Muzaffar Garh Incident سا نحہ مظفر گڑھ

 

اگرچہ پاکستان میں خواتین کے حقوق کے لئے بہت کام ہو رہا ہے اور ہر سطح پر خواتین کے ساتھ امتیازی رویوں کے خاتمے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ،لیکن اس کے باوجودآج بھی پاکستان کی عورت ظلم و نا انصافی کا شکار ہے،مرد ایک طرف تو عورت کو اپنی عزت و غیرت سمجھتا ہے لیکن دوسری طرف یہی مرد اسی عورت کی حیا کو سر عام نوچ کر پھینک دیتا ہے،ہم بات کر رہے ہیں مظفر گڑھ میں پیش آنے والے واقعے کی،جس میں دو خواتین کو بیٹے کے لئے رشتہ مانگنے پر پر لڑکی کے گھر والوں نے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بناےا،اور نہ صرف سر عام برہنہ کر کے گلیوں میں گھماےا گیا بلکہ موبائل فون سے ان کی ویڈیو بھی بنا ڈالی،اس انسانیت سوز واقعے کی تفصیلات جانتے ہیں متاثرہ خواتین میں سے ایک خاتون سے:

اس مبینہ شرمناک واقعے کی تصدیق علاقہ مکین بھی کرتے ہیں،جنہوں نے اس سارے واقعے کو اپنی آنکھوں سے دیکھا،

دوسری جانب پولیس نے واقعے میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے،ملزمان کا اس الزام سے انکار کرتے ہو ئے کہنا ہے کہ دونوں خواتین مبینہ طور پر گھر میں چوری کرتے ہوئے پکڑی گئی تھیں ،

مظفر گڑھ میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے کے حوالے سے انسانی حقوق کے کارکن اور نامور قانون دان ضیا احمد اعوان کہتے ہیں،

خواتین کو برہنہ گھمانے کا یہ واقعہ پہلی بار پیش نہیں آیا ،بلکہ چند روز قبل صوبہءسندھ کے علاقے خیر پور گمبٹ میں بھی ایک خاتون اور مرد کو ذاتی دشمنی کی بھینٹ چڑھاتے ہوئے پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں گلیوں میں برہنہ گشت کراےا گےا،اس جدید دور میں جبکہ دنیا جہالت کے اندھیروں سے نکل چکی ہے ،اس طرح کے واقعات انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے،،خواتین کے ساتھ نامناسب سماجی رویوں کی ایک وجہ یہ ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک ایک اسلامی اور جمہوری ملک ہونے کے لحاظ سے عورت کو وہ عزت و مقام نہیں دیا گےا جس کی وہ حقدار ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *