Thousands of Indians Declared Missing in Himalayan Floods – بھارتی سیلاب میں ہزاروں افراد لاپتہ

بھارتی ریاست اترکھنڈ میں سیلاب کے نتیجے میں چھ ہزار افراد لاپتہ ہوگئے تھے اور اب حکومت نے انہیں ہلاک قرار دیدیا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

اپنے گھر میں چاوتھ مال پاریکھ اور ان کی اہلیہ اپنے گمشدہ بیٹے شرد پاریکھ کی کوئی نئی تصویر ڈھونڈرہے ہیں۔ وہ اس تصویر کو اخبار میں شائع کرانا چاہتے ہیں، تاکہ اس کا کوئی سراغ مل سکے۔

چاوتھ “میرا بیٹا ٹیکسی ڈرائیور ہے، وہ سیاحوں کو گھمانے لے جاتا ہے، دس جون کو بھی وہ چند سیاحوں کے ہمراہ گھر سے نکلا تھا۔ تین روز بعد اس نے مجھے فون کرکے بتایا کہ اس نے بدری نا تھ مندر کا دورہ کای۔ اس نے پھر سولہ جون کو مجھے فون کرکے بتایا کہ خراب موسم کی وجہ سے اسکی گھر واپسی میں دو چار روز کی تاخیر ہوجائے گی، مگر اس کے بعد وہ غائب ہوگیا”۔

جون میں ریکارڈ بارشوں کے نتیجے میں اترکھنڈ میں کئی جگہوں پر تباہ کن لینڈسلائیڈنگ ہوئی، جبکہ دریاﺅں میں سیلاب آگیا، جس کے باعث ہزاروں ہندو یاتری اپنے مقدس مقامات کی یاترا کے دوران پھنس گئے۔

چاوتھ “ہم اپنے بیٹے کی تلاش ہر جگہ کررہے ہیں، میرا چھوٹا بیٹا اور اس کے دوست اسے تلاش کرنے دو بار اترکھنڈ جاچکے ہیں۔ وہ اس کی تصویریں دکھاتے ہیں مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔بھگوان کرشمہ کرے تو میں اس سے دوبارہ مل سکوں گا، وہ کہیں معذوری یا کسی مجبوری کی وجہ سے پھنسا ہوا ہوگا، مگر وہ زندہ ہوگا”۔

مقامی حکومت نے چاوتھ مال جیسے لوگوں کو کہا ہے کہ وہ اس بات کو تسلیم کرلیں کہ ان کے پیارے اب زندہ نہیں رہے، مگرشرد کی بیوی گڑیا پاریکھ کو اب بھی توقع ہے کہ اس کا شوہر زندہ لوٹ آئے گا۔

گڑیا”گزشتہ ماہ کی سولہ تاریخ کو اس نے آخری بار مجھے فون کیا، اس کا کہنا تھا کہ اس کی ٹیکسی کے آگے موجود گاڑیاں پانی میں ڈوب گئی ہیں، اس نے مجھے یقین دلایا تھا کہ وہ واپس آئے گا چاہے دیر ہی کیوں نہ ہوجائے۔ میں بھگوان سے اس کی محفوظ واپسی کی دعا کررہی ہوں۔ وہ گھرواپس آکر مجھ سے اور بچوں سے ملے گا”۔

قریبی رشتے دار یہاں آرہے ہیں، جن کا گھروالے خیرمقدم کررہے ہیں اور شردہنستی مسکراتی تصویر دیوار میں ٹنگی ہے۔ شرد کا چھوٹا بھائی موہت خود متاثرہ علاقے میں جاکر اس کی تلاش کرنا چاہتا ہے۔ اس نے سیلاب کی فوٹیج اپنے موبائل فون میں بنائی ہے۔

