بھارت میں انا ہزارے نے اپنی سیاسی پارٹی قائم کرنے اور آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ متعدد حلقے اسے کرپشن کیخلاف جدوجہد کیلئے مثبت اقدام قرار دے رہے ہیں، تاہم اس سے انا ہزارے کی تحریک میں دراڑیں بھی پڑنا شروع ہوگئی ہیں۔
نئی دہلی میں پارلیمنٹ کے قریب جاری بھوک ہڑتال کو آج سات روز ہوگئے ہیں، بھوک ہڑتالی افراد کا مطالبہ ہے کہ حکومت انسداد بدعنوانی کا نیا قانون جلد از جلد منظور کرے۔ آج یہاں انا ہزارے کی موجودگی کے باعث لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ Arvind Kejriwal انا ہزارے کی تحریک کے رکن ہیں۔وہ یہاں موجود لوگوں پر سیاسی جماعتوں سے تعلق ختم کرنے کیلئے زور ڈال رہے ہیں۔
(male) Arvind Kejriwal “آپ میں سے بیشتر کانگریس کو ووٹ دیتے ہیں جبکہ کئی بی جے پی یا دیگر سیاسی جماعتوںکو، مگر اب آپ ان جماعتوں کو چھوڑ کر محب وطنوں کی صف میں شامل ہوجائیں، کیونکہ یہی وہ جگہ ہے جس پر مستقبل کا انحصار ہے”۔
یہ پہلا اشارہ تھا کہ انا ہزارے کوئی دھماکہ خیز اعلان کرنے والے ہیں جو بھوک ہڑتال سے بھی بڑا ہے۔دو دن بعد سماجی کارکنوں، تاجروں اور دیگر نمایاں شہریوں کے ایک گروپ نے انا ہزارے کے ساتھیوں سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی، بالی وڈ اداکار انوپم کھیر بھی اس گروپ میں شامل تھے۔
کھیر(male) “یہ بہادر اور مخلص رضاکار اپنی صحت اور زندگیوں کی قربانی ، جذبات سے محروم حکومت کیلئے نہ دیں۔ ہمیں بھارت کی تعمیر کیلئے ان لوگوں کی ضرورت ہے، ہمارے آئین میں تمام لوگوں کو یکساں حقوق دیئے گئے ہیں۔ ہم حکومت تک اپنی آواز پہنچانے کیلئے ہر ممکن بہترین کوشش کریں گے، مگر میرے خیال میںاب وقت آگیا ہے کہ اس آواز کو پارلیمنٹ کے اندر سے اٹھایا جانا چاہئے”۔
انا ہزارے نے تین دن بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کردی، جبکہ ان کی ٹیم کے دیگر افراد نے نو روز تک کھانے سے منہ موڑے رکھا۔اس کے بعد انا ہزارے نے آخرکار مستقبل کیلئے اپنے منصوبے کر ہی دیا۔ جس کے تحت نئی سیاسی پارٹی کا قیام اور انتخابات میں حصہ لینا تھا۔ انکا دعویٰ تھا کہ نئی سیاسی جماعت سے بھارتی عوام کو متبادل قیادت ملے گی۔
انا ہزارے(male) “یہ تبدیلی کی جنگ ہوگی، ہم صرف انسداد بدعنوانی بل نہیں چاہتے، بلکہ اب ہم پورے نظام کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ آج ہمارے کاشتکاروں کو متعدد مسائل کا سامنا ہے، ہمارے مزدوروں کو دبایا جارہا ہے، ہمارا تعلیمی نظام لڑکھڑا رہا ہے اور اسکے علاوہ بھی یہاں بہت کچھ ٹھیک ہونے والا ہے۔میں اپنی ذات کو اقتدار سے الگ رکھوں گا، میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ میرے ساتھی اقتدار میں آکر کس طرح مسائل کو حل کرتے ہیں، اگر ان سے غلطیاں ہوں گی تو میں اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کروں گا۔ یہ اقتدار کی جدوجہد نہیں بلکہ ہم ملک کو بچانا چاہتے ہیں”۔
انا ہزارے نے ملک بھر کے دورے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ لوگوں کو کرپشن سے پاک بھارت کیلئے تیار کیا جاسکے۔ بھارت میں اس وقت دو سو سے زائد سیاسی جماعتیں کام کررہی ہیں۔
