Celebrating Poetry as Spring Comes to Afghanistan – افغانستان میں موسم بہار کا جشن

سینکڑوں افغان شاعر جلال آباد میں اکھٹے ہوکر سالانہ شاعری میلے میں موسم بہار کی آمد پر خوشی منارہے ہیں، ان میں سے ایک ابھرتے ہوئے شاعر کے افغانستان کے مستقبل کے بارے میں ان کی توقعات کے بارے میں جانتے ہیںکی آج کی رپورٹ

اورینج بلوسم فیسٹیول شاعری کا سالانہ میلہ ہے، یہ افغانستان میں موسم بہار کے آغاز پر منایا جاتا ہے، جس میں معروف مقامی شاعر شرکت کرتے ہیں۔ شاعری زمانہ قدیم سے افغان کی ثقافتی روایت اور تعلیم کا اہم حصہ رہی ہے۔

اڑتیس سالہ ایزےةاللہ ذواب اپنی نئی نظم بی بریو پڑھ کر سنارہے ہیں، وہ جلال آباد سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی شاعری امن اور اتحاد کے گرد گھومتی ہے۔ انھوں نے اپنی نظمیں پشتو اور انگریزی زبان میں شائع کرائی ہیں۔

ذواب “میں بچپن سے ہی شاعری کا شوق رکھتا ہوں، اسکول میں جب میری عمر پندرہ سال تھی میں نے نظمیں لکھنا شروع کردی تھیں۔ میں زیادہ تر اتحاد اور امن پر نظمیں لکھی ہیں، کیونکہ افغانستان میں چالیس سال سے خانہ جنگی جاری ہے”۔

ایزےةاللہ ذواب کا شاعری میلے میں شرکت کا یہ دسواں موقع ہے۔

ذواب “اس بارے میں نے امن کے بارے میں لکھا ہے، حالیہ برسوں میں افغان حکومت اور عالمی برادری نے مخالف مسلح گروپس سے امن مذاکرات کی کافی کوششیں کیں تاکہ ملک میں امن قائم کیا جاسکے۔ میں امن پر اس لئے نظمیں لکھتا ہوں تاکہ لوگوں میں امن اور اتحاد کیلئے حوصلہ افزائی ہوسکے۔ ہم سب امن کی خواہش ہے، اور یہ ہر مصنف اور شاعر کی ذمہ داری ہے کہ وہ امن کے فروغ کیلئے کام کرے”۔

اس نظم کو پروموٹنگ یونٹ کا عنوان دیا گیا ہے، گزشتہ برس اسے ایک مقامی سول سوسائٹی گروپ کی جانب سے ایوارڈ بھی دیا گیا تھا، دو سال قبل ایزےةاللہ ذواب کو افغانستان نیشنل بزنس مین گروپ نے ان کی شاعری پر ایک ایوارڈ دیا تھا، اپنی شاعری کے ذریعے عزت اللہ لوگوں کے تناﺅ کو باہر نکالنا چاہتے ہیں۔

ایزےةاللہ ذواب”جب میں اسٹیج پر اپنی نظمیں سناتا ہوں تو لوگ کہتے ہیں انہیں مجھ پر فخر ہے، افغانستان کی بیشتر آبادی غیر تعلیم یافتہ ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے مسائل اور خواہشات کا تحریری طور پر اظہار نہیں کرسکتے، مگر ایک شاعر ایسا کرسکتا ہے اور لوگ اسے سراہتے بھی ہیں۔ یہاں کے لوگ شاعری کا احترام کرتے ہیں، میرے خیال میں ہر شاعر اور مصنف کو لوگوں کی مشکلات پر بات کرنی چاہئے”۔

بائیس سالہ حشمت سپے شاعر تو نہیں تاہم انہیں شاعری سے بہت زیادہ محبت ہے اسی لئے وہ اس میلے میں شرکت کرتے ہیں، انکا ماننا ہے کہ اس طرح کی تقاریب سے معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

حشمت”متعدد افغان اور پاکستانی پشتون شاعر اس میلے میں شرکت کرتے ہیں، ان میں سے بیشتر امن اور اتحاد پر لکھتے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ اس طرح کے شاعری میلے افغان عوام میں مضبوط اتحاد پیدا کرسکتے ہیں، یہ تقریب خطے کے عوام پر بھی اثر انداز ہوسکتی ہے”۔

صوبہ ننگرہار کے گورنر گل آغا شیرازی نے بھی ایک نظم پڑھ کر سنائی۔

شیرازی”یہ اتحاد کا وقت ہے، کوئی بھی نسل یا قبیلہ اس وقت تک امن قائم نہیں کرسکتا جب تک ہم متحد نہیں ہوجاتے۔ اگر ہم اپنے ملک میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے متحد ہونا ہوگا”۔