Senior Citizens معمر خواتین

 

گھر میں بزرگ کی موجودگی کو باعث برکت جانا جاتا ہے۔بزرگ بھی ہمارے اس معاشرے کا حصہ ہیں۔گھر میں ماں جیسی ہستی کا ہونا ہی ٹھنڈی چھاﺅں کا احساس دلاتا ہے،اور اگر ماں عمر رسیدہ ہو تو ان کی خدمت و اطاعت تو ائر بھی باعث اجر و ثواب ہوتی ہے،لیکن ایسی بھی اولادیں ہیں جو اپنی ماں کو زندگی کی راہ میں تنہا چھوڑ کر چلی جاتی ہیں،مسز سعیدہ کی عمر تقریبا پچھتر سال ہے،ان کا بیٹا بھی شادی کے بعد اپنی ماں کو تنہا چھوڑ کر اپنی گھر گرہستی میں گم ہو گیا،

مسز سعیدہ کا کہنا ہے کہ ان کی تعلیم کی وجہ سے انہوں نے اپنی زندگی کو بہت اچھی طرح سے سنبھالا ہوا ہے،اس کے علاوہ اپنے آس پاس کے لوگوں سے اچھے تعلقات کی وجہ سے زندگی بہت اچھے طریقے سے سنبھالا ہوا ہے،

مسز مہہ جبین وزیرزادہ سینئر سٹیزنز فاﺅنڈیشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کی رکن ہیں،ان کے مطابق زےادہ تر معمر خواتین تنہا رہنے کی وجہ سے دپریشن کا شکار ہوجاتی ہیں لہٰذہ ایسی خواتین کی تنہائی کو ختم کرنے کے لئے کمیونٹی کمیٹیز بنائی جو ان خواتین کی تنہائی کو بانٹ سکیں،

معمر خواتین کو گھر سے باہر بھی بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے،پینشن کے حصول کے لئے سرکاری اداروں کے دفاتر کے دھکے کھانے پڑتے ہیں ،اسپتالوں میں سہولیات میسر نہیں ہوتیں،ان تمام مسائل کا حل کس طرح کیا جائے اس بارے میں مسز مہہ جبین وزیرزادہ کہتی ہیں،

فی الحا ل پاکستان میں معمر افراد کے لئے کوئی اولڈ ہوم یا سینئیر سٹیزنز ہوم باقاعدہ طور پر قائم نہیں کیا گےا ہے،مسز مہہ جبین وزیر زادہ کہتی ہیں کہ معمر خواتین کے لئے سینئیر سٹیزنز ہوم قائم کرن اب وقت کی اہم ضرورت ہے،

ایک بوڑہی ماں کے لئے دنیا کا سب سے بڑا دکھ اس کی اولاد کا اس کو تنہا اکیلا چھوڑ جانا ہے۔لیکن ایک ماں کا دل پھر بھی اپنی بچوں کے لئے ہر دم دعا گو رہتا ہے،

پاکستان میں ایک المیہ یہ بھی ہے کہ معمر افراد خصوصا معمر خواتین زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں،جس کی طرف نہ صرف حکومتی اداروں بلکہ نجی سطح پر کام کرنے والے اداروں کو بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *