برما کی دو فیصد سے زائد آباد معذور ہے جن کیلئے زندگی آسان نہیں۔ ایسے افراد کیلئے پورے ملک میں صرف چھ حکومتی اسکولز ہیں، جبکہ دیگر نجی یا این جی اوز کے تحت چل رہے ہیں، جبکہ ان کیلئے ملازمتیں تلاش کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔تاہم اب ایک شخص نے بہرے افراد کی محرومیوں کو دور کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔
رنگون کے میری چیپ مین اسکول میں ساڑھے تین سو طالبعلم زیرتعلیم ہیں۔ 1920ءمیں برطانوی خاتون میری چیپ مین کا تعمیر کردہ یہ اسکول برما میں بہرے افراد کیلئے موجود دواسکولوں میں سے ایک ہے۔اسکول کی ایک استاد اظہار خیال کررہی ہیں۔
ٹیچر” چونکہ یہ اسکول برما میں ہے، اس لئے یہاں لوگوں کو برمی زبان کے اشارے سیکھائے جاتے ہیں، تاہم اس کے ساتھ ساتھ طالبعلموں کو بین الاقوامی اشارے بھی سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے”۔
یہ طالبعلم اپنے ہاتھوں کے ذریعے اشاراتی زبان رابطے کیلئے استعمال کرتے ہیں، اگرچہ انہیں اچھی تعلیم دی جارہی ہے مگر ان کا مستقبل غیریقینی صورتحال کا شکار ہے۔ برما میں کسی بھی معذوری کے 15 فیصد افراد کو ہی روزگار دستیاب ہے۔
ٹیچر” یہ لوگ میٹرک کے امتحانات میں کامیابی کے باوجود زیادہ خوش نہیں ہوتے، کیونکہ دیگر افراد کے خیال میں ان طالبعلموں کی عملی زندگی میں کوئی اہمیت نہیں
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق بارہ لاکھ برمی شہری کسی معذوری کا شکار ہیں، تاہم حقیقی اعدادوشمار اس سے زائد ہی ہوں گے۔ ان افراد کے ساتھ انتہائی امتیازی سلوک ہوتا ہے اور وہ اکثر مظالم کا شکار بنتے ہیں۔ مارگریڈ کیا میا، میری چیپ مین اسکول کی سربراہ ہیں۔
ماگریڈ” یہاں ایسے متعدد طالبعلم موجود ہیں جو دیگر عام بچوں کے مقابلے میں زیادہ ذہین ہیں۔ تاہم انہیں بس بولنے میں مشکل کا سامنا ہوتا ہے کیونکہ وہ حس سماعت سے محروم ہیں۔ میری خواہش ہے کہ ان طالبعلموں کیساتھ دیگر افراد جیسا مساوی سلوک کیا جائے”۔
اسکول میں ان بچوں کو تیکنیکی تربیت جیسے سلائی کڑھائی اور کھانا پکانا وغیرہ بھی سیکھایا جاتا ہے، مگر بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو ان طالبعلموں کی رسائی سے دور ہیں، جیسے وہ خبریں سننے سے محروم رہتے ہیں کیونکہ وہ سن نہیں سکتے، تاہم اب پہلی بار بہرے افراد کیلئے ایک ادارے نے خبرنامہ شروع کیا ہے، جس میں اشاراتی زبان والے اینکرز خبریں پڑھتے ہیں۔
ٹیچر” ٹی وی پر یہ اشاراتی خبریں پڑھنے والے بہروں کی اس زبان سے بخوبی واقف ہے، ہمارے طالبعلم چونکہ ابھی زیادہ الفاظ سمجھ نہیں پاتے اس لئے وہ ٹی وی پر اشاراتی خبرنانہ دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں، اور وہ اسے بہت دلچسپی سے دیکھتے ہیں”۔
اس خبرنامے کو بو بو کیانگ ٹی وی پر پیش کرتے ہیں، وہ پندرہ سال کی عمر میں ایک حادثے کے باعث حس سماعت سے محروم ہوگئے تھے، تاہم چونکہ ان کے والدین پہلے ہی بہرے تھے اس لئے وہ بچپن سے ہی اشاراتی زبان سے واقف تھے۔تاہم برما میں اشاراتی زبان کیلئے کوئی معیاری نصاب موجود نہیں، ماضی میں لوگوں نے اس حوالے سے کتابیں شائع کرنے کی کوشش کیں مگر حکومت نے ایسا کرنے نہیں دیا۔
بوبو کیانگ” برمی اشاراتی زبان حکومتی مداخلت کے باعث تاحال مکمل نہیں ہوسکی ہے۔ حکومت مخصوص الفاظ اشاراتی زبان میں شامل کرنے کی اجازت نہیں دیتی، وہ اپنی پسند کے الفاظ ہی اس میں شامل کرنے دیتی ہے”۔
چونکہ ابھی تک برمی اشاراتی زبان عام نہیں، اس لئے بہرے طالبعلموں کو ایک دوسرے سے رابطے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔
بوبو کیانگ” ابھی تک اس اشاراتی زبان میں بس چند ہی برمی اشارے موجود ہیں، جبکہ دیگر امریکی، آسٹریلین اور تھائی اشارے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب یہ بچے اسکول سے فارغ ہوتے ہیں تو انہیں باہر کی دنیا میں دیگر افراد سے رابطے میں مشکل کا سامنا ہوتا ہے”۔
ایڈن رنگون میں جسمانی اور ذہنی طور پر معذور بچوں کیلئے پہلا نجی ڈے کئیر سینٹر ہے، یہاں نہ صرف دیکھ بھال اور علاج کیا جاتا ہے بلکہ بچوں کو سیکھایا جاتا ہے کہ کس طرح وہ اپنی معذوری پر قابو پائیں۔ہیر اوٹ اس مرکز کے بانی ہیں۔
ہیر اوٹ “ ہم بس اپنی تعلیم اور تجربے کو ان معذور بچوں کے کیساتھ شیئر کرنا چاہتے ہیں”۔
وہ عام افراد میں معذوروں کے حوالے سے روئیے میں تبدیلی کیلئے بھی مہم چلا رہے ہیں، تاہم یہ ایک مشکل کام ہے۔
ہیر اوٹ “ معذور افراد کے حوالے سے عام لوگوں کا رویہ انتہائی منفی ہے، جب لوگ کسی معذور سے ملتے یا دیکھتے ہیں تو ان کے جذبات منفی ہوتے ہیں، اس چیز نے ہمارے کام کو مشکل بنادیا ہے”۔
برما میں جاری اصلاحاتی عمل کے باوجود تاحال معذور افراد کی بحالی نو کیلئے کافی کام کئے جانے ضرورت ہے۔