(Tourists Back to Pakistan’s Swat Valley) وادی سوات میں سیاحوں کی واپسی
سوات کی وادی کالام اپنی جھیلوں، آبشاروں اور سرسبز مناظر کی وجہ سے سیاحوں میں بہت مقبول ہے۔ تاہم طالبان عہد میں یہاں کی سیاحت کی صنعت بری طرح متاثر ہوئی تھی، مگر اب حالات پھر سے تبدیل ہورہے ہیں، اور گزشتہ کالام میلے میں لوگوں کا جوش و خروش دیدنی تھا۔
ہزاروں سیاح وادی کالام میں ہونے والے موسم گرما کے میلے میں شریک ہیں۔ پچاس سالہ حفیظ اللہ ہمدانی موٹرسائیکل پر پانچ سو اسی کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے اس میلے میں شریک ہوا ہے۔
حفیظ اللہ(male) “میں صوبہ پنجاب کے علاقے میاں والی سے کالام فیسٹیول میں شرکت کرنے کیلئے آیا ہوں۔ میں نے سوات کے حالات ٹی وی پر دیکھتا رہتا ہوں، اور مجھے احساس ہوا تھا کہ سوات میں صورتحال اب معمول پر آچکی ہے۔ میں یہاں آکر خوش ہوں، یہاں مقیم لوگوں کو بھی زندہ رہنے کیلئے روزگار کی ضرورت ہے، کوئی ان کے حقوق کو غضب نہیں کرسکتا۔ طالبان یا دیگر عسکریت پسند ان افراد کے روزگار کو ان سے دور نہیں لے جاسکتے”۔
بارہ جولائی کو شروع ہونے والا کالام فیسٹیول پانچ روز تک جاری رہا، جس کے دوران مقامی رقص، گھڑ دوڑ اور دیگر بہت سی دلچسپ سرگرمیوں کا انعقاد ہوا۔
اس سال فیسٹول کے موقع پر تمام مقامی ہوٹل مکمل طور پر بھر گئے تھے، اکبر علی کو اپنے خاندان کیلئے کمرے حاصل کرنے میں مشکل کا سامنا ہوا۔
اکبرعلی(male) “ہم 2008ءسے قبل یہاں آئے تھے، اس وقت کے مقابلے میں اب مجھے یہاں زیادہ سرگرمیاں نظر آرہی ہیں۔ سوات کی قدرتی خوبصورتی کا کسی سے مقابلہ ممکن ہی نہیں۔ میں نے پاکستان کے متعدد علاقے دیکھ رکھے ہیں، مگر ان کی خوبصورتی سوات کے مقابلے میں مصنوعی لگتی ہے”۔
کالام ہوٹل ایسوسی ایشن کے سیکرٹری بشیر جان کو لوگوں کی بڑی تعداد پر خوشگوار حیرت ہوئی۔
بشیر جان(male) “گزشتہ چار برسوں کے دوران ہوٹل انڈسٹری کے حالات انتہائی مایوس کن رہے۔ ہم نے تو اپنے ہوٹل فروخت کرکے کوئی اور کاروبار شروع کرنے کا بھی سوچ لیا تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ سوات میں اب سیاحت کی صنعت ختم ہوچکی ہے، مگر گزشتہ تین روز کے دوران لوگوں کی بڑی تعداد کو دیکھ کر اب میں کہہ سکتاہوں کہ سوات میں سیاح واپس آرہے ہیں۔ میری اللہ سے دعا ہے کہ یہاں امن ہمیشہ برقرار رہے۔ یہ وادی کالام کیلئے بہت اچھا وقت ہے، ہماری سیاحت کی صنعت کیلئے امن سے زیادہ بہتر کوئی اور چیز نہیں ہوسکتی”۔
پاک فوج کے اہلکاروں نے یہاں آنے والے ہر سیاح کے شناختی کارڈ کا نمبر ریکارڈ میں درج کیا۔فوج نے سوات میں امن کیلئے اہم کردار کیا ہے اور 2009ءکے بعد سے اس خطے سے عسکریت پسندوں کو نکال باہر کیا ہے۔2010ءکے تباہ کن سیلاب کے بعد یہاں متعدد شاہراہیں اور دیگر انفراسٹرکچر بھی بہہ گیا تھا، جس پر فوج نے بحالی نو کے کاموں میں انتہائی سرگرم کردار ادا کیا، اب فوج وادی سوات میںسیکیورٹی اور امن کو برقرار رکھنا چاہتی ہے۔سوات میں دو ہزار سے زائد پولیس اہلکار بھی تعینات ہیں۔Khaista Rahman ڈی ایس پی سوات ہیں۔
