(UN rights body calls for investigation into Burma’s Rakhine state) اقوام متحدہ کا برمی فسادات پر تحقیقات کا مطالبہ
برما میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق نمائندے Tomás Ojea Quintana مغربی ریاست Rahkine کا دورہ کررہے ہیں، جہاں فرقہ وارانہ فسادات میں ہزاروں مسلمانوں کو قتل کردیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر Navi Pillay کا کہنا ہے کہ انہیں ایسی رپورٹس ملی ہیں کہ برمی مسلمانوں کے خلاف تشدد میں حکومتی فورسز میں شامل ہیں۔تاہم برمی حکومت نے ان دعوﺅں کو مسترد کردیا ہے۔
(male) Rupert Colville “تشدد کا یہ سلسلہ جون میں شروع ہوا، مگر ریاست Rakhine میں تناﺅ اور کشیدگی کی کیفیت کافی عرصے سے موجود تھی۔ابھی یہ واضح نہیں کہ موجودہ فسادات کیسے شروع ہوئے یہی وجہ ہے کہ ہم نے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ میرے خیال میں تحقیقات سے صورتحال واضح ہوجائے گی اور تناﺅ میں کمی آئے گی”۔
سوال”کیا اس قسم کے خدشات موجود ہیں کہ اس معاملے کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے؟
(male) Rupert Colville “نہیں ایسا ضروری نہیں، مگر ہمارا ماننا ہے کہ اس حوالے سے واضح اور آزادانہ تحقیقات ہونا ضروری ہے۔ دو برادریوں کے درمیان اس ریاست میں بہت زیادہ کشیدگی موجود ہے۔ یہ بہت پرانا تنازعہ ہے اور آپ کو معلوم ہے کہ اس پر جلد قابو نہیں پایا جاسکتا، خصوصاً سیکیورٹی فورسز کے ذریعے تو ایسا ممکن نہیں۔ ہمیں جاننا چاہئے کہ آخر اس کشیدگی کی بنیادی وجوہات کیا ہیں، اور انتظامیہ کی جانب سے صورتحال کو معمول پر رکھنے کیلئے اتنی زیادہ طاقت کا استعمال کیوں کیا گیا”۔
سوال”کیا آپ کا ماننا ہے کہ کچھ طاقتیں خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنارہی ہیں؟
(male) Rupert Colville “اس الزام کے بارے میں ہم نے سنا ہے، تاہم ہمارا موقف ہے کہ اس حوالے سے آزادانہ تحقیقات کرائی جانے کی ضرورت ہے، ہمارے خیال میں معاملات اس وقت تک بہتر نہیں ہوسکتے، جب تک ایک گروپ محسوس کرے کہ اسے غیرمنصفانہ طریقہ سے نشانہ بنایا جارہا ہے اور اس کے لوگوںکو مارا جارہا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اب تک وہاں ہلاکتیں کتنی ہوچکی ہیں تاہم یہ تعداد 78 سے کم نہیں، مگر ہمارا اندازہ ہے کہ یہ تعداد اندازوں سے کافی زیادہ ہوگی”۔
سوال”آپ کو برمی ریاست کی صورتحال پر کن ذرائع سے کیا معلومات مل رہی ہے، وہاں کیا ہورہا ہے اور وہ کیا حقائق ہیں جن سے ہم واقف نہیں؟
(male) Rupert Colville “اس حوالے سے ہماری معلومات بھی زیادہ نہیں، اسی وجہ سے بھی ہم ان علاقوں میں رسائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔آپ نے وہاں کی صورتحال کے حوالے سے متعدد خبریں سنی ہوں گی، ایک چیز جو سب سے پر واضح ہے وہ یہ کہ تشدد کے واقعات کے دوران بڑی تعداد میں افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ہوسکتا ہے چند افراد واقعی شرپسند ہوں مگر بیشتر معصوم ہیں۔ تاہم ہم اس حوالے سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں، اور ہمارا کہنا ہے کہ ان گرفتار افراد کے خلاف باقاعدہ قانونی طریقہ کار کے مطابق الزامات عائد کرکے قید کیا جائے”۔
سوال”آپ کے خیال میں تحقیقات اس مسئلے کے حل میں کتنی مددگار ثابت ہوگی؟
(male) Rupert Colville “گزشتہ نو سے دس ماہ کے دوران برما میں متعدد تبدیلیاں آئی ہیں، اور میرے خیال میں آزادانہ تحقیقات سے بھی نئے برما کی ایک علامت ثابت ہوگی۔ ہم برمی حکومت سے بات کررہے ہیں، اور جنیوا اور بینکاک سے ہماری ٹیم بھی برما گئی ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ اس بات چیت کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے”۔
سوال”اپوزیشن لیڈر Aung San Suu Kyi نے پارلیمنٹ سے اقلیتی گروپ کے حقوق کا تحفط یقینی بنانے کے معاملے پر بحث کی اپیل کی ہے۔ کیا آپ کے خیال میں یہ اچھا اقدام ہے؟
(male) Rupert Colville “جی ہاں، میرے خیال میں یہ اہم اقدام ہے۔ یہ صرف ریاست Rakhine کی بات نہیں، بلکہ برما کے دیگر علاقوں میں بھی مسائل موجود ہیں۔ یہ کئی اقلیتی گروپس ہیں، خصوصاً شمال میں، جہاں طویل عرصے سے تنازعات جاری ہیں۔ درحقیقت اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمشنر Navi Pillay نے بھی آنگ سان سوچی کی طرح کا مطالبہ کیا ہے”۔