اس وقت ملائیشیاءمیں دس لاکھ کے قریب نیپالی شہری کام کررہے ہیں، یہ لوگ پیداواری اور تعمیراتی شعبوں میں ملازمتیں کررہے ہیں اور ان میں سے متعدد واپس جانے کیلئے تیار نہیں۔تاہم ملائیشیاءمیں مختلف حادثات میں نیپالی ورکرز کی ہلاکتیں بھی عام ہیں۔
23 سالہ منو سنگ شرپا تین سال قبل کھٹمنڈو سے کوالالمپور پہنچے تھے، یہاں آنے کا مقصد اپنے قرضوں کی ادائیگی اور گاﺅں میں گھر کی تعمیر تھا، تاہم دو ماہ قبل ان کے تمام خواب چکناچور ہوگئے۔ ایک اسٹیل کی بھاری شیٹ ان کے ہاتھ پر گر گئی تھی۔
منو سنگ شرپا” میں یہاں پیسے کمانے کیلئے آیا تھا مگر اب میری تمام انگلیاں ضائع ہوچکی ہیں اور میں کوئی کام نہیں کرسکتا، میں نے اپنی کمپنی سے زرتلافی کا مطالبہ کیا تھا تاہم انکا کہنا تھا کہ چونکہ میرا انشورنس نہیں تھا اس لئے مجھے کچھ نہیں ملے گا”۔
اب ان کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں کہ گھر واپس جاسکیں۔ 90ءکی دہائی کے بعد سے منو سنگ شرپا جیسے ہزاروں نیپالی شہری ملازمتوں کیلئے ملائیشیاءآچکے ہیں۔ان میں سے بیشتر افراد بارہ بارہ گھنٹے تک کم معاوضے پر غیرمحفوظ ماحول میں کام کرتے ہیں، اور اگر ان میں سے کوئی مرجائے یا زخمی ہوجائے تو اس کے ساتھ سلوک بھی اچھا نہیں ہوتا۔
ملائیشیاءمیں کام کے دوران مرجانے والے یا زخمی ہونے والے ورکرز کیلئے 1952ءسے ورک مین کمپنسیشن ایکٹ نافذ ہے، ایس ،سوما سُندرم ملائیشین ٹریڈ یونین کانگریس کے عہدیدار ہیں۔
ایس ،سوما سُندرم” اس قانون پر فوری طور پر نظرثانی کی ضرورت ہے، آخر کوئی ایک انسانی زندگی کی قیمت صرف پچیس ہزار روپے کیسے مقرر کرسکتا ہے؟ میرے خیال میں تو یہ رقم انتہائی کم ہے”۔
ایس ،سوما سُندرم چاہتے ہیں کہ غیرملکی ورکرز کے ساتھ بھی ملائیشین ورکرز جیسا رویہ اختیار کیا جائے۔
ایس ،سوما سُندرم “ ہم چاہتے ہیں کہ غیرملکی ورکرز کو بھی سوشل سیکیورٹی کے تحت مراعات دی جائیں”۔
تاہم ملائیشیاءکے انسانی وسائل کے وزیر ڈاکٹر ایس سُبراما نِیام کا کہنا ہے کہ حکومت کا زرتلافی میں اضافے کا کوئی ارادہ نہیں، انکا مزید کہنا تھا کہ جو لوگ اس رقم کو ناکافی سمجھتے ہیں وہ اس معاملے کو مناسب سطح پر اٹھائیں۔ اس بارے میں منو سنگ شرپا اظہار خیال کررہے ہیں۔
منو سنگ شرپا” جب میری انگلیاں کٹی تو کوئی میری مدد کیلئے آگے نہیں آیا۔ میں نے نیپالی سفارتخانے میں شکایت درج کرائی مگر انھوں نے اسے سنجیدہ نہیں لیا۔جب میں نے اپنی انشورنس کی رقم اور زرتلافی کا دعویٰ دائر کیا تو میری کمپنی نے اسے نظرانداز کردیا۔ میرے دوستوں کا کہنا تھا کہ مجھے پندرہ سو ڈالرز مل سکتے ہیں مگر میرے باس نے کہا کہ مجھے صرف ڈھائی سو ڈالرز دیئے جاسکتے ہیں”۔
اس رقم کو دینے کے بعد کمپنی نے مینو سنگ شرپا کو واپس نیپال جانے کا کہا، بیڈ کُمار کھاتی واڈا ملائیشیاءمیں موجود نیپالی ورکرز کیلئے کام کرنے والی ٹریڈ یونین کے کوآرڈنیٹر ہیں۔
بیڈ کُمار کھاتی واڈا “ ہم اس بات کو سمجھ نہیں پاتے کہ آخر وہ ورکرز پر ظلم کرکے انہیں واپس نیپال ڈی پورٹ کیوں کردیتے ہیں، اگر انشورنس کی رقم ملتی ہے تو بس اسے ورکر کو ادا کرکے اس کی مدد کریں اور بس”۔
تاہم حکومت اس بارے میں پریشان نہیں، ملائیشین انسانی وسائل کے وزیر ڈاکٹر سبرامانیم کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے اعدادوشمار گمراہ کن ہیں، انکا کہنا ہے کہ ملائیشیاءمیں صنعتی حادثوں کی شرح خطے میں سب سے کم ہیں۔ تاہم منو سنگ شرپا جیسی کہانیاں یہاں عام ہیں، خود نیپالی حکومت کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال ملائیشیاءمیں سو سے زائد نیپالی ورکرز مختلف حادثات میں ہلاک ہوئے۔
منو سنگ شرپا” جب میں واپس نیپال جاﺅں گا، تو میں وہاں اپنے ملائیشیاءجانے کے خواہشمند
دوستوں کو کہو گا کہ وہ وہاں انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کریں، ورنہ انکا حشر بھی میرے جیسا ہوسکتا ہے”۔