Female Activists خواتین ایکٹوسٹ

خواتین یوں تو زندگی کے ہر شعبے میں آگے بڑھ رہی ہیں، لیکن کچھ شعبے ایسے ہیں جس میں خواتین اپنی ذات کی نفی کر کے صرف اور صرف ملک و قوم اور انسانیت کی خدمت کا بیڑا اٹھاتی ہیں ،اور وہ ہیں انسانی اور سماجی حقوق و بہبود کے ادارے ،جس کی کارکن خواتین خواتین اور دیگر لوگوں کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لئے کوشاں رہتی ہیں،ان کارکن خواتین کی زندگیاں عام ورکنگ ویمن کے مقابلے میں کچھ مختلف ہی ہوتی ہیں،اس لئے ان کی مشکلات بھی عام خواتین سے ذرا مختلف ہی ہوتی ہیں،دیپ پیس این سیکولر اسٹڈیز کی سرگرم کارکن ہیں،اس حوالے سے ان کا کہنا ہے،

خواتین ایکٹوسٹ کو انسانی حقوق کی جدوجہد کے دوران حکومتی عتاب کا بھی بعض اوقات شکار ہونا پڑتا ہے جس کے باعث ان خواتین کو جیل کی ہوا بھی کھانی پڑتی ہے جس کے بعد ان کی زندگی بالکل مختلف ہوجاتی ہے ،اس بارے میں دیپ کہتی ہیں،

دیپ کے مطابق خواتین ایکٹوسٹ کی انہی کاوشوں کے نتیجے میں ملک و قوم کے لوگوں کے حالات میں کچھ نہ کچھ تبدیلی آئی ہے۔

سیمسن سلامت سینٹر فار ہیومن رائٹس ایجوکیشن پاکستان کے ڈائریکٹر ہیں،ان کا کہنا ہے کہ زےادہ تر خواتین ایکٹوسٹس کے لئے ان کے اداروں میں سہولیات مہیا کی جاتی ہیں،خصوصا بڑے اداروں میں بہت زےادہ سہولیات دی جاتی ہیں،جبکہ مقامی طور کام کرنے والی خواتین کارکنان کو اتنی سہولیات حاصل نہیں؛

خواتین اور ملک و قوم کی فلاح و بہود کے لئے اپنی جان تک گھلانے والی خواتین ایکٹوسٹس کی ساری زندگی دوسروں کی خدمت میں ہی گزر جاتی ہے،اور اس کے بدلے وہ بعض اوقات کسی وسم کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتیں،جس سے ان خواتین کارکنان کی اپنے مقصد سے عقیدت کا پورا اظہار ہوتا ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *