برما میں فنکارانہ صلاحیتوں کے اظہار کے رجحان میں تیزی آئی ہے، ماضی کے سخت کنٹرول کے مقابلے میں اب فنکاروں کو کافی حد تک قوانین میں نرمی ملی ہے اور ملکی تبدیلیوں سے انہیں کافی کچھ ملا ہے۔برمی کامیڈین زارگنار ایک بار پھر اپنے گروپ تھی لے تھری جڑ گئے ہیں، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
زارگنار ا، ینگون کے مضافات میں واقع اپنے اسٹوڈیو میں کھڑے ہیں، ڈانسرز کا ایک گروپ ان کے گرد گھیرا بنائے ان کے ہر لفظ کو سن رہا ہے، زارگنار انے ان ڈانسرز کا انتخاب انتہائی احتیاط سے کیا ہ تاکہ ان کے ذریعے ایک سیاسی بیان کو پھیلایا جاسکے۔
زارگنار ا”میں نے تمام نسلی گروپس میں سے ان کا انتخاب کیا ہے، میں نے تمام رنگوں کو چنا ہے اور میں نے تمام مذاہب کے افرادد اس میں شامل کئے ہیں۔ ان میں عیسائی، بدھ، مسلم اور ہندو شامل ہیں، ان سب کا پس منظر مختلف ہے، تو ہم کہہ سکتے ہیں اتحاد اس رنگارنگ تضاد میں ہی چھپا ہے”۔
سوال”اس بات کی اب کیا اہمیت ہے؟
زارگنار اچونکہ ہمارے ملک میں چند افراد کا کہنا ہے کہ برمی عوام اتنے مختلف گروپس کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں، حالانکہ یہ مختلف مذاہب کا یہ اجتماع جمہوریت کیلئے بہت اہم ہے، تو یہی وجہ ہے کہ میرے خیال میں اس مذہبی تضاد میں اتحاد چھپا ہوا ہے اور جو ہمارے ملک کیلئے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ کچھ لوگ نہیں جانتے کہ اتحاد اور جمہوریت کا کیا مطلب ہے”۔
یہ رقص اور مزاح پر مشتمل پروگرام ہے، جو ملک کے مختلف حصوں میں جاری خانہ جنگ اور نسلی فسادات کے ردعمل پر تیار کیا گیا ہے۔
زارگنار ا”ہم امن چاہتے ہیں، خانہ جنگی جاری رہنے سے ہم اپنے ملک کی تشکیل نہیں کرسکتے، خانہ جنگی کے سبب ہی ہمارے لوگ مناسب تعلیم اور طبی سہولیات حاصل نہیں کرسکتے، تو امن ہمارے ملک کیلئے بہت اہم ہے اور اگر ہم وفاق کی اہمیت کو سمجھے، نہ صرف لسانی گروپس، بلکہ فوج اور حکومت کو بھی اس کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا، انہیں جاننا ہوگا کہ جمہوریت کیا ہے اور وفاق کیا ہے”۔
زارگنار اکو اسٹیج پر ٹویزرزکے نام سے بھی جانا جاتا ہے، وہ حکومت پر تنقید کرنے کی وجہ سے چار بار جیل جاچکے ہیں اور وہ اب بھی اس سلسلے کو جاری رکھنے کیلئے پرعزم ہیں۔
زارگنار ا” پارلیمنٹ کی پچیس فیصد نشستوں پر پہلے ہی فوج نے قبضہ کررکھا ہے، تو میں اپنے صدر سے یہ مطالبہ کرنا چاہتا ہوں کہ وہ دیگر پچیس فیصد نشستیں کامیڈین افراد کو دیدیں، تاکہ ہماری پارلیمنٹ کا آدھا حصہ دیوانوں پر مشتمل ہوجائے۔ اگرچہ یہ تو ایک مذاق ہے مگر میں اس پچیس فیصد کوٹے کو پسند نہیں کرتا۔ آخر ہم فوج کو پچیس فیصد نشستیں کیوں دیں؟ یہی وجہ ہے کہ اس بات کا مذاق اڑاتے رہتے ہیں”۔
