UN Urges Asia to Increase Refugee Quotas – اقوام متحدہ کا تارکین وطن کا کوٹہ بڑھانے کا مطالبہ

اقوام متحدہ نے آسٹریلیا سمیت دیگر ایشیائی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ہیومین ٹریفکنگ کی روک تھام کیلئے تارکین وطن کیلئے مختص کوٹہ بڑھائیں۔ یہ سفارشات ایشیاءپیسیفک اور مشرقی ایشیاءمیں اس جرم کی روک تھام کیلئے تیار کی گئی رپورٹ میں سامنے آئی ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں کی آج کی رپورٹ

تاریخ میں پہلی بار اقوام متحدہ کے انسداد منشیات و جرائم کے ادارے یو این او ڈی سی نے مشرقی ایشیاءکو مختلف جرائم کی راہداری بننے کے حوالے سے ایک تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ لوگوں کی اسمگلنگ، منشیات، وائلڈ لائف کی اسمگلنگ، لکڑی کی غیرقانونی کٹائی اور خطرناک فضلہ وغیرہ کے بارے میں رپورٹ مرتب کی گئی ہے۔ اگرچہ جرائم کے حوالے سے صورتحال بہت خراب ہے مگر اس سے جرائم پیشہ عناصر سالانہ نوے ارب ڈالرز تک کمارہے ہیں۔ جیریمی ڈوگلاس، بنکاک میں یو این او ڈی سی کے نمائندے ہیں۔

جیریمی”اہم بات یہ ہے کہ آہ خطے میں ریاستوں کی جانب سے ریاستی معاملات پر توجہ نہ دینے کی بات کررہے ہیں۔ کچھ بااثر قوتیں ان مخصوص معاشی سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں”۔

مالیت اور حجم کے لحاظ سے سب سے زیادہ بڑی اسمگلنگ چوری شدہ مصنوعات اور غیر قانونی لکڑی کی مصنوعات کی ہے، جن کی مجموعی مالیت 42 ارب ڈالرز بنتی ہے۔ اس کے مقابلے میں بچوں اور خواتین کی ٹریفکنگ اور جنس کیلئے تجارت کا حجم بہت کم ہے جو صرف 180 ملین ڈالرز ہے مگر ان افراد کی مظلومیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف کمبوڈیا اور تھائی لینڈ میں ہی، جہاں ڈیٹا کا حصول بہت مشکل ہے، ایک اندازے کے مطابق چار ہزار متاثرہ افراد کو اسمگل کیا گیا ہے۔یو این او ڈی سی کے ایگزیکٹو ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر سندیپ چاﺅلہ اس حوالے سے اظہار خیال کررہے ہیں۔

چاﺅلہ”مسئلہ یہ ہے کہ اس سے بہت زیادہ عوامی مسائل پیدا ہوتے ہیں، جبکہ دولت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ لوگوں کی ٹریفکنگ کوئی بہت زیادہ منافع بخش کام نہیں، مگر متاثرہ افراد کو پہنچنے والے نقصانات کو دیکھا جائے تو یہ انتہائی بدترین جرم ہے”۔

لوگوں کی اسمگلنگ اور غیر قانونی طور پر ممالک میں داخل ہونے کے رجحان کی روک تھام کیلئے رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ تارکین وطن کا کوٹہ بڑھایا جائے، یا جن ممالک میں اس حوالے سے کوئی پالیسی نہیں اسے متعارف کرایا جائے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اوسطاً چھ ہزار افراد اسمگلرز کو پیسے دیکر آسٹریلیا پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، اس اسمگلنگ میں سالانہ 85 ملین ڈالرز خرچ ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں یورپ میں سالانہ اسی ہزار افراد سیاسی پناہ یا شہریت کی درخواستیں دیتے ہیں۔ آسٹریلیا کی بڑی سیاسی جماعتیں تارکین وطن کے حوالے سے انتہائی سخت موقف اپنائے ہوئے ہیں، اور انہیں اکثر قید میں رکھا جاتا ہے، جس کی اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کی جانب سے مذمت بھی کی جاتی ہے۔ آسٹریلین کرائم کمیشن نے اس رپورٹ کیلئے آسٹریلیا کی جانب سے اعدادوشمار فراہم کرئے۔ کمیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جوہن لاولرکا کہنا ہے کہ اس رپورٹ سے حاصل ہونے والی معلومات سے حکومتی پالیسی ترتیب دینے میں مدد ملے گی۔

لاولر”رپورٹ میں کچھ اہم سفارشات دی گئی ہیں، میرے خیال میں یہ سفارشات مناسب اور ضروری ہیں کیونکہ اس رپورٹ کو انتہائی احتیاط سے تیار کیا گیا ہے۔ اسی طرح متعدد معاملات ایسے ہیں جو ایک ایجنسی تک محدود نہیں، بلکہ یہ بہت سارے مسائل اور چیلنجز ہیں، بلکہ ان معاملات پر حکومتوں کو ردعمل کا اظہار کرنا ہے، اور انہیں سنگین اور راہداری کے جرائم کی روک تھام کا کام قومی سیکیورٹی کے ایجنڈے رہ کر کرنا ہوتا ہے۔ میری نظر میں تو یہ رپورٹ اور حکومت کو حاصل معلومات کو اکھٹا کیا جائے تو اس کے مطابق مناسب ردعمل کو مرتب کیا جاسکتا ہے”۔