The Sikh Festival that Crosses Borders سکھوں کا میلہ

 Pakistan Baisakhi festival

پاکستان میں بیساکھی کا میلہ

سکھ برادری اپنے نئے سال کے آغاز پر تین روزہ بیساکھی میلہ مناتی ہے، جس دوران ہزاروں سیکھ یاتری بھارت سے پاکستان آتے ہیں

اٹھائیس سالہ Turanjeet Kaur ان ہزاروں سیکھ یاتروں میں سے ایک ہیں جو بیساکھی کے میلے کے دوران اپنے مقدس مقامات کی زیارت کیلئے پاکستان کا دورہ کررہی ہیں۔ وہ اس دورے کے دوران اپنے بیٹے کیلئے خصوصی دعائیں کریں گی۔

 (female) Turanjeet Kaur “میں یہاں آکر بہت خوش ہوں، میرے تین بیٹوں کو thalassemia جیسا خون کا مہلک مرض لاحق ہے، جبکہ اس سے پہلے بھی میرے دو بیٹے اس مرض کے باعث مرچکے ہیں۔ میں اپنے بیٹے کے ساتھ یہاں آنا چاہتی تھی اور اب ہم یہاں آگئے ہیں۔ میں یہاں مقدس پانی سے غسل کروں گی، یہ وہ خواہش ہے جو یہاں آنیوالا ہر یاتری کرتا ہے”۔

پچیس ہزار سے زائد سکھ یاتری Gurdwara Panja Sahib میں موجود ہیں، جن میں سے تین ہزار سے زائد بھارت سے آئے ہیں۔ گوردوارہ کے اندر ایک شخص سکھوں کی مقدس کتاب پڑھ کر سنا رہا ہے، اس کے علاوہ یہ یاتری اپنے مذہبی رہنماءگرو نانک کے پنجے کے نشان کی بھی زیارت کررہے ہیں، جس کے بعد وہ یہاں بہنے والے چشمے میں غسل کرتے ہیں، کیونکہ انکا ماننا ہے کہ اس سے تمام گناہ دھل جاتے ہیں۔اس دو منزلہ گوردوارے میں یاتریوں کو مفت رہائش فراہم کی جاتی ہے، جبکہ وہ مقامی ہوٹلوں میں بھی قیام کرسکتے ہیں۔

63 سالہ کلیان سنگھ آفریدی اپنے گھر میں یاتریوں کو انتہائی گرمجوشی سے خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔

کلیان سنگھ(male) “میں کرائے کے گھر میں رہتا ہوں، جس میں بیساکھی میلے کے دوران پاکستان کے قبائلی علاقوں سے آنیوالے پچاس سے ساٹھ سکھ رہتے ہیں۔ ہمارے گھر میں برطانیہ، سنگاپور، ملائیشیائ، امریکہ اور بھارت سے آنیوالے افراد بھی رہتے ہیں۔ ہم بیرون ممالک سے مہمانوں کی آمد پر بہت خوش ہوتے ہیں”۔

گوردوارے کی عمارت میں نوجوان لڑکے اکھٹے بیٹھے اپنے مذہبی گیت موبائل فونز پر سن رہے ہیں۔ گوادرے کے باہر دو بینرز کے ذریعے خواتین سے اسکارف لاوڑھنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سکھوں کا ماننا ہے کہ مقدس مقامات کے احترام کیلئے سر کو ڈھانپنا ضروری ہے۔

سکھ یاتری سال میں دو بار اس گوردوارے کا دورہ کرتے ہیں، پہلا اپریل میں بیساکھی کے میلے کے دوران اور دوسری بار نومبر میں اپنے مذہب کے بانی گرو نانک کے یوم پیدائش پر۔ اس سال گوادرے میں یاتریوں کی رہائش کیلئے نئے کمرے تعمیر کئے گئے ہیں، جبکہ یہاں سیکیورٹی کو بھی بہت سخت کردیا گیا ہے۔ پنجاب حکومت نے اس علاقے میں سیکھ یاتریوں کے تحفظ کیلئے سینکڑوں پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا ہے، جن کی جانب سے بھارتی سکھوں کو گوادرے کی عمارت سے باہر جانے کی اجازت نہیں۔Sun Singh گوادرہ پنجہ صاحت کی انتطامی کمیٹی کے رکن ہیں، یہ کمیٹی یہاں سیکیورٹی اور تعمیر و مرمت کی ذمہ داری سنبھالتی ہے

 (male) Sun Singh “ہم اپنے بھارتی اور دیگر ممالک سے آنیوالے مہمانوں کو ایک اچھا پیغام دینا چاہتے ہیں، جو محبت، امن اور خوشی کا پیغا م ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے ملک کا اچھا چہرہ دیکھیں اور اپنے ساتھ امن اور محبت کا پیغام دنیا میں لیکر جائیں۔ یہاں کی سیکیورٹی بہترین ہے جس کیلئے ہم انتطامیہ کے شکرگزار ہیں”۔

یہ دوسری بار ہے کہ سولہ سالہ Arien Kaur بیساکھی میلے میں شرکت کیلئے بھارت سے پاکستان آئی ہیں۔

 (female) Arien Kaur “جہاں ہم مقیم ہیں وہ جگہ بہت اچھی ہے اور ہمیں بہت اچھے کمرے دیئے گئے ہیں،آخری بار جب ہم یہاں آئے تھے تو ہمیں مناسب مقدار میں خوراک نہیں دی گئی تھی، مگر اس بار صورتحال اچھی ہے۔ ہمیں یہاں اپنے لئے درکار تمام سہولیات میسر ہیں،ہم پاکستان کا احترام کرتے ہیں اور میں ان تمام چیزوں کیلئے پاکستان کا شکریہ ادا کرتی ہوں”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *