کئی کئی ماہ بلکہ کئی بار تو ایک یا دو برس تک بھی شکار کرنے میں مصروف رہتی ہیں۔ تاہم 2009ءمیں Prum Anan Vannak کی کشتی ملائیشین بندرگاہ سے کچھ کلومیٹر دور لنگرانداز ہوئی۔جب عملہ سوگیا تو Prum Anan Vannak اور ان کے ساتھ ایک اور کمبوڈین شخص نے سمندر میں چھلانگ لگادی۔
(male) Prum Anan Vannak “میں چاہتا تھا کہ پولیس مجھے گرفتار کرلے، تاکہ وہ مجھے کمبوڈین سفارتخانے کے ذریعے گھر پہنچا دے، میں ملائیشیاءمیں رہنا اور کام کرنا نہیں چاہتا تھا، میں صرف گھر واپس جانا چاہتا تھا”۔
مگر پولیس اسٹیشن میں انہیں ایک پام آئل پلانٹ پر فروخت کردیا گیا۔ اس پلانٹ میں کئی ماہ تک جبری مزدوری کے بعد ایک ورکر سے لڑائی پر انہیں جیل بھیج دیا گیا۔ وہاں سے انہیں کمبوڈین این جی او LICADHO سے رابطہ کرنے کا موقع ملا۔ Pilorge Naly ملائیشیاءمیں اس این جی او کی ڈائریکٹر ہیں۔
(female) Pilorge Naly “ہم نے ملائیشیاءمیں Prum Anan Vannak کو تلاش کیا اور پھر ایک اور گروپ کی مدد سے اس کی کمبوڈیا واپسی کو یقینی بنایا۔ ہم ملائیشیاءمیں کئی این جی اوز، آئی ایل او اور کمبوڈین سفارتخانے کے ساتھ ملکر کام کرتے ہیں۔ ہم یہ کام برسوں سے کررہے ہیں، اس کے علاوہ ہم نے کمبوڈیا کے مختلف صوبوں میں بھی دفاتر قائم کررکھے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ Prum Anan Vannak کو اس کے گاﺅں پہنچانے میں کامیاب رہے”۔
چار برس کے طویل عرصے کے بعد Prum Anan Vannak، 2010ءمیں اپنے گھر پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ شروع میں تو اسکی اہلیہ Cheng Kun نے اسے قبول کرنے سے ہی انکار کردیا۔
(female) Cheng Kun “پہلے تو میں اسے یاد کرکے بہت روتی تھی مگر چونکہ وہ مجھے کچھ بتائے بغیر چھوڑ کرچلا گیا تھا، اس لئے میں اس سے نفرت کرنے لگی تھی۔ جب وہ گھر واپس آیا تو میں نے اسے اندر آنے کی اجازت نہیں دی۔ مجھے اسکی کہانی پر یقین نہیں آیا، میں اس بات کو قبول نہیں کرسکتی تھی کہ وہ کئی برس بعد بھی خالی ہاتھ گھر آیا ہے۔ مجھے لگتا تھا کہ کہ تھائی لینڈ میں اسکی ایک اور بیوی ہے اور وہ مجھ سے جھوٹ بول رہا ہے۔ مگر میرے والدین نے میرے خیالات کو تبدیل کیا اور میں نے اپنے شوہر کو قبول کرلیا”۔
گھر واپسی کے بعد Prum Anan Vannakتصاویر کے ذریعے اپنے خوفناک تجربات کا اظہار کرنے لگے۔LICAHDO، Prum Anan Vannak کی تصاویر کو انسانی تجارت کی روک تھام کیلئے استعمال کررہی ہے۔ Manfred Hornung اس این جی او کے قانونی مشیر ہیں۔
(male) Manfred Hornung “وہ کمبوڈین شہری ہے، وہ جانتا ہے کہ کس طرح کمبوڈین عوام سے فن لطیفہ کے ذریعے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ وہ اپنی تصاویر کے ذریعے اپنی کہانی بیان کررہے ہےں، یہ کوئی جھوٹی کہانی نہیں۔ یہ کمبوڈین عوام کو انسانی تجارت کے خطرے سے آگاہ کرنے کی بہترین کوشش ہے”۔
Pilorge Naly بھی ان تصاویر کو سراہتی ہیں۔
(female) Pilorge Naly “اگر آپ ان کو غور سے دیکھیں، تو ہر تصویر میں اس نے اپنے ماضی کے بارے میں بہت تفصیل فراہم کی ہے۔ یہ بہت شاندار تصاویر ہیں، جب بھی میں ان کو دیکھتی ہوں، مجھے کچھ نہ کچھ نیا نظر آجاتا ہے، جو میں نے اس سے پہلے نہیں دیکھا ہوتا”۔
Prum Anan Vannak کے گھر واپس چلتے ہیں، وہ ہمیں دکھارہے ہیں کہ اس کشتی میں ان کی زندگی کیسے گزرتی تھی۔
(male) Prum Anan Vannak “میں لوگوں کو نقل مکانی سے تو نہیں روک سکتا، مگر انہیں مشورہ ضرور دے سکتا ہوں۔ آپ کو ہمیشہ تیار اور اس کام کے بارے میں جاننا چاہئے جسے آپ کرنے جارہے ہو، چاہے وہ قانونی ہو یا غیرقانونی، میرے خیال میںاپنے وطن میں روکنا اور کام کرنا بیرون ملک جانے سے زیادہ بہتر ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ حکومت غیر قانونی اسمگلرز کے خلاف کارروائی کرے”۔