اس طرح کے لطائف بنانے کی آزادی بالکل نئی چیز ہے، حالانکہ حکومت کو ہدف تنقید بنانے پر انہیں دو ہزار آٹھءمیں انسٹھ برس قید کی سزا سنادی گئی تھی۔ جس کے بعد ان کی رہائی کیلئے ایک عالمی مہم چلائی گئی۔ زارگنار اکے گروپتھی لے تھی سے تعلق رکھنے والے کے تھی خود کو گرفتاری سے بچانے کیلئے تھائی لینڈ چلے گئے۔ وہ حال ہی میں برما واپس آئے ہیں اور انہیں یقین نہیں کہ انتظامہ انکے کام پر کیا ردعمل پیش کرے گی۔
کے تھی “ایک کامیڈین ہونے کے ناطے یہ میرا فرض ہے کہ جو کچھ بھی سوچوں اس کو الفاظ دوں۔ مجھے اس بات کی پروا نہیں کہ میرے ان الفاظ پر مجھے گرفتار کیا جاتا ہے یا نہیں۔
ہوسکتا ہے کہ ایک دن وہ آئے اور مجھے گرفتار کرلیں، مگر ابھی میں اس حوالے سے کوئی پیشگوئی نہیں کرسکتا۔ مگر میرا ماننا ہے کہ سیاستدان ہونے کے مقابلے میں کامیڈین ہونا زیادہ بہتر ہے، کیونکہ لوگ ہماری بات زیادہ سنتے ہیں”۔
متعدد سیاسی کارکنوں کی طرح ان کے خاندان کو بھی اس کی بھاری قیمت چکانا پڑی، جب وہ تھائی لینڈ میں خودساختہ جلاوطنی اختیار کئے ہوئے تھے، ان کے والد انتقال کرگئے، اور وہ ان کی آخری رسومات میں شریک بھی نہیں ہوسکے۔
انھوں نے اپنے بیٹے کیلئے ایک خط بھی چھوڑا جو کے تھی اکثر پڑھتے ہیں۔
کے تھی”اگر میرے والد کو اگر تھائی لینڈ میں مجھے درپیش مشکلات کا علم ہوتا تو وہ میری زندگی کیلئے یہ ہدایات نہیں چھوڑتے، تاہم انکا یہ خط مجھے زیادہ پرزم بناتا ہے، اس کے علاوہ برما میں ظلم، تشدد اور اجارہ داری ایسے عناصر ہیں جو مجھے اپنے کام کیلئے زیادہ پرعزم بنادیتے ہیں”۔
کے تھی نے اپنی والدہ کو ذہنی صدمے سے بچانے کیلئے کبھی نہیں بتایا کہ وہ تھائی لینڈ کیوں چلے گئے تھے۔
ماں”اس نے مجھے کبھی کچھ نہیں بتایا اور مجھے کچھ معلوم بھی نہیں، میرا خیال تھا کہ وہ فلمیں بناتا ہے اور جب لوگ مجھے اس کا کام دکھاتے جس میں وہ حکومت پر تنقید کررہا ہوتا، جس سے میں خوفزدہ ہوگئی۔ جب مجھے پہلی بار اس بارے میں معلوم ہوا تو صدمے اور خوف سے میری حالت غیر ہوگئی اور مجھے ہسپتال میں داخل کرانا پڑا۔ مگر اب لوگ میرے پاس آتے ہیں اور میرے بیٹے کے کام کو سراہتے ہیں، مجھے اس پر بہت فخر ہوتا ہے”۔
وہ خود بھی ایک رقاصہ ہیں، اب وہ اپنے بیٹے کی فنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کھلے عام دیکھتی ہیں، مگر اب بھی زارگنار اسمیت ہر شخص چوکنا ہے۔
زارگنار ا”ابھی ہمیں اپنے ملک میں تھوڑی آزادی تو میسر ہے مگر مکمل نہیں۔ ہمارا ملک امریکہ نہیں، اور نہ ہی یہ برطانیہ ہے۔ ہمارا ملک تو ابھی صرف دو سال کا ہوا ہے، صرف دو سال کا، تو یہ تو ابھی بچوں کی طرح آگے بڑھ رہا ہے”۔