انا ہزارے کی جانب سے نئی سیاسی پارٹی کے قیام کے اعلان پر ملک بھر سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔وزیر اطلاعات و نشریات Ambika Saoni نے کہا کہ وہ ہمیشہ سے جانتی تھیں کہ انا ہزارے اس راستے پر قدم ضرور رکھیں گے۔
(female) Ambika Saoni “ہم ہمیشہ سے کہتے آئے ہیں کہ انا ہزارے اور ان کے حامی سیاست سے متاثر ہیں۔ ہم ہمیشہ یہ محسوس کرتے آئے ہیں کہ وہ تبدریج سرگرم سیاست کا حصہ بن رہے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ آج سب کچھ کھل کر سامنے آگیا ہے اور اب لوگوں کو معلوم ہوگا کہ آخر اس تحریک کا حقیقی مقصد کیا تھا۔سیاسی جماعت قائم کرنا اور انتخابات لڑنا اچھا امر ہے، اگر وہ نظام کو بدلنا چاہتے ہیں تو انہیں جاننا ہوگا کہ عوام کی خدمت کرنا کتنا مشکل کام ہے”۔
اپوزیشن جماعت بی جے پی نے انا ہزارے کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ روی شنکر پرساد بی جے پی کے ترجمان ہیں۔
پرساد(male)“بھارتی آئین ہر شخص کو اپنے نظریات کے مطابق سیاسی جماعت تشکیل دینے کا حق دیتا ہے۔ اگر انا ہزارے کی ٹیم نے اس متبادل راستے کے انتخاب کا فیصلہ کیا ہے تو ہم اسکا خیرمقدم کرتے ہیں۔ بی جے پی نے گزشتہ چند برس کے دوران کرپشن کے واقعات کو سنجیدگی سے اٹھایا ہے۔ ہم کرپشن کیخلاف ملک گیر تحریک کی قیادت کررہے ہیں، ہم اپنے ملک کو اس لعنت سے نجات دلانے کیلئے مخلص کسی بھی شخص کے ساتھ تعاون کیلئے تیار ہیں”۔
تاہم اس فیصلے نے انا ہزارے کے حامیوں کو تقسیم کردیا ہے۔25 سالہ Manish Kumar اترپردیش سے نئی دہلی آکر دس روز تک انا ہزارے کے ساتھیوں کی بھوک ہڑتال کیمپ میں موجود رہا، مگر اب وہ مایوس ہے۔
(male) Manish Kumar “ہم یہاں تحریک کیلئے آئے تھے، سیاست کیلئے نہیں، ان کے اس دعویٰ کا کیا ہوا کہ ہم اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹیں گے جب تک مطالبات تسلیم نہیں کرلئے جاتے۔ مجھے اب لگ رہا ہے کہ یہ سب دعوے پبلسٹی کیلئے تھے۔ انھوں نے ہمیں بے وقوف بنایا ہے اور ہمارے جذبات کے ساتھ کھیلا ہے”۔
Manish Kumar کمار اکیلے نہیں، انا ہزارے کے پرانے ساتھی Swami Agnivesh بھی اس فیصلے سے خوش نہیں۔
(male) Agnivesh ” یہ یقیناً ایک سیاہ دن ہے۔ انھوں نے جلد بازی میں بھوک ہڑتال ختم کرکے درحقیقت اس بھوک ہڑتال کا مذاق اڑایا ہے۔ انھوں نے ایسی صورتحال پیدا کردی ہے کہ اب آئندہ کوئی بھی بطور احتجاج بھوک ہڑتال کرنے کا سوچے گا بھی نہیں۔ انہیں اس جرم پر پوری قوم سے معافی مانگنی چاہئے”۔
تاہم انا ہزارے کی ساتھی کرن بیدی اس فیصلے کا دفاع کررہی ہیں۔
کرن بیدی(Female) “ہم نے تو وہی کیا ہے جس کی جانب قسمت ہمیں لے گئی ہے۔ احتجاج بہرے لوگوں کے کانوں تک پہنچنے میں ناکام ہوگیا تھا، او صورتحال اس جگہ پہنچ گئی تھی اگر Arvind، انا ہزارے یا دیگر اپنی زندگی بھوک ہڑتال کے باعث ختم کربھی دیتے تو بھی کچھ نہ ہوتا۔اس کے بعد ملک بھر میں فسادات پھوٹ پڑتے، میرے خیال میں تو ہم نے اس بدترین صورتحال سے خود کو بچایا ہے”۔
انا ہزارے کے حامی جیسے سنیل جوشی کا ماننا ہے کہ تحریک کی ابھی بھی ضرورت ہے۔
جوشی(male)“یہاں کوئی اور راستہ نہیں، ہم نے کئی بار بھوک ہڑتالیں کیں مگر کچھ نہ ہوسکا، تاہم ہمیں اس تحریک کو آگے لیکر بڑھنا چاہئے کیونکہ اگر آپ گرد و غبار کو صاف کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اس میں داخل ہونا ہی پڑتا ہے”۔