کمبوڈین وزیراعظم ہن سن کو اقتدار میں آئے لگ بھگ تیس برس ہوچکے ہیں، اور توقع ہے کہ جولائی میں شیڈول انتخابات میں بھی وہ آئندہ مدت کیلئے منتخب ہوجائیں گے۔ متعدد حلقوں کا ماننا ہے کہ وہ سیاسی بادشاہت کی بنیاد رکھ رہے ہیں کیونکہ ان کے بچے بھی اب پارلیمنٹ میں جانے کیلئے تیار ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
کمبوڈیا میں حکمران جماعت کمبوڈین پیپلز پارٹی نے سرکاری و نجی میڈیا پر اجارہ داری قائم کررکھی ہے، روزانہ زیرتعمیر پلوں، شاہراﺅں اور دیگر حکومتی ترقیاتی منصوبوں کی تصاویر اور ان سے متعلق رپورٹس پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر نشر ہوتی ہیں۔
اپنے ہزاروں حامیوں کے ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم ہن سن نے ووٹرز سے جولائی میں شیڈول انتخابات میں انہیں ووٹ ڈالنے کی درخواست کی، اس موقع پر انھوں نے عوام کیلئے کئے گئے اپنے کاموں پر بھی روشنی ڈالی۔
ہن سن”اگر میں اور میری جماعت کمبوڈین پیپلزپارٹی نے انتخابات میں کامیابی حاصل نہ کی تو تمام سرکاری امدادی منصوبے روک دیئے جائیں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ کوئی اور سیاسی جماعت آپ کی برادریوں کو ترقی دینے کے منصوبوں پر کام نہیں کرے گی۔ میرا ماننا ہے کہ کوئی اور سیاسی جماعت ہماری طرح آپ کی مدد نہیں کرسکتی”۔
گزشتہ ماہ کانگریس میں کمبوڈین پیپلزپارٹی نے ہن سنکو اگلی مدت کیلئے دوبارہ وزیراعظم بنانے کا اعلان کیا تھا۔
ہن سن کو اقتدار میں آئے 28 برس ہوچکے ہیں اور انکا عزم ہے کہ وہ نوے سال کی عمر تک وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالے رہیں گے۔وہ چاہے کچھ بھی کرے اس سے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہی ہوتا ہے، ملک کے نو بڑے ٹی وی چینیل کی ملکیت حکومتی عہدیداران یا حکمران جماعت کے قریب سمجھے جانے والے افراد کے پاس ہے۔
اس وڈیو میں ایک مرد اور ایک خاتون اتحاد کا گیت گارہے ہیں۔ یہ لوگ ہن سن کی جانب سے مچھلی کے شکار کے علاقوں کی نجی ملکیت کے نظام کے خاتمے کا فیصلے کا جشن منارہے ہیں۔ یہ وڈیو مختلف ٹی وی چینیلز پر مسلسل دکھائی جارہی ہے۔
ہن سن اپنی جماعت کی جانب سے اپنے بیٹوں اور دیگر پارٹی عہدیداران کے بچوں کو پارلیمانی ٹکٹ دینے کے فیصلے کا دفاع بھی کررہے ہیں۔انکا کہنا ہے کہ پارٹی کا ماننا ہے کہ یہ نوجوان اس کے اہل ہیں۔
ہن سن”میں اپنے تین بیٹوں کو آپ سے متعارف کرانا چاہتا ہوں، میں انہیں اقتدار میں آنے کے لئے آگے نہیں لارہا، مگر میں چاہتا ہوں کہ یہ میری تاریخ کے بارے میں جانے، ان کو معلوم ہو کہ میں وہ باغی افسر تھا جس نے ملک میں خانہ جنگی کے دوران قوم کو آزادی دلائی۔ میرے بیٹوں ہن مینٹ،ہن مینتھ ، ہن مینے کھڑے ہوجاﺅ”۔
متعدد افراد کا ماننا ہے کہ ہن سین سیاسی بادشاہت کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ ایشین ہیومین رائٹس کمیشن کے سابق محقق ڈاکٹر لاﺅ مونگھائی کو ڈر ہے کہ اس سے کمبوڈیا میں شخصی حکومت قائم نہ ہوجائے۔
مونگھائی”اگر ہمارے ملک میں بادشاہت قائم ہوگئی تو ہمیں اپنے رہنماﺅں کا دیوتاﺅں جیسا احترام کرنا پڑے گا، میڈیا اور تعلیمی نظام کے ذریعے لوگوں کو سیکھایا جائے گا کہ اپنے رہنماءکے ساتھ دیوتا جیسا سلوک کریں۔ ہمارے میڈیا پر حکمران جماعت کی اجارہ داری سے اشارہ ملتا ہے کہ ہم اسی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ بات تو یقینی ہے کہ ان کی جماعت انتخابات جیت لے گی”۔
اپوزیشن جماعت کمبوڈین نیشنل ریسکیو پارٹی نے اپنے سربراہ سیم رینسے کو انتخابات میں کامیابی کی صورت میں وزارت عظمیٰ کیلئے نامزد کیا ہے، تاہم فرانس میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے سیم رینسے کو وطن واپسی پر بارہ سال قید کی سزا بھگتنا ہوگی۔ ایک وڈیو کانفرنس کے ذریعے وہ اپنے حامیوں کو غیر مراعات یافتہ طبقے کیلئے جدوجہد کرنے کا پیغام دے رہے ہیں۔
سیم رینسے ” کمبوڈین نیشنل ریسکیو پارٹی کے نام سے میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ ہم اپنی قوم کا دفاع کریں گے اور اپنی جماعت کو آئندہ انتخابات میں کامیابی دلائیں گے”۔
تاہم وزیراعظم ہن سن کی اقتدار پر گرفت بہت مضبوط ہے۔
ہن سن “میں آپ کا وزیراعظم ہوں، آپ مجھ سے نفرت یا میرے خیال ووٹ دیں گے تو یہ منصفانہ عمل نہیں ہوگا۔ آپ کی محبت میرے لئے بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اب آپ کی مرضی ہے کہ آپ کسی اور کو وزیراعظم بناتے ہیں یا اگر آپ ہن سن کو اس عہدے پر برقرار رکھنے چاہتے ہیں تو میری جماعت کو ووٹ دیں”۔