میانمار میں گزشتہ ہفتے نئے سال کے موقع پر واٹر فیسٹیول کا انعقاد ہوا، یہ میلہ نئے بدھ سال کے آغاز پر منایا جاتا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
ہر سال ماہ اپریل میں چار روز کیلئے میانمار میں زندگی کی گہماگہمی تھم کر رہ جاتی ہے، کیونکہ ملک بھر میں جگہ جگہ لوگ گلیوں میں اکھٹے پوکر پانی کی جنگ لڑتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ نئے سال کا رقص و موسیقی سے استقبال کرتے ہیں۔میانمار میں نئے بدھ سال کے آغاز کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ اب جشن منانے کا وقت آگیا ہے۔
میانمار میں 2011ءمیں نیم جمہوری حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد کافی تبدیلیاں آئی ہیں، اور گزشتہ برس تین دہائیوں میں پہلی بار لوگوں کو نئے سال کی تقریبات گلیوں میں منانے کی اجازت دی گئی۔
تھنگیاٹ نئے سال کی تقریبات کا ایک اہم جز ہے، یہ ایک پرانا برمی آرٹ ہے جو شاعری، موسیقی اور رقص کے امتزاج سے بنا ہے۔ لوگ گزشتہ برس کے میلے کے لطائف سناتے ہوئے نعرے بازی کررہے ہیں۔پاپا لے میانمار کے معروف کامیڈین ہیں۔
پاپا لے”اس وقت لوگوں کو بجلی اور تعلیم سمیت بہت سے مسائل کا سامنا ہے، لوگ اپنی ان مشکلات کو برداشت کرنے پر مجبور ہیں، اسی دکھ کو ہم فنکار تھنگیاٹ ذریعے باہر لارہے ہیں”۔
پاپا لے ایک گروپ مﺅ ستیچ برادرزسے تعلق رکھتے ہیں، یہ گروپ تھنگیاٹ کے بارے میں اپنے لطائف کیلئے شہرت رکھتا ہے۔
کامیڈین، مصنف اور شاعر وغیرہ تھنگیاٹ کے دروران اپنی صلاحیتوں کو جوہر دکھاتے ہیں، ان کے پیغامات اکثر سیاسی یا طنزیہ ہوتے ہیں۔
تھنگیاٹ کا رواج برمی بادشاہت کے دور میں پڑا تھا، جبکہ برطانوی سامراج اور فوجی آمر نی ون کی حکومت کے دور میں بھی یہ رائج رہی، سو نگیٹ ایک معروف برمی مصنف ہیں۔
سو نگیٹ” تھنگیاٹ ایک نغمگی بھرا نعرہ ہے جو اکثر طنزیہ یا تفریحی ہوتا ہے، اسے گزرے ہوئے برس کی غلطیاں اجاگر کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور اس سے نئے سال کیلئے سبق سیکھایا جاتا ہے، لیکن یہ کام تعمیراتی طریقے سے سرانجام دیا جاتا ہے۔ یہ منڈالے یا یانگون میں نہیں، بلکہ پورے ملک میں انتہائی مقبول ہے”۔
تاہم 1985ءمیں تھنگیاٹ پر پابندیاں لگنا شروع ہوئی، 1988ءکی فوجی بغاوت کے بعد تھنگیاٹ پر مکمل پابندی عائد کردی گئی، تاہم واٹر فیسٹول منایا جاتا رہا، جس کے بعد تھنگیات کا قدیم فن ملک سے غائب ہونا شروع ہوگیا۔اگرچہ یہ فن میانمار میں ختم ہوگیا تاہم جلاوطن برادری میں اس کا رواج برقرار رہا۔
گزشتہ برس ینگون میں تھنگیاٹ گروپس کے پرانے رہنماءواپس آئے،88 جینریشن اسٹوڈینٹس نامی گروپ نے اس سلسلے میں کئی تقاریب کا انعقاد کیا۔
من کو نینگ، 88 جینریشن اسٹوڈینٹس کے رہنماءہیں۔
من کو”میرا نہیں خیال کہ نئے سال کا میلہ تھنگیاٹ کے منایا جاسکتا ہے۔ تھنگیاٹ عوام کی حقیقی آواز پیش کرتا ہے، تو تھنگیاٹ کے بغیر لوگ گونگے بن جاتے ہیں، یہ کچھ ایسا ہی جیسے کسی کے ہاتھ یا پاﺅں کاٹ دیئے جائیں تھنگیاٹ کی واپسی تو ہوگئی ہے تاہم حکومت اس پر نظر رکھے ہوئے ہے۔