Afghanistan’s ‘flowering’ media could disappear upon transition-افغان میڈیا

افغانستان میں میڈیا کو اب ماضی کے مقابلے میں زیادہ آزادی حاصل ہے، مگر کیا اب وہاں پریس کا آزادی حاصل ہوگئی ہے؟ اسی بارے میں پاکستانی صحافی احمد رشید کا انٹرویو سنتے ہیں

احمد رشید” میڈیا افغانستان میں جمہوری اداروں اور تعلیم کی ترقی کیلئے اہم کردار ادا کررہا ہے، آزاد میڈیا کا تصور ہی تعلیم کی ترقی پر مبنی ہے، اس کے لئے وہ نوجوانوں اور بچوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ اخبار پڑھیں اور ٹی وی دیکھ خبروں کو سمجھیں، کئی دہائیوں کی خانہ جنگی کے بعد اب ٹی وی تفریح کا نمبرون ذریعہ بن چکا ہے۔تاہم مستقبل پر غیریقینی کی صورتحال موجود ہے اور ہمیں نہیں معلوم کہ افغانستان میں کس قسم کی حکومت چل رہی ہے، کیا وہ سنسر کرنا چاہتی ہے؟ کیا طالبان اقتدار میں واپس آرہے ہیں یا انہیں بھی حکومت میں حصہ ملنے والا ہے، یا کچھ اور ہونے والا ہے؟ اور ہوسکتا ہے کہ طالبان اس چیز کو غیراسلامی قرار دیکر اس کی اجازت دینے سے انکار کردیں؟ تو ان سب سوالات نے افغان ٹی وی چینیلز، اخبارات اور جریدوں کو گھیرے میں لیا ہوا ہے”۔

سوال”افغانستان بھر میں پریس کو کس حد تک اظہار رائے کی آزادی حاصل ہے، جبکہ اس ملک میں جگہ جگہ جاگیرداروں کو غلبہ حاصل ہے؟ کیا صحافیوں کو اپنی مرضی سے کام کرنے کی اجازت ہے؟

احمد رشید” متعدد علاقوں میں یہ بات بالکل ٹھیک ہے، یہاں بہت طاقتور جنگجو سردار موجود ہیں جو صحافیوں کو اپنی پسند کی رپورٹنگ پر مجبور کرتے ہیں، جبکہ ان علاقوں میں اجنبی یا ان کی مرضی کے بغیر صحافی کوئی خبر چھاپ نہیں سکتے۔ متعدد جنگجو سرداروں کے اپنے ٹی وی چینیلز ہیں، بظاہر یہ ترقی محسوس ہوتی ہے مگر اس سے آزادی صحافت متاثر ہورہی ہے، اور اگر 2014ءکے بعد حکومت گرگئی تو ہم دیکھیں گے کہ یہاں جنگجوسرداروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کی تعداد بہت کم رہ جائے گی”۔

سوال”ایک دہائی پیچھے جائیں، جب طالبان کو حکومت سے ہٹایا گیا تھا، مجھے یاد ہے کہ ہرات کے دورے کے دوران میں نے لوگوں کو نوٹس بورڈز کے ارگرد جمع دیکھا،ان میں سے بہت سے لوگوں کے برسوں بعد نوٹس بورڈ پر تصاویر اور مضامین کو دیکھا۔ کیا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ لوگ طالبان کے جانے کے بعد کی صورتحال کو خبروں کے ذریعے جاننا چاہتے تھے؟

احمد رشید” جی ہاں بالکل، طالبان کے دور اقتدار کے دوران افغانستان میں خبروں پر مکمل بلیک آﺅٹ رہا، ٹی وی پر تو پابندی تھی ہی اس کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں صرف ایک ریڈیو کام کررہا تھا جو کہ طالبان کا اپنا چینیل تھا۔ یہاں پریس
کا نام و نشان نہیں تھا، تصاویر کی اشاعت پر پابندی تھی، اسی طرح قرآن مجید یا کسی اور مذہب کی تعلیمات کی وضاحت کی اشاعت پر بھی پابندی عائد تھی”۔

سوال”تو اگر طالبان دوبارہ اقتدار میں آئے تو آپ کا کیا خیال ہے، کیا وہ دوبارہ میڈیا کو اسی طرح دبانے کی کوشش کریں گے؟

احمد رشید” نہیں مجھے نہیں لگتا کہ اب ایسا ہوگا، میرے خیال میں میڈیا اب کافی طاقتور ہوچکا ہے اور طالبان خود بھی میڈیا کو استعمال کررہے ہیں یہاں تک کہ کابل کا میڈیا بھی طالبان کے مقاصد کا پروپگینڈا کررہا ہے۔ تو میرے خیال میں طالبان اس بات کو سمجھ کر اقدامات کریں گے، تاہم یہ بھی ہے کہ وہ کچھ نہ کچھ پابندیاں تو عائد کریں گے۔ مثال کے طور پر وہ ان ڈراموں پر پابندی لگاسکتے ہیں جو افغان شہریوں کو بہت پسند ہیں۔ افغان سوپ اوپراز سمیت ترک، پاکستانی اور بھارت ڈرامے لوگوں میں بہت مقبول ہیں، جبکہ طالبان ان کی مخالفت کرتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ طالبان اقتدار میں آئے تو سوپ اوپراز بہت بڑی جنگ ہوگی”۔

سوال”ایسا تو جب ہی ہوگا جب اتحادی افواج کا انخلاءہوجائے گا، ان کے جانے کے بعد مغربی صحافیوں کی بڑی اکثریت بھی یہاں سے چلی جائے گی، کیا اس وقت افغانستان عالمی میڈیا کی شہہ سرخیوں سے غائب ہوجائے گا؟

احمد رشید” میرے خیال یہ ایک بڑا خدشہ ہے، ایسا 1989ءمیں بھی سوویت یونین کے انخلاءکے بعد بھی ہوا تھا، میرا مطلب ہے کہ اس وقت عملی طور پر کوئی بھی افغانستان کے اندر سیاسی عمل آگے بڑھانے کے لئے سنجیدہ نہیں تھا، یہ بہت بڑا خدشہ ہے، میرے خیال یہ بہت ضروری ہے کہ عالمی میڈیا یہاں کی صورتحال پر نظر رکھے، کیونکہ یہ خطہ عدم استحکام کا شکار ہے”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *