Vietnam Makes Way for McDonald’s – میکڈونلڈ کی ویت نام آمد

فاسٹ فوڈ کمپنی میکڈونلڈ اب ویت نام میں داخلے کیلئے تیارہے، اس کا پہلا آﺅٹ لیٹ وہاں آئندہ برس کھل جائے گا، جس کیلئے یہ کمپنی وزیراعظم کے داماد کی شکرگزار ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

ویت نام میں دوستوں کے ساتھ سب سے مقبول سماجی سرگرمی مشروب یا خوراک ملکر کھانا ہے، اور آئندہ برس سے انہیں یہ سب کرنے کا موقع میکڈونلڈ میں بھی ملے گا۔ میکڈونلڈ کا پہلا ریسٹورنٹ آئندہ برس ویت نامی اقتصادی دارالحکومت ہو چھی منہ سٹی میں کھل رہا ہے، تیزی سے ترقی کرتے اس ملک کے نو کروڑ آبادی میکڈونلڈ کا استقبال کرنے کیلئے تیارہے۔ کرس ایلکن ایک مقامی برانڈنگ ایجنسی ریڈ کے ڈائریکٹر ہیں۔

کرس”ملک بھر میں خصوصاً نوجوانوں کے اندر آپ کو محسوس ہوگا کہ ان کے اندر غیرملکی برانڈز کی طلب کتنی زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں کے اندر ان غیرملکی برانڈز کیلئے کافی بے تابی پائی جاتی ہے، اس سے لوگوں کے اندر بڑھتی خودمختاری اور آزادی کا بھی معلوم ہوتا ہے”۔

طویل عرصے تک عالمی مارکیٹ کیلئے بند رہنے والے ملک ویت نام نے اپنی معیشت کو 90ءکی دہائی میں عالمی برادری کیلئے کھولا، یہاں غیرملکی برانڈز نوجوانوں میں بہت زیادہ مقبول ہیں، اس ملک کی نصف سے زائد آبادی تیس سال سے کم عمر ہے، جوکہ میکڈونلڈ کا ٹارگٹ بھی ہے۔یہ دعویٰکرس ایلکن کا ہے۔

کرس”میکڈونلڈ ویت نامی مارکیٹ میں کافی تاخیر سے داخل ہورہا ہے، مگر اسے یہاں ایک بڑا برانڈ مانا جاتا ہے”۔

فاسٹ فوڈ کمپنیاں جیسے کے ایف سی، برگر کنگ اور سب وے وغیرہ پہلے ہی ویت نام میں قدم جماچکی ہیں، جلد ہی یہ ایشیاءمیں میکڈونلڈ کی 38 ویں مارکیٹ بھی بن جائے گی۔ یہاں اس کی فرنچائز ایک ویت نامی امریکی بزنس مین ہینری نگوین کو دی گئی ہے جو وزیراعظم کے داماد بھی ہیں۔ میکڈونلڈ کا کہنا ہے کہ ہیری نگوین کو طویل طریقہ کار کے بعد منتخب کیا گیا ہے، تاہم لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کے خاندان کے تعلقات نے اس معاہدے کو ممکن بنایا ہے۔ میکڈونلڈ کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کے کھانوں سے موٹاپے میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں ویت نامی کھانے صحت بخش ہیں، کیونکہ ان میں پھل اور سبزیوں کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔
مائی ترونگ فیانگ ویت نام بھر میں ایک کافی اور بیکرک شاپس کی چین چلارہے ہیں، اور وہ میکڈونلڈ کے کھانے کبھی کھار استعمال کرنے کے ہی خواہشمند ہیں
۔

مائی ترو”میرے خیال میں ایک ماہ میں ایک بار برگر وغیرہ کھانا ٹھیک ہے، مگر میں اسے زیادہ کھانا پسند نہیں کروں گا۔ ویت نام کے اپنے مقامی کھانے بہت زیادہ اچھے ہوتے ہیں”۔

سوال”کیا آپ کے خیال میں فاسٹ فوڈ صحت بخش ہیں؟

مائی ترو”فاسٹ فوڈ صحت بخش نہیں، اسی لئے میں اپنے رشتے داروں کو انہیں کھلانا پسند نہیں کرتا، ہم ہمیشہ ویت نامی پکوان ہی کھانے کیلئے باہر نکلتے ہیں، کیونکہ وہ صحت مند ہیں”۔

ایشیاءپیسفیک میں میکڈونلڈ کے ریسٹورنٹ تھائی لینڈ اور انڈونیشیاءسمیت سولہ ممالک میں کام کررہے ہیں، مقامی سرمایہ کار فیم نجوک بک میکڈونلڈ کی آمد ویت نام کیلئے اچھی ثابت ہوگی۔

فیم”میرے خیال میں یہ اس بات کی علامت ہے کہ ملٹی نیشنل ریسٹورنٹس اب ویت نام پر توجہ دینے لگے ہیں، یہ ویت نام کیلئے اچھی خبر ہے، کیونکہ اس سے مقامی افراد کو کھانے کی زیادہ ورائٹی میسر آسکے گی”۔

مگر سوال یہ ہے کہ میکڈونلڈ نے ویت نام داخلے میں اتنی تاخیر کیوں کی؟ اس بارے میں یہ افواہ پائی جاتی ہے کہ میکڈونلڈ کو اس ملک میں مختلف اجزاءکے حصول میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔حرب کوچرن ویت نام میں امریکی چیمبر آف کامرس کے نمائندے ہیں۔

حرب”سوال کا جواب یہ ہے کہ ویب نامی کمپنیوں کی امریکی سپلائی چینز میں شمولیت کافی چیلنجنگ کام ہے”۔
وہ مزید بتارہے ہیں۔

حرب”سوال بنیادی معیار، بنیاد تحفظ، بنیادی فیکٹر آڈٹ، افرادی قوت اور دیگر کے گرد گھومتا ہے، امریکی کمپنیوں کے ساتھ کام کرے کیلئے آپ کو ان چیزوں کی فراہمی کو یقینی بنایا ہوتا ہے”۔

مائی ترونگ گیانگ کا کہنا ہے کہ وہ برسوں سے میکڈونلڈ کی اپنے وطن میں آمد کا انتظار کررہے تھے۔

مائی ترونگ”یہاں اس کی آمد سے کافی مواقع پیدا ہوں گے، جیسے نوجوانوں کو پڑھائی کے ساتھ جزوقتی کام کا موقع ملے گا۔ تو جن لوگوں کو بیرون ملک جانے کا موقع نہیں ملتا، ان کیلئے میکڈونلڈ، کے ایف سی یا برگر کنگ خود ویت نام آرہے ہیں”۔