ایک چودہ سالہ پاکستانی بچے نے اپنے اسکول کو خودکش حملہ آور سے بچاکر بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا، جس پر اسے ملک کا ہیرو قرار دیا گیا ہے، ہنگو کے اسی بہادر طالبعلم کے بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے پاکستانی آرمی چیف کی جانب سے پھولوں کی چادر بھجوائی جارہی ہے، اس موقع پر پاک فوج کی جانب سے اعتزاز حسن بنگش کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا، جبکہ سینکڑوں عام شہری بھی اس چودہ سالہ بچے کو خراج عقیدت پیش کررہے ہیں۔
اس ہجوم میں اعتزاز کے والد مجاہد علی بھی شامل ہیں، وہ اس وقت دبئی میں تھے جب انھوں نے اس واقعے کی خبر سنی۔
مجاہد علی”میں نے اعتزاز کو فون کرنے کی کوشش کی، مگر اس کا فون بند تھا، آخرکار میں نے اپنے بھائی کو کال کی جس نے مجھے میرے بیٹے کی شہادت کی خبر سنائی، میں نے اسکی قربانی پر اللہ کا شکر ادا کیا، میں بہت خوش ہوں، صرف میں ہی نہیں بلکہ میرا پورا بنگش قبیلہ فخر محسوس کررہا ہے”۔
اسکول کے بچوں کی زندگیاں بچاکر اعتزاز کو پاکستان بھر میں ہیرو کا درجہ مل گیا ہے، اعتزاز اس وقت اسکول جارہا تھا جب اس نے اسکول یونیفارم میں ملبوس خودکش حملہ آور کو دیکھا، بیس سالہ قیصر حسین بھی اس وقت اعتزاز کے ہمراہ تھا۔
قیصر”ہم نے حملہ آور سے پوچھا کہ وہ کہاں جارہا ہے، اس نے کہا کہ وہ اسکول میں داخلے کیلئے آیا ہے، ہمیںاس پر شک ہونے لگا، میں نے اعتزاز سے کہا کہ اس نے خودکش جیکٹ پہن رکھی ہے، اعتزاز نے ہمیں دور بھاگنے کو کہا اور بمبار کو روکنے لگا، اس حملہ آور نے اس وقت خود کو اڑالیا ،جب اعتزاز نے اسے دھکا دیکر میدان میں گرا دیا”۔
اعتزاز کی تصویر اسکول میں اس کی نشست پر رکھ دی گئی ہے، اعتزاز کے بڑے بھائی مجتبیٰ حسن کا کہنا ہے کہ عوامی ردعمل سے انہیں اپنے دکھ پر قابو پانے میں مدد ملی۔
مجتبیٰ”ہم گھر کے اندر اس کی موت پر ماتم کررہے تھے، جب ہم باہر آئے اور عوام کا ردعمل دیکھا تو ہمیں کافی خوشی ہوئی”۔
اس خاندان کو خیبرپختونخواہ حکومت نے پچاس لاکھ روپے کی امداد دی ہے، جبکہ اس اسکول کا نام بھی اعتزاز کے نام پر رکھ دیا گیا ہے۔