How to Stop the Opium Poppy Farming in Burma?برما میں افیون کی کاشت

افغانستان کے بعد دنیا میں افیون پیدا کرنیوالا دوسرا بڑا ملک برما ہے، حکومتی کوششوں کے باوجود اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس برما میں افیون کی کاشت کے رقبے میں تیرہ فیصد اضافہ ہوا ہے، ایسے بیشتر خطے حکومت کے خلاف برسرپیکار باغی گروپس کے قبضے میں ہیں، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

کایا اسٹیٹ برما میں افیون کی کاشت کے حوالے سے سرفہرست علاقوں میں شامل ہے، یہاں حکومت اور کیرن باغیوں کے درمیان طویل عرصے سے خانہ جنگی بھی جاری ہے۔ ہیسٹن، کرینی پیپلز لیبریشن کے ترجمان ہیں۔

ہسٹن”سیاست، خانہ جنگی کی بنیادی وجہ ہے، اور دوسرا اہم امر حکومت کی جانب سے امن کیلئے توجہ نہ دینا ہے”۔

حال ہی میں برمی حکومت نے افیون کی کاشت کے خاتمے کی ڈیڈلائن دو ہزار انیس تک بڑھا دی،کیاﺅ ہٹن اونگ،یونین آف کرینی اسٹیٹ یوتھ سے تعلق رکھتے ہیں۔

کیاﺅ ہٹن اونگ”اس ڈیڈلائن میں اضافے کو کاشتکار افیون کی کاشت میں اضافے کا لائسنس سمجھ رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان علاقوں میں افیون کی پیداوار بڑھ گئی ہے اور ہم اسے کنٹرول نہیں کرپارہے”۔

افیون کی کاشت اس خطے کیلئے موزوں ہے، کیونکہ اس کیلئے بہت کم پانی کی ضرورت ہوتی ہے اور فصل بہت کم وقت میں تیار بھی ہوجاتی ہے، مگر قبائلی رہنماﺅں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی برادری کو افیون کی فارمنگ سے دور لے جانا چاہتے ہیں، جس کیلئے انہیں حکومتی تعاون کی ضرورت ہے۔کرنل اونگ من کا تعلق کایان نیو لینڈ آرمی سے ہے۔

اونگ من “اگر قوانین کا اطلاق کریں اور موثر ترقیاتی منصوبوں پر کام کریں، تو ہمارا ادارہ عوام میں شعور اجاگر کرے گا اور انکے اندر طرز زندگی میں تبدیلی کیلئے حوصلہ افزائی کرے گا”۔

سین اوو،برما کی وزارت تعلیم و قبائل کے ترجمان ہیں۔

سین اوو”ہم افیون کے کھیتوں کو ڈیڈلائن کے بعد فوری تباہ کردیں گے اور اسے اگانے والوں کیخلاف قانونی کارروائی کریں گے”۔