Animal rights activists force India to cancel elephant festival – بھارتی ہاتھیوں کا میلہ منسوخ

جانوروں کے حقوق کیلئے کام کرنے والے گروپ پیٹا کے دباﺅ کے باعث راجھستان حکومت نے اپنے مقبول ہاتھیوں کے میلہ منسوخ کردیا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

نسیم خان ایک مہاوت ہیں، جو سیاحوں کو اپنے ہاتھیوں پر سفر کراکے جے پور کے امبر قلعے تک لیکر جاتے ہیں، انکا خاندان اس وقت بے تابی سے ہاتھیوں کے سالانہ میلے کا انتظار کررہے تھے۔

نسیم”خاندان کے تمام خصوصاً بزرگوں کو رواں برس اس میلے کو منسوخ کرنے پر بہت صدمہ ہوا ہے، میں پندرہ سروز سے اپنے ہاتھیوں کو سجانے میں مصروف تھا مگر اچانک ہی یہ میلہ منسوخ کردیا گیا”۔

اس میلے کے دوران سجے سنورے ہاتھیوں کی پریڈ ہوتی ہے جبکہ ہاتھیوں کی دو ٹیموں کے دوران پولو بھی کھیلی جاتی ہے۔ تاہم جانورں کے حقوق کیلئے کام کرنے والے رضاکاروں کے دباﺅ کے بعد محکمہ سیاحت نے اس میلے کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اپندر سنگھ شیکھاوت، محکمہ سیاحت کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہیں۔

اپیندر”ان گروپس نے مختلف عہدیداران کو دو سو کے لگ بھگ ای میلز کرکے میلے کی منسوخی کا مطالبہ کیا تھا، انکا کا الزام تھا کہ اس میلے میں ایسی سرگرمیاں ہوتی ہیں جو جانوروں کیلئے ظالمانہ ہے۔ اس مطالبے کے بعد ہم نے قوانین کا جائزہ لینے کے بعد میلے کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا”۔

سماجی گروپ پیٹا کا اصرار ہے کہ ان ہاتھیوں کو اپنے قدرتی ماحول میں رکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ انسانی قید کے باعث وہ مختلف طبی مسائل کا شکار ہوکر مرجاتے ہیں۔

تاہم ہاتھیوں کو سنبھالنے والے جیسے نسیم خان اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔
نسیم”میں اپنے ہاتھی کی بہت زیادہ نگہداشت کرتا ہوں، میں اسے کبھی نہیں مارتا اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی ظالمانہ فعل کیا جاتا ہے۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ جے پور کے کسی بھی ہاتھی پر ایک زخم یا خراش بھی نہیں ڈھونڈ سکیں گے۔ اگر میرے ہاتھی کبھی زخمی ہوجائے تو میرے گھر میں اس روز کوئی بھی کھانا نہیں کھاتا”۔
تربیت یافتہ جانوروں کے مظاہروں پر بھارت میں پابندی عائد ہے، اور ہاتھیوں کے مہاوت کو اب اس کام کیلئے حکومتی

اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔ مہاوتوں کا کہنا ہے کہ انہیں غیرمنصفانہ طور پر ہدف بنایا جارہا ہے۔ شیان گپتا، راجھستان میں ایلی فینٹ اونرز ایسوسی ایشن کے نائب صدر ہیں۔

شیام”اگر یہ تمام جانوروں کے حقوق کی بات کرتے ہیں تو پھر کیوں تمام شادیوں میں جانور جیسے گھوڑیوں اور اونٹوں وغیرہ کا عام استعمال کیا جاتا ہے، یہ قانون غیر جانبدار اور سب کیلئے یکساں ہونا چاہئے”۔

ایشیائی ہاتھیوں کی نسل خاتمے کے قریب پہنچ چکی ہے، تاہم ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ ہاتھیوں کے میلے کوئی بڑا خطرہ نہیں۔ ڈاکٹر آرونڈ ماتھرجے پور چڑیا گھر کے عہدیدار ہیں۔

مارتھر”دانتوں کے حصول کیلئے ہاتھیوں کا شکار ہمارے ملک کے کئی حصوں میں موجود سنگین خطرہ ہے، چونکہ صرف نر ہاتھی کے دانت ہوتے ہیں، اس لئے وہی شکاریوں کے شکار بن جاتے ہیں، اگر اس سلسلے میں سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئی تو بہت جلد ہاتھیوں کا خاتمہ ہوجائے گا”۔

نصیر الدین خان ایک مہاوت ہیں، وہ بارہ سال کی عمر سے ہاتھیوں کی تربیت کا کام کررہے ہیں، وہ ہاتھیوں کے شکار کے طریقہ کار کے بارے میں بتارہے ہیں۔

نصیرالدین”شکاری فائر کرکے جانور کو مدہوش کردیتے ہیں، یہ گولیاں مقامی مارکیٹ میں آسانی سے پچاس ڈالر میں خریدی جاسکتی ہیں۔ جب ہاتھی بے ہوش ہوجاتے ہیں تو ان کے دانت نکال لئے جاتے ہیں، اس کے بعد اکثر جانور زخموں کے انفیکشن کے باعث مرجاتے ہیں”۔

متعدد ہاتھیوں کو بجلی کا جھٹکا یا کاشتکاروں کی جانب سے اپنی فصلوں کو بچانے کے لئے زہر دیکر مار دیا جاتا ہے۔ رشید خان راجھستان میں ایلی فینٹ اونر ایسو سی ایشن کے صدر ہیں، انکا کہنا ہے کہ انسانوں اور ہاتھیوں کے درمیان تعلق کو بہتر بنانے کیلئے کافی اقدامات کئے جانے کی ضرورت ہے۔

رشید”درحقیقت اس کی وجہ انسانی آبادی میں تیزی سے توسیع ہے، جیسے جیسے جنگلات روز بروز ختم ہوجارہے ہیں، اس سے ہاتھیوں کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے وہ انسانی آبادیوں پر حملہ کردیتے ہیں”۔