ایک ماہ کے روزوں کے بعد عید الفطر پر میٹھی سویاں اور دوست رشتہ داروں سے ملنا ملانا خوشی کے اس تہوار کی نمایاں پہچان ہیں خصوصا خواتین نت نئے فیشن کے ملبوسات کی تےاری میں خصوصی دلچسپی دکھاتی ہیں ،لیکن ایسے میں درزیوں کے نخرے خواتین کے دلوں کو جلا کر رکھ دیتے ہیں،خواتین درزیوں سے کچھ اس طرح شکایت کرتی ہوئی نظر آتی ہیں،
درزی خوشی کے اس موقع پر کیوں اتنے نخرے کرتے ہیں ،اور خواتین کی ان شکایات کا ان کے پاس کیا جواب ہے،جانتے ہیں ان درزی حضرات سے،
عید کے قریبی دنوں میں درزیوں کے پاس بہت رش ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے وہ خواتین سے مزید سلائی لینے سے انکار کر دیتے ہیں،یا سلائی کی قیمت اتنی زیادہ بتاتے ہیں کہ چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں،اور بعض اوقات تو رش کے باعث نام نہاد درزیوں کا بھی شکار بننا پڑ جاتا ہے ،جس کا خمیازہ عین عید کے دن بھگتنا پڑتا ہے ،س حوالے سے نبیلہ اسرار اپنے خیالات کا اظہار کچھ اس طرح کر رہی ہیں،
دوسری جانب درزی حضرات بجلی نہ ہونے کا شکوہ کرتے نظر آتے ہیں،صغیر احمد اپنی درزی کی دوکان چلاتے ہیں،ان کے مطابق جب بجلی نہیں ہوگی تو خواتین سے سلائی کے لئے کپڑے کیسے وصول کر سکتے ہیں،
رمضان المبارک میں درزیوں کا کاروبار عروج پر ہوتا ہے اور وہ سارا سال کی کسر عید پر ہی نکالتے ہیں ،خواتین رمضان میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ،سحری اور افطاری کی تےاری ،عید کی خریداری سے ویسے بھی پریشان ہوتی ہی ہیں ،پھر درزیوں کے نخروں سے خواتین کی پریشانی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے اور اس پریشانی سے بچنے کا واحد حل یہی ہے کہ عید پر پہنے والے ملبوسات کی تےاری عید سے پہلے ہی کر لی جائے ،تا کہ عید کی خوشیوں کے رنگ پھیکے نہ پڑیں۔