(male) Khaista Rahman “یہاں صورتحال معمول پر آچکی ہے اور امن مکمل طور پر بحال ہوچکا ہے۔ لوگ اب جنگل، دریا کے کنارے اور پہاڑوں پر کیمپ لگاسکتے ہیں۔ ہم نے جنگل میں صرف ایک اہلکار تعینات کیا ہے اور اس سے صورتحال میں بہتری کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ سوات کے لوگوں کو باہر سے آنے والے عسکریت پسندوں نے شرعی قوانین کے نام پر گمراہ کیا، سوات کے لوگ بہت اچھے ہیں اور یہاں جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے”۔
کالام فیسٹیول وادی سوات کیلئے تو اچھا تھا ہی مگر اس کے ساتھ یہ فوج کیلئے لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے کا بھی موقع بنا۔سیاح اب سوات کی صورتحال پر فکرمند نہیں، علی الصبح بھی یہاں فوج کے تحت ہونے والے شو میں موسیقی کی محفل جمی ہوئی ہے۔ یہاں موجود لوگوں میں خواتین جیسے طاہرہ بی بی اپنے خاندان کے ہمراہ موجود ہیں۔ طاہرہ پہلی بار سوات آئی ہیں اور اس وادی کے بارے میں انکے خیالات تبدیل ہوگئے ہیں۔
طاہرہ(female) “ہمارا تعلق لاہور سے ہے، ہم پہلی بار یہاں آئے ہیں۔ ہم نے سنا تھا کہ سوات کی صورتحال زیادہ اچھی نہیں، مگر ہم نے اپنے ٹور میں کافی مزے کئے ہیں۔ ہم منتظمین کے شکرگزار ہیں جنھوں نے اتنا اچھا شو آرگنائز کیا”۔
ارم خان بھی شو کی تعریف کررہی ہیں۔ ارم کا تعلق پشاور سے ہے اور وہ ماضی میں بھی کئی بار سوات آچکی ہیں۔
ارم خان(female)“یہاں کا ماحول بہت خوبصورت ہے اور آپ یہاں امن محسوس کرسکتے ہیں۔ اب یہاں طالبان کا کوئی ڈر نہیں۔ سوات کا امن بحال ہوچکا ہے اور لوگوں کے دلوں میں اب کوئی خوف نہیں۔ میں اس چیز کا سارا کریڈٹ پاک فوج کو دیتی ہوں”۔
محمد نبی نے بسکٹ، چائے اور چیس وغیرہ بیچنے والا اپنا پرانا فوڈ اسٹال پھر کھول لیا ہے۔ وہ پہلے طالبان اور پھر سیلاب کی وجہ سے یہ اسٹال بندکرنے پر مجبور ہوئے تھے۔
محمد نبی(male) “پانچ سال قبل یہاں ہر جگہ خوشیاں پھیلی ہوئی تھیں، مگر پھر حالات تبدیل ہوگئے۔ فوجی آپریشن اور پھر سیلاب سے کالام کے لوگ بری طرح متاثر ہوئے، مگر اب سوات ایک بار پھر امن کا گہوارہ بن گیا ہے۔ جس پر ہم اللہ کے شکرگزار ہیں۔ اب ہر شخص خوش ہے اور ہر کوئی اپنے کاروبار دوبارہ شروع کرنا چاہتا ہے”۔
فلپ فرانس سے آنے والے آتشبازی کے ماہر ہیں۔ انھوں نے آتشبازی کی جدید ترین ٹیکنالوجی کا شو کالام فیسٹیول کے دوران دکھایا۔
فلپ(male) “میں پہلی بار کالام آیا ہوں، اور میں بہت خوش ہوں کیونکہ یہاں ہر کسی کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی ہوئی ہے۔ اب یہاں لوگ پھر سے زندہ دل دکھائی دینے لگے ہیں۔ اب پاکستان میں کسی جگہ کوئی مسئلہ موجود نہیں۔ پاکستان میں اب مجھے بہتر نظر آنے لگا ہے، غیرملکیوں کو یہاں آکر دنیا کے خوبصورت ترین نظاروں سے لطف اندوز ہونا چاہئے۔ میرے خیال میں تو کالام دنیا کی سب سے خوبصورت وادی ہے”۔