(Cheaper than China: North Korea’s Mobile Labour)سستی شمالی کورین لیبر

چین میں کم اجرتوں پر مزدوروں کا حصول تو سب کو معلوم ہے مگر شمالی کورین مزدور تو اس سے بھی سستا آپشن ہے۔

چار لڑکیوں کا بینڈ Dandong شہر کے ایک ریسٹورنٹ میں موسیقی بجانے میں مصروف ہے، یہ چاروں لڑکیاں شمالی کوریا سے تعلق رکھتی ہیں۔

اس شہر کے متعدد ریسٹورنٹس میں شمالی کورین پکوان اور تفریحی پروگرام عام ملتے ہیں۔ سیاح یہاں آکر شمالی کورین افراد سے ملنے کے لئے بے تاب نظر آتے ہیں۔ ٹور گائیڈ Li Hui اس حوالے سے بتارہی ہیں۔

 (female) Li Hui “پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ شمالی کورین نوجوان اور خوبصورت لڑکیاں ہوتی ہیں، دوسرا یہ لڑکیاں بہت باصلاحیت گلوکار، موسیقار اور رقاص ہوتی ہیں۔ ان میں سے بیشتر Pyongyang یونیورسٹی میں پڑھ رہی ہیں، سرکاری طور پر تو یہ یہاں انٹرن شپ پر آئی ہوئی ہیں، اور دو یا تین سال بعد اپنے ملک کو واپس لوٹ جائیں گی۔ اس کے بعد ایک اور گروپ یہاں آجائے گا۔ چین کے اس سرحدی شہر میں متعدد ریسٹورنٹس شمالی کورین افراد نے ہی کھل رکھے ہیں۔ تاہم اگر چینی نژاد افراد اپنے ریسٹورنٹس میں شمالی کورین لڑکیوں کو ملازم رکھنا چاہے تو انہیں اس کی اجازت نہیں دی جاتی”۔

Dandong کے تاجر Wang Yuangang اکثر اپنے صارفین کو گھمانے کیلئے ان ریسٹورنٹس میں لے آتے ہیں، وہ شمالی کوریا میں ایک فیکٹری بھی چلارہے ہیں۔انکا کہنا ہے کہ شمالی کورین افراد بہترین ورکرز ہوتے ہیں۔

 (male) Wang Yuangang “چین آنے والے شمالی کورین ورکرز بہت اچھے ہیں۔ وہاں سے بہت کم افراد کو اپنا ملک چھوڑنے کی اجازت ملتی ہے اور وہ یہاں آجاتے ہیں۔ ان کے کام اور خدمات کا معیار بہت اچھا ہوتا ہے اور ان کی شخصیت بھی بہت پرکشش ہوتی ہے۔ شمالی کورین ورکرز نظم و ضبط کے عادی اور ملازمتوں کو انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ ان سے کام لینا بہت آسان اور انتہائی موثر ثابت ہوتا ہے”۔

شمالی کورین برادری Dandong کی مصروف زندگی کا اہم حصہ بن چکی ہے۔ یہاں صرف ریسٹورنٹس میں ہی نہیں بلکہ ٹیکسٹائل ملوں، تعمیراتی کمپنیوں، کان کنی اور دیگر شعبوں میں بھی ان کی بڑی مانگ ہے۔Liu نامی شخص گیس میٹر بنانے والا ایک پلانٹ چلاتا ہے۔

 (male) Liu “ہمیں مقامی ورکرز دستیاب نہیں، اور اگر ہم ان کو رکھ بھی لیں تو ان پر اخراجات شمالی کورین افراد کے مقابلے میں دوگنا زائد ہوتے ہیں۔اس کے مقابلے میں شمالی کورین افراد کو 126 ڈالر ماہانہ پر رکھ لیا جاتا ہے، جبکہ انہیں کھانا بھی ہم لوگ ہی فراہم کرتے ہیں۔ یہ شمالی کورین افراد روزانہ سرحد عبور کرکے آتے ہیں اور اپنا کام کرکے واپس چلے جاتے ہیں۔ ان سے کام لینے میں ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، بلکہ ہم ان سے لیبر ایجنٹ کے ذریعے کام کرواتے ہیں”۔

یہ لیبر ایجنٹ شمالی کورین حکومت کے نمائندے ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ورکرز کی آمدنی کا کافی بڑا حصہ حکومتی خزانے میں چلا جاتا ہے۔ Liu اس حوالے سے مزید بتارہے ہیں۔

 (male) Liu “میں مال کے آرڈر کے حوالے سے ورکرز کی تعداد میں کمی بیشی کرتا ہوں، اگر مجھے کوئی بڑا آرڈر مل جاتا ہے تو میں زیادہ لوگ رکھ لیتا ہو۔ میں اپنے ورکرز کی تعداد کم یا زیادہ کرسکتا ہوں اور ان کے ساتھ کنٹریکٹ پر جب مرضی نظرثانی کرسکتا ہوں۔ ہمارے پلانٹ میں کام کرنے کیلئے خصوصی صلاحیت کی ضرورت نہیں، بلکہ یہاں کام کرنا بہت آسان ہے، تاہم کچھ شعبوں میں باصلاحیت افراد درکار ہوتے ہیں ، وہاں صورتحال مختلف ہوتی ہے”۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ یہ شمالی کورین افراد صنعتی تربیتی ویزے پر یہاں آتے ہیں، تاہم یہاں کام کرنے والے بہت سے شمالی کورین دو یا تین سال کے معاہدے پر یہیں مقیم ہوجاتے ہیں۔ ان ورکرز کو 200 سے 300 سے ڈالرز کے درمیان ماہانہ تنخواہ مل جاتی ہے۔

ایک ریسٹورنٹ میں شمالی کورین ویٹرس صارفین کی رہنمائی میں مصروف ہے، تاہم وہ لوگوں سے بات کرنا پسند نہیں کرتی۔Liu کا کہنا ہے کہ کارخانوں میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے، شمالی کورین افراد اپنی ذات میں ہی مگن رہتے ہیں۔

 (male) Liu “یہ لوگ دوسروں سے رابطہ نہیں رکھتے، اگر ہم ان سے بات کریں تو بھی یہ بات نہیں کرتے، صرف اپنے کام پر توجہ رکھتے ہیں۔ ماضی میں یعنی ماﺅ انقلاب سے قبل چینی عوام بھی اسی روئیے کا مظاہرہ کرتے تھے، اس وقت یہاں لوگوں کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی آزادی حاصل نہیں تھی۔جو بھی ان پر حاکم ہوتا تھا وہ بس خاموشی سے اسکی پیروی کرتے رہتے تھے”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *