فلپائنی حکومت پرامید ہے کہ کوالالمپور میں مسلم علیحدگی پسند گروپ سے جاری اس کی بات چیت کے دوران کوئی حتمی معاہدہ طے پاجائے گا۔ مورو اسلامک لبریشن فرنٹ نے بھی اپنے موقف میں کافی لچک دکائی ہے۔ اس سلسلے میں امن عمل کی حمایت کرنے والے انٹرنیشنل کنٹریکٹ گروپ کے ڈاکٹر سٹیو رووڈ کا انٹرویو سنتے ہیں آج کی رپورٹ میں
سٹیو”یہ کافی سخت بات چیت ہے، دونوں فریقین نے اپنے موقف میں نرمی کی ہے، مگر دیکھنا یہ ہے کہ آخر کس طرح بینگسموروکے علاقے کو نئے سیاسی معاہدے کے تحت زیادہ سے زیادہ مالی خودمختاری دی جائے گی،کیونکہ اس سے پہلے یہاں کے مسلمانوں کیلئے اس طرح کے انتظامات پہلے نہیں کئے گئے”۔
سوال” اب کیا بات سامنے آنے کا امکان ہے؟ کیا اب واقعی ان مذاکرات کا مثبت نتیجہ سامنے آنے والا ہے؟
سٹیو”ہم اس راہ پر چل رہے ہیں، مگر اب بھی مذاکرات میں کچھ مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک تو اس بات کے تعین کا مسئلہ ہے کہ اس علاقے کے مسلمانوں اور قومی حکومت کے درمیان کس حد تک طاقت کی تقسیم ہوگی، اور دوسری مشکل مورو اسلامک لبریشن فرنٹ کو تحلیل کرکے یہاں نئے سیکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دینا ہے”۔
سوال”یہ دوسرا نکتہ ثابت کرتا ہے کہ مورو اسلامک لبریشن فرنٹ میں انتہاپسند عناصر گزشتہ چند دنوں کے درمیان زیادہ متحرک ہوگئے ہیں، اور یہ عناصر اس آخری نکتے پر مفاہمت کو زیادہ مشکل نہیں بنادیں گے؟
رووڈ”درحقیقت اس نکتے پر کسی حتمی نتیجے پر پہنچا زیادہ آسان ہے، کیونکہمورو اسلامک لبریشن فرنٹ کی مرکزی قیادت سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ان انتہاپسند طاقتوں سے نمٹنے میں تعاون کررہی ہے”۔
سوال”آپ کے خیال میں کس بات پر زیادہ زور دینے کی ضرورت ہے، اس معاہدے میں کیا مثبت بات ہے اور امن کے قیام کا مقصد کس حد تک حاصل ہوسکے گا؟
رووڈ”مسلم گروپ اور حکومت کے درمیان دولت کی تقسیم کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ موجودہ وسائل کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوگی، یہ تقسیم سیاسی بنیادوں پر نہیں ہوگی اور تمام فنڈز خودکار طریقے سے ریلیز ہونے لگیں گے۔ اس سے بینگسمورو کو حقیقی مالی خودمختاری حاصل ہوگی”۔
سوال”کیا آپ کے خیال میں مسلم گروپ اس معاہدے کو اچھا سمجھ رہا ہے یا نہیں؟ ماضی میں بھی اس طرح کے معاہدے ہوتے رہے ہیں، مگر حکومت اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی؟
رووڈ”حکومتی موقف ہے کہ وہ مسلم گروپ کو اس بات پر قاتل کرے گی کہ جووعدے کئے جائیں گے وہ پورے بھی کئے جائیں گے۔ یہ بات ماضی میں بھی مسلم گروپ کیلئے فرسٹریشن کا سبب بنتی رہی ہے، کیونکہ وہ علامتی طور پر کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں، مگرحکومتی ناکامی کے باعث معاہدے ختم ہوگئے۔ یہاں کچھ معاملات میں اختلافات موجود ہیں، جن میں خام تیل اور قدرتی گیس کا معاملہ اہم ہے، کیونکہ یہ اسی خودمختاری حاصل کرنے والے علاقے کے اندر ہوں گے۔ اگرچہ ابھی تک ان کے ذخائر دریافت نہیں ہوئے، تاہم ایسا ہونے کے بعد توقع ہے کہ اسکی آمدنی پچاس پچاس فیصد کے تناسب سے تقسیم ہوگی، میرے خیال میں مسلم گروپ کا خود بھی خیال ہے کہ انہیں ہرمحاذ پر آگے پیشقدمی کرنا ہوگی”۔
سوال”کیا معاہدے کے حوالے حکومتی پرامیدی ٹھیک ہے؟
رووڈ”میرا نہیں خیال کہ حکومت خوش فہمی کی حد تک پرامید ہے، ویسے بھی رمضان کے بعد دونوں فریقین ایک بار پھر بات چیت کی میز پر ہوں گے، اور شراکت اقتدار کا معاہدہ بھی امید ہے کہ جلد طے پا جائے گا۔اس سلسلے میں سیاسی فیصلے کئے جانے کی ضرورت ہے، اب تک کافی تیکنیکی کام ہوچکا ہے، مگر سیاسی استقامت کے بغیر اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ میرے خیال میں مذاکرات کے اگلے دو دور نتیجہ خیز ثابت ہوں گے۔ پہلا دور عیدالفطر کے بعد اگست میں ہوگا، جبکہ دوسرا دور ستمبر میں ہوگا”۔
سوال”کیا آپ کو ذاتی طور پر لگتا ہے کہ اب یہاں امن قائم ہوجائے گا؟
رووڈ”جی ہاں ہمیں ایسا ہی لگتا ہے کہ کیونکہ گزشتہ دو یا تین برس کے دوران ہم نے یہاں بہت کچھ ہوتے دیکھا ہے، ابھی بھی امن معاہدے کی حتمی تفصیلات طے کی جارہی ہیں، اور ہم نے 2016ءکی ڈیڈلائن طے کررکھی ہے، جسکے بعد توقع ہے اس علاقے میں انتخابات کے ذریعے اس امن عمل کو حتمی انجام تک پہنچایا جائے گا”۔