موہت”دریا دو سومیٹر دور تک بہہ رہا ہے، ہر طرف پانی ہی پانی ہے، متعدد ہوٹل اور لاجز پانی میں بہہ گئے ہیں۔ اس وڈیو میں آپ پانی میں گاڑیاں، کپڑے، جوتے غرض ہر چیز کو دیکھ سکتے ہیں۔ یہاں ایک بو سی پھیلی ہوئی ہے، جسکی وجہ لاتعداد لاشیں ہیں، کرشمے ہوسکتے ہیں، مگر میں زیادہ پراعتماد نہیں۔ پانی کے ساتھ ساتھ لینڈ سلائیڈز نے بھی اس آفت کو مزید سنگین کیا”۔

لاکھوں ہندو موسم گرما کے دوران اترکھنڈ کے مندروں میں جاتے ہیں، جبکہ یہ ریاست چھٹیاں گزارنے کیلئے بھی اچھا مقام سمجھی جاتی ہے۔ لوگ جیسے شمال اور اجے میتل گرمی سے نجات کیلئے ٹھنڈی پہاڑیوں پر گزارنا پسند کرتے ہیں۔ یہاں آنے والے جولائی میں شدید بارشوں سے قبل واپس چلے جاتے ہیں، مگر رواں برس بارشیں ایک ماہ پہلے ہی شروع ہوگئیں۔

شمال”پہاڑوں پر ہر جگہ شدید بارش ہورہی تھی، متعدد چشمے بہنا شروع ہوگئے تھے اور ہر جگہ پھسلوان ہوگئی تھی، جسکی وجہ سے چلنا ناممکن ہوکر رہ گیا تھا۔ ہم نے فوری طور پر یہاں سے نکلنے کا فیصلہ کیا، مگر اچانک لینڈ سلائیڈنگ ہوگئی اور ہم وہاں پھنس کر رہ گئے، ہماری خوراک ختم ہوگئی اور ہمارے پاس پینے کے پانی کے بھی چند قطرے رہ گئے، مگر بھگوان کی مدد سے ہم بچنے میں کامیاب رہے”۔

اب یہ لوگ اپنے گھر میں محفوظ ہیں۔

اجے”ہم نے پانی میں متعدد گھوڑوں کو بہتے دیکھا، گاڑیاں درختوں کے پتوں کی طرح بہہ رہی تھیں، وہاں سے واپسی کے راستے پر میری ملاقات ایک خاتون سے ہوئی، جن سے میں پہلے بھی مل چکا تھا، اس وقت وہ اپنے خاندان کے ساتھ تھیں، مگر اب کی بار وہ تنہا تھیں، میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے کیونکہ وہ اپنے بچوں سے محروم ہوگئی تھیں، اس خاتون نے ہزاروں افراد کو پانی میں ڈوبتے دیکھا”۔

متاثرہ علاقے میں ملنے والے لاشوں کو جلا دیا گیا ہے، تاہم اب بھی متعدد لاشیں ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ موجود ہے، حکام نے تسلیم کیا ہے کہ ان کے پاس لاپتہ افراد جیسے شرد کی ماں منجو دیوی کے سوالات کے جوابات نہیں۔

منجو “میں اپنے بیٹے کا انتظار کب تک کروں؟ میرا بھگوان پر سے اعتماد ہی ختم ہوگیا ہے، اس دنیا میں کوئی بھگوان نہیں، میری بہو نے کیا غلط کیا جو اسے اس طرح کی سزا ملی؟ میرے بچوں نے ابھی اپنی زندگی گزارنا شروع کی تھی، میں نے اپنی دیوی کو کہا ہے کہ اگر اس نے میری مدد نہ کی تو میں اسے گھر سے باہر پھینک دوں گی”۔

کچھ ماہرین ماحولیات سیلاب کو انسان کی پیدا کردہ آفت قرار دیتے ہیں،شملا متل اس بات سے اتفاق کرتی ہیں۔

شملا متل”سیاحوں، کچرے اور جنگلات کی کٹائی میں اضافہ ہورہا ہے، یہ مسئلہ دن بدن سنگین ہورہا ہے، متعدد افراد ہنی مون یا مذہبی مقامات کی یاترا کیلئے جاتے ہیں، تو پھر ہم بھگوان سے ہی کیوں شکایت کریں؟”